ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

نسوار میں کیا ہے؟ ثناء اللہ خان احسن

پڑیچے کسے کہتے ہیں؟ نسوار کس چیز سے بنتی ہے؟ نسوار کیا کرتی ہے؟ کیا نسوار پٹھانوں نے متعارف کروائی تھی؟
نپولین بھی نسوار لیتا تھا؟ نسوار سے کیسے نجات پائیں؟ نسوار سے کیسے نجات پائیں؟

نسوار تمباکو سے بنی ہوئی گہرے سبز رنگ کی ہلکی نشہ آور چیز ہے۔ نسوار کھانے والا ایک چٹکی کے برابر اپنے زیریں لب اور دانتوں کے درمیان دبا لیتا ہےاور تمباکو کے نشے کا سرور لیتا ہے۔ نسوار بنانے کے لیے تمباکو کے خشک پتوں میں حسب منشا چونا ، راکھ اور ایک خاص گوند ملا کر پتھر کی اوکھلی میں لکڑی کے موٹے موصل سے کوٹ کوٹ کر پانی کے ہلکے چھینٹےدے کر تیارکی جاتی ہے۔ بڑے پیمانے پر مشینوں سے بھی تیار کی جاتی ہے۔بنوں کی نسوار مشہور ہے جبکہ چار سدہ اور صوابی میں بہترین تمباکو کاشت ہوتی ہے۔

سبز نسوار تیار کرنے کے لیے تمباکو کے پتوں کو سائے میں خشک کیا جاتا ہے جبکہ کالی نسوار کے لیے تمباکو کے پتوں کو دھوپ میں سکھایا جاتا ہے۔ سونگھنے والی لال نسوار بھی ہوتی ہے۔ مقصد سب کا ایک ہی ہے یعنی کہ کسی بھی طریقے سے نکوٹین کو خون اور ماغ تک پہنچانا۔

گندا نشہ ہے کیونکہ اس کے استعمال سے منہ میں بدبو اور انگلیاں گندی رہتی ہیں۔ کینسر کا باعث بھی ہے۔ یورپ کے لوگ اس کے مضر اثرات اور گندی ہونے کے باعث اس کو ترک کرچکے لیکن ہمارے لوگ اب تک اس کے رسیا ہیں۔ نسوار چونکہ تمباکو سے بنتی ہے اس لیے اس کے نقصانات بھی لازماً ہیں لیکن یہ بہت کم نسوار خوروں کو پتہ ہوتا ہے۔ البتہ جو چیز اس میں تکلیف دہ ہے وہ نسوار خوروں کا جگہ جگہ تھوکنا ہے جس سے دوسرے لوگ تنگ ہوتے ہیں۔ یہی حال پان کی پیک تھوکنے والوں کا ہے۔ زیادہ نسوار خوروں کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے۔ وہاں انھیں پڑیچے بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ پڑچ کی آواز کے ساتھ تھوکتے ہیں۔ نسوار افغانستان، پاکستان، بھارت، ایران،تاجکستان، ترکمانستان اور کرغیزستان میں ہوتی ہے۔

نسوار خور اسے ایک ڈبی میں یا پڑیا میں ڈال کر جیب میں رکھتا ہے اور حسب خواہش منہ میں ڈالتا رہتا ہے۔عام طور پر پٹھان اس کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں، جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی اس کا استعمال کافی ہے۔ سائنس نے اس کے نقصانات بھی کافی بیان کیے ہیں۔

اکثر دوست سمجھتے ہوں گے کہ نسوار پشتونوں کی ثقافت ہے اور اس کو پختون قوم نےایجاد کیا۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ نسوار ابتدائی طور پر امریکہ سے شروع ہوئی جس کا تذکرہ پندرویں صدی کی کتب میں ملتا ہے، اور یورپ میں سترہویں صدی سے عام استعمال ہوا۔ یورپی ممالک میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے باعث حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ عام طور پر اس کا استعمال ناک، سانس یا انگلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا اور کینیڈا میں ہونٹ کے نیچے رکھ کر استعمال کرنے سے ہوئی۔ہیٹی کے مقامی لوگوں کی جانب سے 1496-1493میں کولمبس کی جانب سے امریکہ دریافت کے سفر کے دوران ریمن پین نامی راہب نے ایسے ایجاد کیا۔ کولمبس کے ساتھیوں نے یہاں دیکھا کہ مقامی ریڈ انڈینز ایک پودے کے پتوں کا رول بنا کر اس کے اگلے سرےکو سلگا کر اس کا دھواں اندر کھینچتے ہیں اور یوں کولمبس نے باقی دنیا کو بھی ٹوبیکو یعنی تمباکوسے متعارف کروایا۔ جب سے یہ پودا باقی دنیا میں متعارف ہوا حضرت انسان ہر ہر طریقے سے اس کو اپنے جسم میں داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سگریٹ، نسوار، پان، قوام وغیرہ۔

اصل میں تمباکو میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جس کا نام ہے نکوٹین۔ اب آپ نکوٹین کسی بھی ذریعے سے لیں، خواہ سگریٹ، یا نسوار یا پان کا تمباکو وغیرہ۔ خون میں ملنے کے بعد چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ کے اعصاب تک پہنچ جاتی ہے. نکوٹین کے اثر سے ہمارا دماغ ڈوپامائن (dopamine) نام کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت اچھا احساس ہوتا ہے۔ جب بھی دماغ ڈوپامائن چھوڑتا ہے تو ہمیں بہت مزا آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہمیں کسی کام کا اجر ملا ہے۔ یعنی دماغ کو یہ اشارہ جاتا ہے کہ اگر آپ سگریٹ پئیں یا نسوار لیں یا پان کھائیں گے تو آپ دماغ محسوس کرے گا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ دماغ یہ جان بوجھ کر نہیں کرتا بلکہ وہ ایسا وہ نکوٹین کے اثر کی وجہ سے کرتا ہے۔لیکن جلد ہی دماغ کو نکوٹین کی ایسی لت لگ جاتی ہے کہ آپ بار بار اس کو لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ لت ٹھیک ویسی ہی ہوتی ہے، جیسے کسی منشیات کی لت، مثلاً ہیروئن۔ نکوٹین کا نشہ اس قدر طاری ہوتا ہے کہ وہ آپ کے رویّے کو کنٹرول کرنے لگتا ہے۔ نہ لینے کی صورت میں جسم ٹوٹنا، چڑچڑا پن، کمزوری، بے چینی اور دیگر کئی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ دماغ کی ساری توجہ نکوٹین حاصل کرنے کی طرف لگ جاتی ہے اور پورا جسم بیکار اور بے جان محسوس ہونے لگتا ہے۔

1561ء میں پرتگال میں لزبن میں فرانسیسی سفیر اور ان کے بیٹے جین نکوٹ کے بیماری کی وجہ جواز سے اس وقت یہ طبقہ اشرافیہ میں نہایت مقبول ہوا۔ 17 ویں صدی میں اس کی مصنوعات کے خلاف کچھ حلقوں کی جانب سے تحریک اٹھی اور پوپ اربن ہفتم کی جانب سے خریداری پر دھمکیاں دیں گئیں۔ روس میں اس کا استعمال 1643میں زار مائیکل کی جانب سے کیا گیا ۔ ناک سے استعمال کی وجہ سے اس پر سزا مقرر کی گئی۔ فرانس میں بادشاہ لوئیس XIIIنے اس پر حد مقرر کی جبکہ چین میں1638میں پوری طرح نسوار کی مصنوعات پھیل گئی۔18ویں صدی تک نسوار کو پسند کرنے والوں میں نپولین بونا پاٹ ، کنگ جارجIII کی ملکہ شارلٹ اور پوپ بینیڈکٹ سمیت اشرافیہ اور ممتاز صارفین میں یہ رائج ہوچکا تھا۔18 ویں صدی میں انگلش ڈاکٹر جان ہل نے نسوار کی کثرت استعمال سے کینسر کا خدشہ ظاہر کیا۔ امریکہ میں پہلا وفاقی ٹیکس 1794ء میں اس لیے لگا کیونکہ اسیے عیش و عشرت کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔اٹھارویں صدی میں جینٹل ویمن نامی میگزین میں پرتگالی نسوار کی اقسام اور استعمال کے مشورے شائع ہوئے۔افریقہ کے کچھ علاقوں میں یورپی ممالک کے افراد کی وجہ سے پھیلی اور دیہاتیوں نے ناک کے ذریعے استعمال کیا ۔ہندوستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی آمد کے ساتھ یہ مصنوعات بھی متعارف ہوئی اور اس کا استعمال پاک و ہند میں پھیل گیا۔

نسوار، پان یا سگریٹ کے ذریعے تمباکو لینے کا دہرا نقصان ہے۔ وہ اس لیے کہ ان کے اجزا منہ، حلق اور پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے لیے آجکل نکوٹین کے پیچز ملتے ہیں جنہیں آپ اپنے جسم کی جلد پر کہیں بھی چپکا لیجیے۔ اس میں موجود نکوٹین جلد کے مسامات کے ذریعے خون میں مل کر نکوٹین کی طلب پوری کردیتی ہے اور آپ اپنے پھیپھڑوں، یا منہ اور حلق کو نقصان پہنچائے بغیر نشہ پورا کرسکتے ہیں۔ اس طرح آپ بار بار پڑچ پڑچ کرنے، ہاتھ منہ گندا رہنے اور منہ کی بدبو سے چھٹکارا پالیں گے جو آپ کی شخصیت کو بہت بدنما اور ناپسندیدہ بناتے ہیں۔

تبصرے
Loading...