معلومات

نارڈ سٹورم

“سر ایک منٹ ذرا ٹھہریں”. سیلزمین نے آواز لگائی کسٹمر جو “امپوریم گارمنٹ اسٹور” سے ایک شرٹ خرید کر نکل رہا تھا، گھبراکر مڑ کر دیکھنے لگا کہ پتہ نہیں کیا گڑبڑ ہوگئی ہے۔ “ذرا اپنی رسید دکھائیں”۔ سیلزمین نے رسید لے کر اس پر “تھینک یو” کی ایک مہر لگائی اور بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا “جب سے نارڈسٹورم سامنے کھلا ہے اب یہ کام بھی کرنا پڑرہا ہے”۔کچھ عرصے کے بعد امپوریم اسٹور بند ہوچکا تھا۔ جعلی اور بناوٹی طریقے اور جملے زیادہ دن نہیں چلتے۔

کیا ہمارے ساتھ خاص طور پر پاکستان میں کبھی اس طرح ہوا ہے کہ کسی بڑے یا چھوٹے اسٹور میں حیران پریشان چیزیں ڈھونڈ رہے ہیں، کسی مددگار کی تلاش میں دوسرے کسٹمرز کو بھی ملازم سمجھ رہے ہوں۔ پھر خریداری کرنے کے بعد لمبی لمبی لائنوں مین کھڑے ہوکر بدمزاج اور بدتمیزسیلز کاونٹر والے کو سہتے ہوں؟
کل میرے ساتھ ایک ایسے ہی اسٹور میں ذاتی تجربہ ہوا۔ میں نے 300 روپے مالیت کی چیز خریدی اور 1000 روپئے دئے، ایک خاتون کاونٹر پر تھیں انھوں نے مجھے 200 روپے واپس کئے۔ میں نے کہا کہ آپ نے پیسے کم واپس کئے ہیں مگر ان خاتون نے بہت تیز آواز میں کہا جی نہیں آپ نے 500 ہی دئے ہیں۔ میں نے کہا کہ کیا چیک ہوسکتا ہے کہنے لگی کہ ہاں میں ریکارڈنگ دیکھ کرآتی ہوں کچھ دیر بعد ایک صاحب جو شائد سپروائزر تھے آئے اور کام پر کھڑے لڑکے سے پوچھا یہ بل کا مسئلہ کس کا ہے؟ اس نے میری طرف اشارہ کیا۔ انھوں نے ایک نگاہ غلط سے میری طرف دیکھا اور اپنے کام میں لگ گئے، سوچا ہوگا اچھا یہ ہے وہ نمونہ میں سمجھا کوئی وردی والا یا کوئی لحیم شحیم بندہ ہوگا۔ کوئی بیس منٹ کھڑا رکھنے کے بعد خاتوں تشریف لایئں اور فرمایا ہم نے دیکھ لیا ہے آپ نے 500 ہی دئے تھے۔ اور اپنے کام میں لگ گئیں یعنی اب دفع بھی ہو۔

میں سوچ میں تھا کہ ہمارے پاس کسٹمرز کیئر کا کوئی تصور ہی نہیں۔ میں نے کسی لیکچر میں امریکا کے ایک سپر اسٹور نارڈسٹورم کے بارے میں سنا تھا جو اپنے کسٹمرز کیئر کے لئے بہت مشھور ہے سوچا آپ سے بھی شئیر کر لوں کہ کس طرح ادارے بڑے بنتے ہیں۔ نارڈسٹورم کے 117لوکیشن پر اسٹور ہیں اور اس کی سالانہ آمدنی 16 بلین ڈالرز (33 کھرب روپئے) ہے۔دیکھتے ہیں نارڈسٹورم میں آپ کو کیا تجربے ہوسکتے ہیں۔ ایسا کیا ہوتا ہے کہ اس کے پڑوسی دوکان دار پریشان ہوجاتے ہیں۔آپ نارڈ سٹورم سے خریدی ہوئی کوئی چیز وہ بھی بغیر رسید کے چاہے کتنی ہی پرانی ہو چکی ہو کبھی بھی واپس کرسکتے ہیں۔نارڈ سٹورم میں ملازم آپ کو اشارے سے کوئی جگہ نہیں بتاتے بلکہ خود چل کر رہنمائی کرتے ہیں۔

ہر سیکشن کے اپنے بلنگ کاونٹرز ہیں اور اگر رش بڑھ گیا ہے تو ملازمین آگے بڑھ کر آپ کے سامان کی بلنگ وھیں کھڑے کھڑے کردیں گے۔کیشیئرز خریداری کے بعد بیگ آپ کے حوالے کاونٹر کے اوپر سے نہیں بلکہ باہر نکل کرآپ کے ہاتھ میں شکریہ ادا کرتے ہوئے کرے گا۔نارڈسٹورم میں کافی شاپ، واش روم، میک اپ روم، فیڈنگ روم موجود ہوتے ہیں۔اگر اسٹور کا وقت ختم ہوگیا ہے اور ابھی شاپنگ کررہے ہیں تو ملازمین آپ کو خونخوار نظروں سے بالکل نہیں دیکھیں گے، بلکہ آپ کی مدد کے لئے دوڑیں گے۔ملازمین کو ہدایت ہے کہ کسٹمرز کی کال دو بیلز بجنے تک اٹھالیں تیسری بیل کی نوبت نہ آئے اوران کو محسوس ہو کہ وہ انسان سے بات کررئے ہیں کسی مشین سے نہیں۔ رٹے رٹائے جملے نہیں بولنے۔کسٹمرز کو دل سے عزت دینے اور انکا دل سے خیال رکھنے کی پالیسی نے کسٹمرزکئیر کو “نارڈسٹورم وے” کا نام دے دیا ہے۔ آخر نارڈسٹورم نے کسٹمرز کئیر کو ایک آرٹ کیسے بنا دیا؟ پہلے چند حیران کن واقعات۔

1۔ ایک خاتوں نے نارڈسٹورم میں شاپنگ کی اور گھر پہنچ کر اسے پتہ چلا کہ اس کی شادی کی ہیرے کی انگوٹھی غائب ہے۔ اس نے نارڈسٹورم کو فون کرکے اطلاع کی، اسٹور کی اچھی طرح تلاشی لی گئی مگر انگوٹھی نہیں ملی۔ بجائے اس خاتون کو معذرت کا فون کرنے کے مینیجر نے سارے ویکیوم کلینر منگوائے اور اس کے کچرے کی تلاشی لی گئی اوربالآخر ایک کلینر کے اندر سے انگوٹھی مل گئی۔ خاتون کو فون کرکے انگوٹھی ملنے کی خوشخبری دی گئی اور خاتون نے خوشی کے آنسووں سے انگوٹھی کو وصول لیا۔ 2۔ ایک شخص نارڈسٹورم کے اسٹور میں داخل ہوا اس نے ہاتھ میں ٹائراٹھائے ہوئے تھے، “مجھے یہ واپس کرنے ہیں”۔ کاونٹر پر کھڑے کلرک نے جسے ملازمت شروع کئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے نے پیسوں کا ٹیگ ٹائرز پر دیکھا اور 145 ڈالرز اس شخص کے حوالے کردئے۔ دھیان رہے کہ نارڈسٹورم ٹائرز نہیں بیچتااورنہ کبھی ٹائرز بیچے ہیں۔

3۔ نارڈسٹورم کے ایک اسٹور میں کال آئی “مجھے لگتا ہے میری گاڑی کا وہیل کور آپ کے سامنے والے روڈ پر نکل گیا ہے، کیا آپ ذرا چیک کرلیں گے؟ ”ملازمین نے باہر نکل کر وہیل کیپ کو تلاش کیا ، اور جب مل گیا تو اچھی طرح صاف کرکے پلٹا کر کال کی کہ آپ کا وہیل کیپ مل گیا ہے آکر لے جائیں۔
4۔ ایک آن لائن خریداری پر فیڈ ایکس یا ڈی ایچ ایل کے ڈیلیوری مین نے 200 ڈالر مالیت کے جوتے کسٹمر کے حوالے کئے جو اس کی لاپرواہی سے بارش میں بھیگ کر خراب ھوچکے تھے۔ کسٹمر نے نارڈسٹورم کال کر کے شکایت کی، بجائے یہ کہنے کے آپ فیڈایکس پر کیس فائل کریں نارڈسٹورم کے کال سنٹر کے ملازم نے جواب دیا “ہمیں بہت دکھ ہے، نیا جوڑا آپ کے پاس 45 منٹ میں پہنچ رہا ہے۔”

اب آخری بات وہ ہے اپنے ملازمین کے ساتھ ان کا رویہ، جب بھی کوئی نیا ملازم نارڈسٹورم میں رکھا جاتا ہے تو اسے ایک دن پورا کمپنی کے بارے میں بتایا جاتا ہے اور پھر اسے ایک پیکٹ دیا جاتا ہے جس پر ملازمت کے رولز ریگولیشن لکھا ہوتا ہے۔ اس پیکٹ میں ایک کارڈ ہوتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے” نارڈسٹورم میں خوش آمدید، ہمارا سب سے اعلٰی ہدف کسٹمرز کا انتہائی درجے کا خیال رکھنا ہے، ہمیں آپ پر پورا بھروسہ ہے کہ آپ اس ہدف کو حاصل کریں گے۔ ہماری ملازمت کے قواعد و ضوابط بہت آسان اور سادہ ہیں ہمارا آپ کے لئے بس ایک ہی قانون ہے ۔ ہر سچویشن میں اپنے بہترین روئے اور فیصلے کو اختیار کیا جائے۔ “

(مسعود میر)