کالمز

نصرالدین مرات خان مینار پاکستان کو شکل دینے والا “ترکی النسل انجینئر”

مینار پاکستان کے ڈیزائنر، ترکی النسل نصرالدین مرات خان کا تعلق سابق سوویت یونین کی مسلم ریاست داغستان کے مقام کاکیشیا (کوہ قاف) سے تھا، وہ 1904ء میں ایک راسخ العقیدہ مسلمان فوجی افسر "مرات چائی” کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ روس کے ان مسلمانوں میں سے تھے جنہوں نے روسی استبداد کی آندھیوں میں بھی دین حق کا چراغ جلائے رکھا۔ نصرالدین مرات خان نے 1930ء میں روس کی لینن گراڈ یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹاؤن پلاننگ ،سول انجینئرنگ اور آرکیٹیکٹ میں بھی ڈپلومے حاصل کیے۔ اپنی ذہانت اور لیاقت کے بل بوتے پر نصرالدین نے خوب نام کمایا اور روس کی آرکیٹیکٹس ایسوسی ایشن کے رُکن بن گئے۔

انھوں نے داغستان میں پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ ،ساٹھ ہزار افراد کے لیے ایک ماڈل بستی، ہسپتال اور داغستان کے دارالحکومت ’’مخلشکلا‘‘ میں ’’لینن میموریل‘‘ کے ڈیزائن و منصوبے ترتیب دیے۔ کئی عمارات کے نقشے بنانے پر انھیں روسی حکومت کی جانب سے انعامات بھی ملے۔ تعمیراتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ وہ روسی مسلمانوں کی فلاحی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہرے۔ ان کی یہ سرگرمیاں روسی سامراج کے نزدیک غداری اور سازش ٹھہریں ۔انہیں متعدد بار بغیر مقدمات چلائے جیلوں میں بھی بند رکھا گیا لیکن مرات خان اپنی حریت پسند سرگرمیوں سے باز نہ رہے۔ روسی کمیونسٹ پارٹی نے ان کے نزدیک جاسوسوں کا اس قدر جال بچھا دیا کہ انہیں اس ملک میں دم گھٹنا ہوا محسوس ہونے لگا۔ بالآخر انہوں نے روس کو خیر باد کہا اور جرمنی چلے گئے۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام کا زمانہ تھا اور جرمنی کی بیشتر عمارات تباہ و برباد ہو چکی تھیں۔ تعمیرات کے اس دور میں مرات خان کوجرمن حکومت نے اپنے سول انجینئر کی حیثیت دے دی۔ مرات خان نے جرمنی کے بے گھروں کے لیے رہائشی عمارتیں، دو جدید طرز کے تھیٹر، دو بڑے گرجا گھر اور متعدد عمارات کے ڈیزائن تیار کیے ۔

مزید پڑھیں: جادو کے علاج میں جنات کا علاج

1946ء میں مرات خان کی ملاقات جرمنی میں مقیم ڈاکٹر عبدالحفیظ مالواڈہ سے ہوئی جن کاتعلق لاہور سے تھا۔ ان کا شمار اپنے دور کے نامور اسلحہ سازی اور کیمیا گری کے ماہرین میں ہوتا تھا۔ ان دونوں میں بھی گہری دوستی ہو گئی اور مرات خان نے پاکستان جانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ جرمن حکومت انہیں فارغ کرنے پر آمادہ نہ تھی مگر بڑی کوششوں کے بعد انھوں نے جرمنی کو چھوڑا اور 1950ء میں مستقل طور پر پاکستان آ گئے۔ جون1951ء میں محکمہ تعمیرات نے ان سے اپنی خدمات ادا کرنے کی درخواست کی اور انھیں زیر تعمیر واہ آرڈیننس فیکٹری میں گیریژن انجینئر کے طور پر متعین کر دیا۔ 1953ء سے1958ء تک مرات خان حکومت مغربی پاکستان کے مشیر تعمیرات رہے۔انھوں نے بوریوالہ ٹیکسٹائل ملز،سہالہ پولیس ٹریننگ کالج، قذافی اسٹیڈیم لاہور، ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ لائل پور(فیصل آباد) اور ملتان نشتر ہسپتال اور میڈیکل کالج کے علاوہ مانسہرہ میں دماغی امراض کا ہسپتال اور رہائشی کالونی کے منصوبے بھی تشکیل دیے۔

1959ء میں نصرالدین مرات خان نے اپنی تعمیراتی فرم’’الری‘‘ کی داغ بیل رکھی۔’’الری‘‘ مرات خان میں پائی جانیوالی مضبوط صلاحیتوں اور کام کے جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس ترک لفظ کا مطلب بے جگری سے جنگ لڑنا اور خطرات سے کھیلنا ہے جو مرات خان کی سیمابی طبیعت کی عکاسی کرتا ہے۔ مرات خان نے جتنے بھی ڈیزائن تیار کئے ان میں ان کے اس ذہن کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال مینار پاکستان ہے۔ مرات خان قرارداد پاکستان کی یاد کے حوالے سے بھی ایسا ڈیزائن بنانا چاہتے تھے جس میں جدوجہد آزادی کی مکمل جھلک نظر آئے۔ مرات خان نے نہ صرف رچاؤ، لگن اور خلوص کے ساتھ مینار کا ڈیزائن تیار بلکہ ڈیزائن کی فیس اور نگرانی کے کام کاخطیر معاوضہ بھی نہ لیا اور یہ رقم مینار کی تعمیر میں بطور عطیہ دے دی ۔

مرات خان نے تعمیراتی کام کی نگرانی پر مامور عملہ کو بھی کئی بار اپنی جیب سے تنخواہ دی۔ (جوایک اندازے کے مطابق دو لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے) مرات خان نے مینار پاکستان کے اردگرد ماحول کو خوبصورت بنانے اور مینار کی اہمیت کو چار چاند لگانے کے لیے یہاں مینار کے علاوہ بھی کچھ عمارات کی تعمیرکا خاکہ پیش کیا مگر نامساعد حالات نے ان کے خوابوں کو تعبیر سے ہمکنار نہ ہونے دیا۔ حکومت پاکستان نے مرات خان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں’’تمغۂ امتیاز‘‘ دیا لیکن حقیقت میں وہ ہر قسم کی ستائش اور صلے کی پرواہ کے بغیر اپنے کام پر لگے رہے۔ نصرالدین مرات خان کو 15 اکتوبر 1970ء کو دل کا دورہ پڑا۔ انھیں یوسی ایچ گلبرگ لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے اور اپنے خالق حقیقی کے روبرو پیش ہو گئے۔ ان کے جسد خاکی کو مصری شاہ لاہور کے علاقے میں واقع ’’مالواڈہ‘‘ فیملی کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ یہ قبرستان اب آبادی میں اس قدر گھر چکا ہے کہ اس کی شناخت بھی ممکن نہیں رہی۔