بلاگ

نمرہ اور اسد

نمرہ اور اسد کو بہت مبارک ہو۔ انہوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں شادی کر کے پاکستانی معاشرے کے لیے ایک بہت اچھا ٹرینڈ سیٹ کیا ہے۔ اردو پوائنٹ پر ان کا پہلا انٹرویو نشر ہوا ہے۔ اسد ابھی پڑھائی یعنی اے۔لیول کر رہا ہے اور اس کے والد اسے اسپورٹ کر رہے ہیں۔ اسد کی والدہ کی شادی بھی اٹھارہ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ اسد کے والد اکثر کہتے تھے کہ میں اس کی شادی اٹھارہ سال کی عمر میں کر دوں گا اور یہ عزم بھی جلد شادی کی ایک وجہ بنا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جلد شادی کے حوالے سے جو اثر ہم جیسے مذہبی لوگوں کی ہزاروں تحریروں نے نہیں ڈالنا، وہ اس جوڑے کے ایک انٹرویو نے ڈال دینا ہے۔

اس عمر میں جو معصومیت ہوتی ہے، اس سے جس طرح رشتے چل سکتے ہیں، ذرا عمر میچور ہو جانے کے بعد اس کا تصور بھی ممکن نہیں ہوتا۔ تو چھوٹی عمر میں شادی کا اس سے بڑا فائدہ کیا ہو سکتا ہے بشرطیکہ والدین مالی اور اخلاقی طور اسپورٹ کریں۔ اسد صاحب ویڈیو میں ایک جگہ اپنی بیگم صاحبہ کے جوگرز کے تسمے ایسے باندھ رہے ہیں جیسے کوئی بڑا بھائی اپنی چھوٹی بہن کا کر رہا ہوتا ہے۔ خود تو کیوٹ ہے ہی، اس کی باتیں بھی بڑی کیوٹ ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی تنقید کی مجھے پروا نہیں ہے۔

میں اور آپ بھی عزم کر لیں کہ اپنے بچوں کی اس عمر میں شادی کر دیں گے اور اس کے لیے ان کو مالی اور اخلاقی طور اسپورٹ کریں گے۔ میں تو چھوٹی عمر میں شادی کا دل سے قائل ہوں۔ میری شادی اسد کی عمر میں ہوئی ہوتی تو آج دادا نانا ہوتا۔ بہر حال جو چھوٹی عمر میں شادی کا نہیں قائل وہ ان کا انٹرویو دیکھ لے، قائل ہو جائے گا، غض بصر کے ساتھ دیکھ لے۔ انٹرویو کا لنک پہلے کمنٹ میں ہے۔ تو جن کی ابھی تک نہیں ہوئی تو اب سڑے ہوئے کمنٹ کرنے کی بجائے ان کو ایپری شیئیٹ کریں، جلد ہو جائے گی۔