ادب

یوم پیدائش ۔۔۔۔ نازیہ حسن

نازیہ حسن 3 اپریل 1965ء کوکراچی میں پیدا ہوئی اور لندن میں پلی بڑھی۔ لندن کی ریچرڈ امریکن یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن اور اکنامکس میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ نازیہ حسن کو برصغیر میں پاپ موسیقی کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔نازیہ کا پیشہ وارانہ کیریئر 15 سال کی عمر میں شروع ہوا جب اُس نے 1980ء میں بھارتی فلم’’ قربانی ‘‘ کانغمہ ’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے‘‘ گایا۔ اس نغمے نے بھارت میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی اور اس نغمے سے ایک ہی رات میں نازیہ کو مقبولیت حاصل ہو گئی۔

1981ء میں نازیہ نے اس نغمے کے لیے فلم فیئر ایوارڈ جیتا۔ نازیہ حسن کا پہلا البم ’’ڈسکو دیوانے‘‘ 1981ء میں ریلیز ہوا، اس البم نے 14 ممالک میں مقبولیت حاصل کی۔نازیہ اپنے بھائی زوہیب کے ساتھ مل کر گاتی تھیں، زوہیب اور نازیہ کی جوڑی گائیکی کی دنیا کی بہت مقبول ہوئی۔ اس کا دوسرا البم ’’سٹار/ بوم بوم ‘‘ 1982ء میں ریلیز ہوا۔تیسرا البم ’’ ینگ ترنگ‘‘ 1984ء میں ریلیز ہوا۔

یہ پاکستان میں پہلا البم تھا جس میں میوزک ویڈیوز پیش کی گئیں اور اسے ڈیوڈ اور کیتھے روز نے لندن میں بنایا تھا۔ اس البم کو ایشیاء میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی،’’ آنکھیں ملانے والے‘‘ اس البم کا مقبول نغمہ تھا۔ ینگ ترنگ کے ریلیز ہونے کے بعد نازیہ نے بالی ووڈ فلموں میں پلے بیک گلوکار کے طور پر گانا شروع کر دیا۔ ان کا چوتھا البم ’’ ہاٹ لائن‘‘ 1987ء میں ریلیز ہوا۔

اس کے بعد 1988ء میں نازیہ اور اس کا بھائی زوہیب میوزک ڈائریکٹر سہیل رعنا کے ٹیلی ویژن پروگرام ’’ سنگ سنگ‘‘ میں نمودار ہوئے۔ اسی سال نازیہ اور زوہیب نے اولین شو ’’ میوزک 89 ‘‘ کی میزبانی کی، شو کے پروڈیوسر شعیب منصور تھے اور یہ پاکستان کے ٹیلی ویژن پر چلنے والا سب سے پہلا پاپ میوزک سٹیج شو تھا۔نازیہ نے 1989ء میں پی ٹی وی کے شو ’’ دھنک‘‘ میں بھی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔

1991ء میں نازیہ کا پانچواں البم ’’کیمرہ کیمرہ‘‘ زوہیب حسن کے ساتھ ریلیز ہوا۔ یہ البم پہلے ریلیز ہونے والے البمز کی طرح کامیاب نہ ہو سکا۔ اس البم کے بعد نازیہ نے موسیقی چھوڑ دی اور اپنی ذاتی زندگی میں مصروف ہو گئیں۔

اردو نغموں کے علاوہ نازیہ حسن نے پنجابی گانے بھی گائے۔ اس کا گایا ہوا پنجابی گانا ’’ٹاہلی دے تھلے بیہ کے ماہیا وے کرئیے پیار دیاں گلاں‘‘بہت مقبول ہوا۔نازیہ حسن نے 1991ء میں نیو یارک میں اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرمیں سیاسی اور سلامتی کونسل کے امور کے سیکشن میں شمولیت اختیار کی اور 2 سال تک یہاں کام کیا۔نازیہ نے اپنی سماجی اور تعلیمی کامیابیوں کی وجہ سے کولمبیا یونیورسٹی کے لیڈر شپ پروگرام میں سکالر شپ بھی جیتی تھی۔ لیکن نازیہ اس وقت وہ آفر قبول نہیں کر سکی کیونکہ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکی تھیں۔

نازیہ نے کئی مقبول کمپنیوں کے لیے اشتہارات میں بھی کام کیا، جن میں لپٹن چائے اور ستارہ سپنا لان سر فہرست ہیں۔ نازیہ حسن نے سماجی وجوہات کو فروغ دینے کے لئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا۔موسیقی سے حاصل کی گئی زیادہ تر رقم لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کر دیتی تھی۔ خاص طور پر کراچی کے غریب علاقوں میں رہنے والے بچوں، نوجوانوں اور خواتین کی مدد کیا کرتی تھیں۔

پاکستان میں اس نے ایک تنظیم ’’BAN منشیات کے خلاف جنگ‘‘ قائم کی، اس طرح وہ خواتین کی آواز کے طور پر اور پاکستان کے نیشنل یوتھ کونسل کے طور پر تنظیموں کی ایک فعال رکن بن گئی۔ نازیہ نے UK میں اپنی تعلیم مکمل کر کے قانون کی ڈگری حاصل کی اور پھر سلامتی کونسل میں کام کیا۔نازیہ نے بھارت میں بھی مختلف سماجی تنظیموں کی حمایت کی اور ان کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے میں مدد کی۔ نازیہ نے 30 مارچ 1995ء کو اشتیاق بیگ سے شادی کی۔

نازیہ 13 اگست 2000ء کو 35 سال کی عمر میں پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہونے کے باعث لندن میں وفات پا گئیں۔ نازیہ کی عظیم کامیابیوں اور شراکت کے لئے پاکستان حکومت نے نازیہ کو ’’پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ‘‘ پیش کیا۔یہ ایوارڈ 23 مارچ 2002ء کو پرویز مشرف کی طرف سے نازیہ کی والدہ ’’ منیزہ بصیر‘‘ کے حوالے کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں ’’ ڈبل پلاٹینم‘‘، ’’ پلاٹینم‘‘ اور ’’ گولڈن ڈسک ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔

انتخاب و پیشکش : نیرہ نور خالد