بلاگ کالمز

کچھ منتشر خیالات

آپ نے غور کیا ہوگا کہ کچھ گھر یا جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں اگر آپ اکیلے بھی موجود ہوں تو اکیلے پن یا وحشت کا احساس نہیں ہوتا، دوسری طرف کچھ گھر یا جگہیں ایسی بھی ہوتی ہیں جہاں درجنوں افراد کی موجودگی کے باوجود آپ کو اکیلے پن، خاموشی اور وحشت کا احساس ہوتا ہے۔میری والدہ نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ زمین دو طرح کی ہوتی ہے، ایک جاگی ہوئی زمین اور ایک سوئی ہوئی زمین۔ جاگی ہوئی زمین پر بنے مکان میں رونق کا احساس ہوتا ہے، چاہے آپ وہاں اکیلے ہی کیوں نہ موجود ہوں اور سوئی ہوئی زمین پر بنے گھروں میں بے رونقی سی محسوس ہوتی ہے، چاہے گھر میں کتنے ہی نفوس کیوں نہ ہوں۔  شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر بڑے بڑے محل بے رونق نظر آتے ہیں

جیسے کسی قبرستان پر تعمیر کئے گئے ہوں اور کبھی ایک چھوٹا سا گھر انتہائی بارونق۔کبھی آپ کے ساتھ ایسا بھی ہوتا ہوگا کہ بغیر وجہ کے آپ کا دل بوجھل ہوجائے، ڈپریشن جیسی کیفیت آپ کو گھیر لے، کسی کام میں دل نہ لگے اور آپ مسلسل یہ سوچتے رہیں کہ آخر اِس کیفیت کی وجہ کیا ہے؟ یوں کہہ لیں کہ ناصر کاظمی کے اِس مصرعہ کی سی کیفیت ہو،’’آج تو بے سبب اداس ہے جی‘‘اسی طرح کچھ دن ایسے بھی ہوتے ہیں کہ آپ بے وجہ خوشی محسوس کرتے ہیں، طبیعت میں زندہ دلی کا احساس ہوتا ہے اور آپ یہ غور کرتے رہتے ہیں کہ آج ایسا کیا ہے جو طبعیت بغیر وجہ کے ہشاش بشاش ہے اور دل مسرور ہے، بلکہ بسا اوقات تو آپ اِن دنوں کو یاد کرنے لگتے ہیں جب طبعیت بغیر وجہ کے بوجھل تھی۔

یہاں بھی ناصر کاظمی کے مصرعہ کی سی کیفیت ہی ہوتی ہے،’بہت دنوں سے طبیعت میری اداس نہیں‘میں نے اپنے ایک استاد سے اِس معمہ کی وجہ پوچھی کہ، بغیر وجہ کے کبھی اداس یا خوش کیوں ہوتے ہیں؟ تو استاد کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں کی تاثیر ہی ایسی ہوتی ہے کہ آپ پر بے وجہ اداسی کی سی کیفیت چھائی رہتی ہے۔ استاد کا کہنا تھا کہ، سائنس، طِب، ماہرین نفسیات کا یقینًا اِس بارے میں مختلف نظریہ ہوگا، لیکن عام مشاہدہ یہی ہے کہ جس دن آپ پر اُداسی کی یہ کیفیت طاری ہو، اِس روز آپ کو اپنے اطراف میں موجود لوگ بھی کم و بیش اسی کیفیت میں مبتلا نظر آئینگے۔ بس فرق یہ ہے کہ کوئی اِس کا ادراک کرے گا اور کوئی نہیں۔استاد نے کہا یہ وہی کیفیت ہوتی ہے، جسے کوئی فقیر جذب کا نام دیتا ہے،

کوئی شاعر آمد سے تعبیر کرتا ہے اور کوئی عابد راز و نیاز کیلئے موافق حالت تصور کرتا ہے، میں نے استاد کی بات کا عملی مشاہدہ کئی بار کیا اور اِس نتیجے پر پہنچا کہ استاد کی بات بہت بار درست ثابت ہوئی، لیکن یہ بھی مشاہدہ کیا کہ بہت بار یہ کیفیت صرف انفرادی تھی، آس پاس کے لوگ اِس سے لاتعلق تھے۔انسان جذبات کا مرکب ہے اور لگتا ہے کہ دنیا اِس پہلو کو سامنے رکھ کر ہی بنائی گئی ہے۔ جذبات کا تعلق جاندار چیزوں سے ہوتا ہے اور کبھی بے جان۔ گویا ہر شے ہی کچھ اثرات رکھتی ہے یہاں تک کہ وہ خواب بھی جو پورا پورا دن انسان کو اپنی گرفت میں لئے رہتے ہیں۔ ان دیکھی مانوس جگہوں کے خواب جو وہ ہر کچھ دن بعد دیکھتا ہو، بدلتے موسم، برستی بارشیں، گرتا ہوا کُہر، بہار کی ہوائیں اور تیز آندھی کے جھکڑ۔ یہ سب ہی اپنے اندر وہ قوت رکھتے ہیں

جو انسان پر اثر انداز ہوسکے۔شاید یہی وجہ ہے کہ خوشی کے مختلف علاقائی تہواروں کا تعلق بھی موسموں کے آنے جانے سے ہے، کبھی بسنت بہار اور کبھی بیساکھی، خزاں میں البتہ کسی تہوار کے بارے نہیں سنا، جب بھی سنا خزاں اور اُداسی کا ذکر ساتھ ساتھ سُنا۔ شاعروں نے شاعری میں بہار کو خوشی اور خزاں کو غم کا استعارہ بنایا۔ان آڑی ترچھی لکیروں کا عنوان اسی لئے منتشر خیالات رکھا کہ، کیونکہ مجھے خود نہیں معلوم کہ ان بے ربط جملوں کا مطلب کیا ہے، کہاں سے شروع ہوا اور کہاں پہنچ گیا، کچھ نہیں پتہ۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ یہ لکھتے ہوئے لفظوں کا تھوڑا بہت اثر ضرور محسوس ہوا۔ معلوم نہیں لفظ بے جان ہوتے یا جاندار۔ جو بھی ہے، اثر بہرحال رکھتے ہیں، سوئی جاگی زمین کی طرح، کسی مانوس خواب کی طرح، کسی اداس دن کی طرح یا کسی آتے یا جاتے موسم کی طرح۔