بلاگ معلومات

نواز شریف رہا ہونے والے ہیں؟؟

عالمی سطح پر کپتان کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ چائنا کی دعوت پر کئے گئے ان کے دورے کی کامیابی کی اطلاع ہے۔ صدر زی جن پنگ، پریمیئر لی کی یانگ اور نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چئیرمین لی زان شو سے ملاقاتوں میں کپتان نے متاثر کُن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ علاوہ ازیں چینی تاجروں اور صنعتکاروں سے بھی ملاقات کی۔ دورے کے نتیجے میں سی پیک منصوبوں کیلئے نہ صرف یہ کہ نئی زندگی ملنے کی نوید ہے اس کے ساتھ ساتھ کشمیر پر بھارتی ظالمانہ تسلط کے حوالے سے بھی دو طرفہ اعتماد اور ہم آہنگی کو فروغ ملا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ چند اہم پاک چائنہ دفاعی منصوبوں پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔

چین کا موجودہ پاکستانی قیادت پر اعتماد کا مظہر یہ امر بھی ہے کہ اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کے ذمہ داران نے مولانا فضل الرحمن کی منت کے باوجود ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ ان دنوں جب موجودہ حکومت ملکی مجموعی معاشی صورت حال کو بہتربنانے کے لئے کو شاں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیر پر مثبت عالمی رائے عامہ ہموار کرنے میں لگی ہوئی ہے مولانا فضل الرحمن کا احتجاج قطعی بر محل نہیں۔ ایسی صورت حال میں بھارتی میڈیا ان کے بیانیے کو اپنے ہاں خواہ مخواہ بڑھا چڑھا کر جگہ دے رہا ہے۔ چنانچہ کشمیر کا معاملہ پسِ پشت جانے کے اندیشے ہیں۔ اس موقع پر ایران کا بھی شکریہ کہ وہاں کشمیر کے معاملے پر واضح اور دو ٹوک موقف پایا جاتا ہے۔

اگلے روز مشہد میں ایرانی صحافیوں ہمراہ کچھ دیگر عالمی صحافتی اداروں کے نمائندگان کے ایک ایسی بیٹھک کا اہتمام ہوا کہ جس میں سو کے لگ بھگ پروفیشنلز اکٹھے ہوئے۔ تقاریر اور تصاویر کے ذریعے بھارتی مظالم کو اجاگر کیا گیا اور ان کی بھرپور مذمت بھی کی گئی۔ علاوہ ازیں دنیائے عالم سے تقاضا کیا گیا کہ بھارتی مظالم کو روکنے اور کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کی موثر سعی کی جائے۔ یہ طے ہے کہ کپتان کی آواز پر بہت سے ممالک کشمیر کے مسئلہ پر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ ملائیشیا، ترکی، چین اور ایران تو کھل کر صف بندی کر رہے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کپتان سعودی عرب اور ایران کے مابین برادرانہ تعلقات استوار کروانے کیلئے بھی کوشاں ہیں۔ کپتان بہرحال عالمی سطح پر اہمیت کے حامل ہوتے جا رہے ہیں۔

مسئلہ مگر اندرونی صورت حال کا ہے۔ مولانا فضل الرحمن توقعات کے عین مطابق اپنے مارچ، دھرنے یا جلسے کی تاریخیں تبدیل کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق ابھی تک واضح حکمتِ عملی وضع نہیں کر پائی۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت چونکہ آج کل زیر بار ہے چنانچہ ممکن ہے اسی لئے گومگو کی کیفیت طاری ہے۔ ن لیگ البتہ واضح پوزیشن لئے کھڑی ہے۔ یعنی تقاضا ہے کہ مولانا اپنے احتجاج کی تاریخیں مزید آگے لے جائیں۔ ن لیگ کے موجودہ حکومت کے خلاف جذبات تو وہی ہیں جو کہ مولانا کے ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے تاریخیں آگے لے جانے میں کیا مصلحت ہے؟ چند باخبر ذرائع سے جو معلومات ملی ہیں وہ چونکا دینے والی اور کچھ حد تک فکر انگیز بھی ہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع ملازمت سے قبل ن لیگ کے کچھ جغادریوں کا اندر کھاتے کا پروپیگنڈہ تھا کہ جنرل صاحب سے بات چیت ہو گئی ہے۔

معاملات طے پا گئے ہیں چنانچہ جانے سے پہلے وہ شریف فیملی کو کچھ ریلیف دلوا جائیں گے۔ الٹی پڑ گئیں سب تدبیریں اور جنرل صاحب توسیع لے کر موجودہ حکومت کو مذید چھپر چھایا فراہم کرتے رہنے پر مائل نظر آئے۔ ن لیگ کے شہ دماغ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہ گئے۔ باسی کڑہی میں پھر سے ابال اٹھا اور کچھ با تدبیر ساتھیوں نے کہا کہ اب ہم چیف جسٹس کھوسہ کے جانے اور نئے آنے والے تک کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے والی پالیسی اختیار کریں تو بہتر ہو گا۔ یعنی عملاً کچھ نہیں کریں گے اور موقع بہ موقع شور مچاتے رہیں گے تاکہ سمندر میں رہیں بھی اور دامن سوکھا ہونے کے دعوے بھی کریں۔ گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں جب خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے تیاری کے لئے عدالت سے تین ماہ مانگے تو تجزیہ نگاروں نے حیرت سے آنکھیں جھپکیں۔ سب کچھ عیاں ہو گیا۔

واضح طور پر ن لیگ کسی آس، امید کے سہارے خواہش مند ہے کہ کسی طور وہ دن آئیں کہ چیف جسٹس موجودہ نہیں نئے ہوں اور نواز شریف اندر نہیں باہر ہوں۔ یوں مولانا فضل الرحمن احتجاج کے اکیلے امیراور رہبر بننے کی بجائے نواز شریف کو یہ حیثیت حاصل ہو۔ ن لیگ ایسا احتجاجی پروگرام چاہتی ہے کہ جس میں نواز شریف قائدین کی صف میں سرفہرست نظر آئیں۔ اگر ذرائع کے مطابق ن لیگ کے سرکردہ رہنماؤں کی یہی سوچ اور امید ہے تو صاحب! پھر موجودہ حکومت کے لئے پریشانیاں بڑھنے کے امکانات روشن ہیں۔ علاوہ ازیں ہمارے عدل و انصاف کے اداروں کا یہ کڑا امتحان بھی ہے۔ حکومت کیلئے اندرونی سطح پر آزمائشیں بڑھ رہی ہیں۔

تاجر بھی میدان میں ہیں۔ عام لوگ بھی مہنگائی سے تنگ ہیں۔ دوسری طرف حکومتی ادارے اور اعلیٰ بیورو کریسی بھی عدم تعاون کی مظہر ہے۔ وزراء کے مابین چپقلش کی خبریں زبان زدِ عام ہیں۔ وزیراعظم کو غلط اطلاعات اور مشورے دینے والے بھی سرگرم ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں فائٹر کپتان قطعی طور پر اکیلئے پڑ گئے تو پھر عنقریب راوی سب چین نہیں لکھے گا۔ آخری بات یہ ہے کہ مولانا، پیپلز پارٹی اور نواز شریف کے حامیوں کے ارادوں سے ڈرے بغیر کپتان کو چاہئے کہ ڈٹا رہے، باخبر رہے اور باوثوق بھی۔ موجودہ صورت حال ایسی چومکھی لڑائی ہے کہ جس میں ہمہ وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ مغل بادشاہ بابر نے کہا تھا کہ کامیابی گھوڑے کی پشت پر سوار رہنے سے ہی ملتی ہے۔ یہی حقیقت کپتان کے ذہن نشین رہنی چاہئے۔