اسلام بلاگ

نظر بد اور حسد کا علاج

اصل میں چیزیں تین ہیں؛ نظر، آسیب اور جادو۔ تینوں کی علامات اور کیفیات بھی فرق ہوتی ہیں اور طریقہ علاج بھی۔ نظر لگ جانے کی وجہ حسد ہوتی ہے۔ حسد کہتے ہیں کہ ایک شخص آپ پر اللہ کی طرف سے کی گئی کسی نعمت پر جَلن محسوس کرے اور اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو کہ آپ سے یہ نعمت چھن جائے اور اس کے پاس چلی جائے۔ مذہبی طبقہ ہوں یا غیر مذہبی، حسد ہماری سوسائٹی میں بہت عام ہے بلکہ بعض محققین صوفیاء کا کہنا یہ ہے کہ سالک یعنی اللہ کے رستے پر چلنے والے میں سب سے آخر میں جو بیماری جاتی ہے، وہ حسد کی بیماری ہے۔ اور میری رائے میں تو وہ جاتی بھی نہیں ہے بلکہ جانے کا صرف وہم ہوتا ہے۔ یہ تو اللہ ہی کسی کو بچا لے یا محفوظ رکھے تو رکھے ورنہ اس سے بچنا بہت مشکل ہے۔

بہرحال حسد کے درجات ہیں۔ پہلا درجہ یہی ہے کہ دوسرے کی خوبی اور نعمت قبول نہیں ہوتی یا ہضم نہیں ہوتی جیسا کہ علماء کے طبقے میں اسے "معاصرت” کہہ دیتے ہیں کہ کئی بڑے بڑے علماء اس کا شکار رہے ہیں، اور چھوٹوں کا تو کیا ہی کہنا۔ یعنی ایک عالم دین کی دوسرے سے لگتی نہیں ہے اور وہ اس کی خوبی سامنے آنے پر اس پر منفی تبصرہ کر دیتا ہے تو یہ حسد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ حسد بعض اوقات حد سے بڑھ جائے تو حاسد ایسی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے منفی جذبات اگلے کو جلا کر رکھ دیں، اسے نظر لگنا کہتے ہیں۔ نظر، حسد سے اگلا درجہ ہے۔ بعض اوقات حاسد کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی نظر لگ رہی ہے لیکن اکثر اوقات اسے احساس ہو جاتا ہے کہ اس کی نظر لگ گئی ہے۔ اور بعض اوقات تو وہ جانتے بوجھتے بار بار حسد کی نگاہ ڈالتا رہتا ہے اور یہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔ اس سے درمیان میں نظر کا جن انوالو ہو جاتا ہے جو محسود یعنی جس سے حسد کیا جا رہا ہو، کو تکلیف اور اذیت پہنچاتا ہے۔

لیکن حسد اور نظر میں ایک اور فرق بھی ہے کہ نظر اپنے کی بھی لگ سکتی ہے۔ تو عموما نظر کی وجہ حسد ہوتی ہے لیکن ہر صورت ایسا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات کوئی شخص آپ کی نعمت کا زوال نہیں چاہتا لیکن آپ کی کسی نعمت کو دیکھ کر اس پر ما شاء اللہ نہیں کہتا یعنی اس کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کرتا تو اس سے بھی انسان گر جاتا ہے کہ اللہ عزوجل کو بہرحال یہ پسند نہیں ہے کہ انسان کی کسی خوبی کی نسبت خود انسان کی طرف ایسے ہو جائے کہ درمیان میں سے خدا نکل جائے۔ خدا کو بہر حال سینٹرل ریفرنس رہنا چاہیے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ "العین حق” یعنی نظر کا لگ جانا حق ہے۔ صحیح مسلم ہی کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیتے تھے کہ نظر کا دم کیا کریں۔

مزید پڑھیں: “اگر آپ میرے سوال کا جواب دے دیں تو میں مسلمان ہو جائونگا”

قرآن مجید میں "وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ” میں جو حاسد کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے تو حاسد کے اس شر میں نظر کا لگ جانا بھی شامل ہے اور جب وہ نظر سے بھی کچھ نہ بگاڑ سکے تو پھر جادو ٹونے کی طرف جاتا ہے کہ اس کی وجہ بھی حسد ہی ہوتا ہے جو عام طور فیملی کے لوگوں میں ہی پیدا ہوتا ہے کہ فلاں کی بچیوں کے تو بڑے رشتے آ رہے ہیں اور میری بیٹی کا نہیں آ رہا۔ یا فیملی میں کسی کو اچھی ملازمت مل جائے یا بزنس چل پڑے تو دوسرے لوگوں سے برداشت نہیں ہوتا، خاص طور عورتوں میں برداشت کم ہوتی ہے۔ اور پھر ہر دوسری گلی میں تو تعویذ گنڈے والا عامل بابا بیٹھا ہے جو ثواب سمجھ کر یہ کام کر دیتا ہے کہ جن پر کروانا ہے تو شاید انہوں نے کروانے والوں کا کوئی حق مارا ہوا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سورۃ الفلق میں حاسد کے ساتھ "وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ” یعنی گرہوں میں پھونکیں مارنے والیوں کی شر سے بھی اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تو حسد اور نظر کے علاج کے لیے ایک تو سورۃ الفلق کا سورہ الاخلاص اور سورہ الناس کے ساتھ صبح اور عصر کی نماز کے بعد اور رات سونے سے پہلے تین مرتبہ پڑھنے کا اہتمام کریں۔ دوسرا چودہ منٹس کا ایک دم یعنی دعا شیئر کر رہا ہوں، اس کو ہینڈ فری لگا کر سن لیں۔ اگر تو دم یا دعا کو سنتے وقت رونا آئے، آنکھوں میں پانی آئے، سر بھاری ہو جائے، کانوں میں درد ہو، کان کھچ جائیں یا کھڑے ہو جائیں، نچلے جبڑے کی ہڈی میں درد ہو، کندھوں میں درد اور کھچاؤ پیدا ہو، دم سنتے وقت یا اس کے بعد کے بعد بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہو تو آپ کو کنفرم نظر لگی ہوئی ہے۔ اور علاج یہی دم ہے، اکیس دن تک صبح شام سنیں۔ اس کے ساتھ منزل کا اہتمام کریں۔ مزید کوئی مسئلہ ہوں تو واٹس ایپ پر معلوم کر لیں۔

بھائی یہ سائنس ہے، کیسے؟ سائنس کہتے ہیں اس تجربے کو جو دہرایا جا سکے (repeatable experiment)۔ آپ دوبارہ دم سنیں گے، دوبارہ یہی کیفیات پیدا ہوں گی بلکہ شاید پہلے سے زیادہ ہوں۔ تیسری مرتبہ میں اور زیادہ ہو جائیں گی۔ پھر کم ہونا شروع ہو جائیں گی تو مطلب علاج ہو رہا ہے۔ اور شروع میں تکلیف بڑھ کیوں جاتی ہے کہ موم بتی بھی بجھنے سے پہلے ایک مرتبہ بھڑکتی ضرور ہے۔ دم کے علاوہ جو مرضی سنیں جتنا مرضی سنیں، کچھ نہیں ہو گا۔ تو دم اصل میں اینٹی وائرس ہوتا ہے جو خاص قسم کے وائرس کو پکڑنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہوتا ہے۔ اور راقیوں یعنی جھاڑ پھونک کرانے والوں اور عاملوں کی پوری ایک دنیا ہے، جہاں ان کے نیٹ فورمز اور واٹس ایپ گروپس ہیں، ڈسکشنز چل رہی ہوتی ہیں، تجربات شیئر ہو رہے ہوتے ہیں، دم تجویز ہو رہے ہوتے ہیں۔