بلاگ

ابن مقنع۔۔۔۔نقاب پوش خُدا

ابن مقنع ایک جھوٹی خدائی کا دعویدار شخص تھا جس کا صحیح نام ہاشم تھا۔ وہ خراسان کے علاقے مرو کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا۔ یہ گاؤں خاصا پسماندہ تھا اور اسلام کی تعلیمات وہاں ابھی درست طریقے سے نہیں پہنچی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہاشم عرف ابن مقنع نے خدائی کا دعویٰ کیا تو بہت سے لوگوں نے اس پر اعتبار کر لیا۔ وہ پیدائشی طور پر خاصا بدصورت اور کالے رنگ کا مالک تھا اس پر جوانی میں اسے چیچک نکل آئی جس کی وجہ سے اس کی بدصورتی کو چار چاند لگ گے۔ جب وہ جوان ہوا تو اپنے والدین کو چھوڑ کر گھر سے بھاگ گیا تھا عرصہ دراز تک اس نے دیار غیر کی خاک چھانی اور خاصا علم حاصل کیا جو خدائی کے دعوے میں اس کے کام آیا پہلے پہل گاؤں میں واپس آنے کے بعد اس نے خود کو نعوذباللہ پیغمبر کہنا شروع کر دیا۔

جب خاصے لوگ اس پر ایمان لے آئے وہ انہیں لے کر ماورالنہر کے علاقے کش میں پہنچ گیا وہ علاقہ اس کے مقاصد پر پورا اترتا تھا کیونکہ وہاں اس نے ایک قلعہ بھی تعمیر کرلیا تھا بلکہ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے جنگ میں بھی اسے مضبوط دفاع فراہم کرتا تھا اور یہ سب کرنے کے لیے پیسہ دولت اس نے اس علاقے سے گزرنے والے قافلوں کو لوٹ کھسوٹ کر حاصل کی، وہ دور دور تک مشہور ہو گیا تھا اور لوگ اسے دیکھنے یا اس سے بحث مباحثہ کرنے آتے تھے اسلیے اس نے اپنی بدصورتی چھپانے کے لیے سونے کا مکوٹا بنوایا اور اسے ہمہ وقت چہرے پر چڑھائے رکھتا اس نے اپنے پیروکاروں پر لوٹ مار حلال کردی تھی بلکہ انہیں حکم دیا کیا وہ اپنے گھر والوں کو بھی قلعے میں آباد کریں، بہت سے لوگوں اور بغداد کے علماء نے اسے جھوٹا کہہ کر معجزہ دکھانے کو کہا تو اس نے ایک نقلی چاند بنایا جو نخشب کے علاقے سے طلوع ہوتا تھا اور صبح کو غروب ہو جاتا تھا اسکی روشنی تیس میل تک پھیلی ہوئی تھی ابن مقنع کے اس تجربے سے بہت سے لوگ گمراہ ہوئے اور اس کو سجدہ کر کے خدا مان لیا۔

اس وقت کے خلیفہ مہدی تک اس کے فتنے کی خبر پہنچی تو اس نے توجہ نہیں دی کیونکہ اس وقت وہ خود بہت سے مسائل میں الجھا ہوا تھا جن میں ایک بنوامیہ کی بغاوت تھی اور دوسری وجہ کش کا قلعہ بہت دشوارگزار اور پہاڑی علاقے میں تھا اس لیے اس نے توجہ نہیں دی اور ویسے بھی اسوقت بہت سے لوگوں کا ایسا دعویٰ ایک عام بات تھی یہ خودبخود جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے تھے اسلیے خلیفہ مہدی نے نظر انداز کر دیا۔ لیکن اس کا نتیجہ بہت بھیانک نکلا ابن مقنع کا فتنہ صرف اس کے علاقے تک محدود نہیں رہا بلکہ دور دور تک پھیل گیا اسکے پیروکار ہر قافلے کو لوٹنے لگے عورتوں اور لڑکیوں کو لونڈیاں بنانے لگے جب ابن مقنع کی طاقت بڑھ گئی تو اس نے علاقے کے حاکموں کو خط روانہ کر دیے۔

جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ خدا اسکی ذات میں منتقل ہو گیا ہے ..نعوذ باللہ.. اس لیے اسے خدا تسلیم کیا جائے اور نظرانے پیش کیے جائے ایسا ہی خط اس نے خلیفہ مہدی کو روانہ کیا جسے پڑھ کر خلیفہ کو اپنی لاپرواہی کا احساس ہوا اور اس نے جواباً اپنی فوج اس فتنے کی سرکوبی کے لیے روانہ کر دی۔ چونکہ خلیفہ مہدی نے اسے معمولی سا آدمی سمجھا اسی لیے مختصر فوج روانہ کر دی جس کا نتیجہ اسلامی فوج کی شکست نکلا۔ شکست کے بعد خلیفہ مہدی نے باقاعدہ پوری جاسوسی اور تیاری کے ساتھ اپنے وزیر معاویہ بن عبداللہ کی سرپرستی میں ایک لشکر اس فتنے کی سرکوبی کے لیے تیار کیا، یہ لشکر بھی ناکام ہو گیا معاویہ بن عبداللہ کی مدد کے لیے مہدی نے مزید کمک بھیجی بہرطور کافی مشکلات اور اپنی فوج کی بہادری کی وجہ سے معاویہ بن عبداللہ قلعے کو فتح کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اپنی شکست دیکھ کر ابن مقنع نے قلعے کو آگ لگا دی اور اپنے پیروکاروں کو اس میں کودنے کا کہا اور خود قلعے سے فرار ہونے کی کوشش کی اس جگہ تاریخ کا اختلاف ہے۔ بعض جگہ مورخین نے لکھا ہے کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو زہر دے دیا تھا۔ بہرحال قلعے سے فرار ہونے کی ناکام کوشش میں وہ پکڑا گیا اور اسے خلیفہ مہدی کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے بھیج دیا گیا لیکن اسنے راستے میں ہی زہر کھا کر خودکشی کر لی۔ ابن مقنع کا چڑھایا ہوا چاند چند دنوں تک آسمان روشن کرتا رہا لیکن ایک دن چاہ نخشب میں ڈوب کر ٹوٹ گیا۔