معلومات

نیوٹن ، کالی موت اور گھر میں پڑھائی

یہ 25 جولائی 1665 کا دن تھا۔ کیمبرج میں ہولی ٹرینیٹی (Holy Trinity ) کے پاس ایک گھر میں 5 سالہ بچے کا انتقال ہو گیا۔ جب ڈاکٹروں نے اس کی لااش کا معائنہ کیا تو انہیں اس کی چھاتی پر کالے دھبے نظر آئے ۔ ان کے چہروں پر خوف کے سائے دوڑ گئے ..کالی موت نے کیمبرج کا رخ کر لیا تھا۔۔بہار 1665 لندن کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی۔ بلیک ڈیتھ کے نام سے یورپ کا مشہور طاعون لندن کے دروازوں پر دستک دے چکا تھا اور جلد ہی وبا نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لوگ مرنے لگے اور گلیاں لاشوں سے اٹ گئیں ۔ امرا نے اپنے خاندان شہر کے مضافات میں بھیج دئے لیکن غریب؟ ان کے پاس موت کے سوا کوئی آپشن نہ تھا۔ موت اور دردناک موت۔۔جلد پر سیاہ دانے نکل آتے جو عنقریب پھول کر پھوڑے بن جاتے اور پھٹ کر پیپ بہنے لگتی۔ اس کے ساتھ مریض کو الٹیاں لگتیں اور زبان سوج جاتی ۔ اوپر سے سر پھاڑ دینے والا سر درد ۔ اور موت کو مزید دردناک بنانے کے لئے جس گھر میں مریض ہوتا اسے سیل کر دیا جاتا پورا خاندان ایک ساتھ سسک سسک کر مر جاتا۔ اگر چہ اس وقت تک اس بیماری کے جراثیم دریافت نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی کسی کو پتہ تھا کہ یہ سب کیسے پوتا ہے لیکن لوگوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ بیمار شخص کے قریب جانے سے یہ بیماری صحت مند شخص کو بھی لگ جاتی ہے۔ لہذا جونہی وبا پھیلتی سوشل ڈسٹینسنگ (Social Distancing)پر عمل کیا جاتا اور وبا زدہ علاقے کو مکمل سیل کر دیا جاتا۔

خبر پھیلتے ہی کیمبرج کے لوگ خوساختہ تنہائی میں چلے گئے۔ کیمبرج یونیورسٹی بند کر دی گئی ۔ طلبہ کو گھر واپس جانے کا کہ دیا اور جدید تاریخ میں پہلی دفعہ گھر رہ کر یونیورسٹی کی پڑھائی کا آغاز ہوا۔انہی سارے طالب علموں میں ایک نام آئزک نیوٹن کا بھی تھا جو ابھی ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا اور کیمبرج کے ہی ٹرینیٹی کالج میں ایک طالب علم کی حیثیت سے پڑھ رہا تھا ۔ اسوقت تک آئزک نیوٹن کو صرف اس کے گھر والے ، چند قریبی دوست اور استاد ہی جانتے تھے ۔ یونیورسٹی بند ہوئی نیوٹن نے سامان اٹھایا اور کیمبرج سے ساٹھ میل دور اپنے آبائی گھر رہنے چلا گیا۔اس کا آبائی گھر ایک چھوٹے سے گائوں میں تھا جہاں پہلے ہی کم لوگ آباد تھے ۔ اوپر سے وبا کے پھیلنے کا ڈر تھا لوگوں نے سگے رشتہ داروں پر گھر کے دروزے بند رکھے تھے ۔ یونیورسٹی بند ہونے سے نیوٹن اپنے اساتذہ سے بھی کچھ ڈسکس نہیں کر سکتا تھا۔ یہاں تنہائی میں نیوٹن کا گزرا ہوا ایک سال قیامت تک کے لئے اس کا نام تاریخ کے صفحے پر نقش کر گیا۔ خود نیوٹن نے اپنی بائیوگرافی میں اسے حیران کردینے والے کاموں کا سال کہا ۔

سب سے پہلے اس نے ریاضی کے ان مسئلوں پر کام کیا جس کا آغاز اس نے کیمبرج یونیورسٹی میں کیا تھا۔ نیوٹن کا ریاضی پر کیا گیا یہی کام ریاضی کی ایک نئی شاخ کیلکولیس کی بنیاد بنا اور آج تک طلبہ کو فیل کرنے کے میں اس کی اہمیت اپنی جگہ قائم ہے۔یہیں ، اسی گائوں والے گھر کے صحن میں ، سیب کا وہ تاریخی درخت واقع تھا جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ نیوٹن اس کے نیچے بیٹھا تھا اور سیب اس پر آ گرا۔ تب وہ سیب اٹھا کر کھانے کی بجائے یہ سوچنے لگا کی یہ سیب نیچے ہی کیوں گرا اور اس کے جواب میں گریویٹی نام کی ایک اور نئی قوت دریافت کی ۔

اسی گائوں والے گھر میں نیوٹن نے موشن کے بارے میں تجربات کئے اور اپنے مشہور زمانہ موشن کے قوانین دریافت کئے ۔ اسی گھر کے کسی کمرے میں کھڑکی سے چھن چھن کر آنے والی روشنی کو دیکھ اس نے آپٹکس کی بنیاد رکھی۔اور ایک سال بعد جب کالی موت نے لندن کی ایک چوتھائی آبادی کا صفایا کر دیا تھا یونیورسٹی دوبارہ کھلی ۔ نیوٹن تنہائی میں کئے گئے اپنے کام کے ساتھ واپس کیمبرج لوٹا تو چھے مہینوں کے اندر اندر اسے فیلو بنا لیا گیا اور دو سال کے اندر اند ر وہ مکمل پروفیسر بن گیا تھا۔

اب 1665 بھی گزر گیا۔ جولائی کا مہینہ بھی نہیں اور نیوٹن بھی نہیں۔ خدا کا کرنا ایسا کہ ایک دفعہ پھر وبا پھیلی ہے اور پوری دنیا میں یونیورسٹیوں نے طلبہ کو گھر بھیج دیا اور گھر سے پڑھنے کا کہا ہےچنانچہ اگر آپ کی یونیورسٹی بھی کچھ ہفتوں یا مہینوں کے لئے بند کر دئی گئی ہے اور آپ کو بھی گھر رہ کر پڑھنے کا کہا گیا ہے تو نیوٹن کی سیٹ کی گئی تاریخی مثال ذہن میں رکھیں اور کچھ نہ کچھ ایسا لازمی کر جائیں جو آنے والے طالب علموں کی زندگی اتنی ہی متاثر کرے جتنی کیلکولیس نے پاکستانی طالب علموں کی کی ہے۔ اگر صرف کیلکولیس نہ ہوتی تو زرا سوچئے ہم میں سے کتنے اس وقت ریاضی پڑھ رہے ہوتے۔زرا دیکھئے پھر اس وبا کے بعد بے چارے معصوم طلبہ کے سر پہ اور کونسی کونسی نئی وبائیں۔منڈلا رہی ہوں گی

تحریر :کامران امین، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز، بیجنگ چائنہ