اسلام معلومات

وسواسی اجباری اضطراب (Obsessive-compulsive disorder)

Obsessive-compulsive-disorde

وسواسی اجباری اضطراب ایک نفسیاتی مرض ہے کہ جس میں انسانوں کی ایک بڑی تعداد زندگی کے کسی نے کسی حصے میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ ایک ریسرچ اسٹڈی کے مطابق سو میں سے ایک امریکی اس مرض میں مبتلا ہوتا ہے۔ اوبسیشن (obsession) سے مراد بار بار آنے والے وہ خیالات ہیں کہ جن کو آپ جھٹکنا بھی چاہیں تو جھٹک نہ پائیں، جان چھڑانا چاہیں لیکن وہ آپ کا پیچھا نہ چھوڑیں۔ ہم نے اوبسیشن کے لفظ کا ترجمہ وسوسہ سے کیا ہے کیونکہ وسوسہ بھی بار بار آتا ہے۔ اور کمپلشن (compulsion) سے مراد یہ ہے کہ وہ خیالات آپ پر اس قدر غالب ہوں کہ اپنے زیر اثر آپ کے رویے کو زبردستی تبدیل کر دیں۔ اور رویے کی یہ تبدیلی ڈِس آڈر (disorder) یعنی ذہنی اور اخلاقی بگاڑ کہلاتی ہے۔

مثال کے طور پر ایک شخص کے ذہن پر جراثیم یا گندگی یا آلودگی یا ناپاکی کے خیالات چھا جاتے ہیں کہ وہ ہر وقت ان کے بارے ہی سوچتا رہتا ہے تو یہ اوبسیشن ہے۔ لیکن جب یہ خیالات اس قدر غالب آ جائیں کہ اس کے رویے کو ہی تبدیل کر دیں مثلا وہ شخص گھنٹہ گھنٹہ واش میں ہاتھ دھوتا رہے اور پھر بھی وہ یہ سمجھے کہ اس کے جراثیم ختم نہیں ہوئے یا وہ صاف نہیں ہوا تو یہ کمپلشن ہے کہ اس کے خیالات کی کثرت اور ہجوم نے اسے ایک ایسا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا جو عقلی ومنطقی نہیں ہے۔ اسی طرح وہ شخص جسے اپنے وضو کے بارے بار بار وہم ہو جاتا ہو تو یہ اوبسیشن ہے اور اگر وہ بار بار وضو کرتا بھی ہو تو یہ کمپلشن ہے۔ اسی طرح اگر کسی کو اپنی نماز کی رکعات یا سجود وغیرہ کے بارے وہم ہو جاتا ہو تو یہ اوبسیشن ہے اور اس وہم کے نتیجے میں اگر وہ نماز دہراتا بھی ہو تو یہ کمپلشن ہے۔

اسی طرح اگر کسی کے ذہن پر خدا کے وجود کے بارے شکوک وشبہات غالب آ جائیں اور وہ ہر وقت انہی خیالات میں گم رہے تو یہ اوبسیشن ہے۔ اور جب وہ خدا کے ماننے والوں کو گالیاں دینے لگ جائے تو یہ کمپلشن ہے۔ اسی طرح حد سے زیادہ صفائی اور ستھرائی کی خواہش رکھنا کہ وہ ذہن پر اس طرح چھا جائے کہ ہر وقت ہر چیز صاف ستھری ہو، ترتیب میں ہو تو یہ اوبسیشن ہے۔ اور میں نے بچہ اس لیے نہیں لینا کہ اس کی پوٹی صاف کرنی پڑے گی یا گھر میں کوئی برتن اپنی جگہ سے دوسری جگہ پڑا رہ گیا تو قیامت آ جانا تو یہ کمپلشن ہے۔ زیادہ صفائی ستھرائی کے خیالات رکھنے والوں کو یہ بیماری عموما ہوتی ہے۔ اسے آپ وہم یا وسوسہ کی بیماری بھی کہہ سکتے ہیں اور ایک حد تک تو یہ سب کو ہوتی ہے لیکن حد سے بڑھ جائے تو بیماری ہے جیسا کہ رات سونے سے پہلے یہ خیال کہ دروازہ کھلا تو نہیں رہ گیا، سب کو آ سکتا ہے اور اس کے لیے دروازہ چیک کرنا بھی بیماری نہیں ہے۔ بیماری یہ ہے کہ آپ دروازہ چیک کر کے آئے اور واپسی میں یہ خیال آ گیا کہ دروازہ چیک کیا بھی ہے یا نہیں؟ یہ اوبسیشن ہے۔ اور آپ دروازہ چیک کرنے دوبارہ چل پڑے تو یہ کمپلشن ہے۔

ماہرین سائیکالوجی اس بیماری کا علاج دو طرح سے تجویز کرتے ہیں؛ میڈیکیشن یعنی اینٹی ڈیپریسنٹ دوائیوں سے اور سائیکو تھراپی یعنی سی۔بی۔ٹی (cognitive behavirol therapy) سے۔ میڈیکیشن کے تو میں ویسے ہی حق میں نہیں ہوں البتہ سی۔بی۔ٹی (CBT) ایک اچھی آپشن ہے کہ جس میں آپ اپنی بیماری کے لیول کے حساب سے 30 سے 60 منٹس کے 5 سے 20 کے قریب سیشن آپ کسی تھراپسٹ کے ساتھ کرتے ہیں کہ جس میں آپ اپنے خیالات، جذبات اور افعال کو کیٹیگرائز کر کے اپنے خیالات کے ساتھ جینا سیکھتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس نفسیاتی مرض کی اسلامک پرسپیکٹو میں تھراپی کیا ہو سکتی ہے تو مجھے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اوبسیشن دو وجوہات میں سے ایک وجہ سے ہوتی ہے؛ شبہہ یا خواہش (doubt or desire)۔ شبہات کی وجہ سے ذہنی مسئلہ بنتا ہے اور خواہش کی وجہ سے نفسانی مسئلہ۔ تو سب سے پہلے اپنے خیالات کو کیٹیگرائز کریں کہ وہ شبہہ ہے یا خواہش۔ اور کسی کیس میں یہ دونوں وجوہات ایک ساتھ بھی ہو سکتی ہیں۔

تو اگر تو خیالات کی وجہ شبہہ ہے تو اس کی وجہ اندرونی ہے یا خارجی (internal or external)، یہ غور کر لیں۔ مثلا کوئی شخص خدا کو گالیاں دیتا ہے، یہ ایک نفسیاتی مرض ہے۔ اس کی وجہ اوبسیشن ہے کہ خدا کے بارے اس کے حد سے بڑھے ہوئے خیالات۔ ان خیالات کی وجہ شکوک وشبہات ہیں۔ وہ شکوک وشبہات اگر تو شیطان کی طرف سے ہیں تو یہ خارجی وجہ ہے لہذا تعوذات اور قرآن مجید بہترین علاج ہے۔ لیکن اگر اندرونی وجہ ہے کہ اس نے کبھی خدا کے بارے منکرین خدا کا لٹریچر پڑھ لیا تھا اور وہ لٹریچر ان خیالات کی وجہ بنا۔ تو اب اس کا علاج یہ ہے کہ ایسا لٹریچر پڑھے جو اس لٹریچر کا جواب ہو جس نے اس میں شکوک وشبہات پیدا کیے تھے تو یہ اندرونی وجہ جاتی رہے گی۔ اسی طرح حد سے زیادہ صفائی ستھرائی کے خیالات پیدائشی ہیں یا بعد میں پیدا ہوئے، اگر تو پیدائشی ہیں تو یہ جینیٹک پرابلم ہے یعنی اندرونی وجہ ہے۔ اور اگر بعد میں پیدا ہوئے تو کسی لٹریچر سے پیدا ہوئے تو یہ خارجی وجہ ہو گئی۔ تو اب اس کا علاج کر لے۔ اسی طرح وضو اور نماز کی رکعات میں وہم ہو جانا بھی شیطانی وسوسہ ہے لہذا اس کا علاج حدیث میں یہی بیان ہوا ہے کہ اس کی بالکل پروا نہ کرے اور مزید یہ کہ تعوذات کا اہتمام کرے۔ تو اس کا علاج روحانی زیادہ مفید ہے البتہ بعض اوقات نفسیاتی علاج بھی کارگر ثابت ہو جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان آپ کے نفس میں ان حصوں کو چھیڑتا ہے جو کمزور ہو اور تھراپسٹ آپ کے ان حصوں کو مضبوط کرتا ہے۔

اور اگر تو اوبسیشن کی وجہ خواہش نفس ہے تو پھر علاج پہلے کی نسبت ذرا مشکل ہے۔ پھر خواہش نفس دو طرح کی ہے؛ ایک وہ جو فطری ہے اور ایک وہ جو ماحول کا اثر ہے۔ اگر تو فطری خواہش نفس ہے جیسا کہ جنس کی خواہش۔ اور اس خواہش کی وجہ سے ہر وقت جنسی خیالات آتے رہتے ہیں تو یہ اوبسیشن ہے۔ اور ان خیالات کے غلبے میں فحش ویڈیوز دیکھنا تو یہ کمپلشن ہے۔ تو ایسے خیالات کو روکنا ممکن نہیں ہے کہ یہ فطری ہیں۔ ان کا رخ تبدیل کریں۔ اور وہ تبھی ممکن ہے جبکہ شادی یا نکاح ہو سکے۔ اسی طرح اگر کسی لڑکے یا لڑکی سے محبت کے نتیجے میں اس کے خیالات ذہن پر چھا جاتے ہیں کہ آپ ہر وقت اسی کے بارے سوچتے رہتے ہیں اور اس کے خیالات سے نکلنا ممکن نہیں ہو رہا تو یہ اوبسیشن ہے۔ اور اس کا علاج یہ ہے کہ اس سے شادی کر لیں۔ لیکن اگر اس سے شادی ممکن نہ ہو تو اس جیسے یا اس جیسی سے شادی کر لیں تو یہ خیالات جاتے رہیں گے۔ تو ان خیالات کا رخ تبدیل کریں کہ یہ فطری خیالات ہیں، لہذا ان کو کلی طور دبانا یا ان سے زندگی بھر لڑتے رہنا ممکن نہیں ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اس خواہش کا تعلق ماحول سے ہو جیسا کہ نیا موبائل لینے کی خواہش۔ اب یہ خواہش موبائل کا ایڈ دیکھ کر پیدا ہو گی، اس سے پہلے نہیں تو ماحول کے زیر اثر ہے۔ تو اب اگر یہ خواہش اس قدر غالب آ جائے کہ انسان اپنی کل تنخواہ ہی پہلی تاریخ کو موبائل خریدنے پر لگا دے اور گھر کا خرچ چلانے کے لیے قرض مانگتا پھرے تو یہ کمپلشن ہے۔ اور بار بار ایسا ہو تو ڈِس آڈر بھی ہے۔ ایسی خواہشات کو کنٹرول کرنے کے لیے ہی ہمارے دین میں تزکیہ نفس کا پروگرام دیا گیا۔ صحبت صالحین اختیار کرے، اس سے بہت فائدہ ہو گا کیونکہ عبادات اور آخرت میں دل لگانے سے ایسی خواہشات پر کنٹرول پانا آسان ہو جاتا ہے۔ توفطری خواہشات کی بنیاد پر پیدا ہونے والے خیالات کو آپ نے ایک نیا رخ دینا ہے جیسا کہ محبت اور سیکس کے خیالات کو نکاح اور شادی کے رخ پر لانا۔ اور ماحول کے زیر اثر پیدا ہونے والے خواہشات پر مبنی خیالات کو آپ نے کنٹرول کرنا سیکھنا ہے یعنی صحبت صالحین کی روشنی میں تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کے ذریعے۔ اور شکوک وشبہات یا وساوس کی بنیاد پر پیدا ہونے والے خیالات میں شکوک وشبہات یا وساوس کو ختم کرنا ہے۔ وساوس تو محض روحانی علاج سے دور ہوں گے کہ ان کی وجہ شیطان ہے اور شکوک وشبہات میں روحانی اور علمی علاج دونوں کریں گے۔

از حافظ محمد زُبیر