بلاگ معلومات

نفسی خواب اور استخارے کا خواب

ہم نے خواب کی تین بڑی قسموں؛ الہام، شیطانی خواب اور نفسی خواب میں سے ایک قسم کو نفسی خواب کا نام دیا تھا کہ جس کا مصدر (origin) انسان کا نفس ہوتا ہے۔ فرائیڈ نے نفسی خوابوں کی تین قسمیں بنائی ہیں؛ تمنائی، تشویشی اور تنبیہی۔ ژونگ اور ایڈلر کے نظریہ خواب پر ہم کل کی پوسٹ میں گفتگو کریں گے۔ تمنائی خوابوں کا ذکر ہماری سابقہ تحریروں میں گزر چکا کہ بعض اوقات نفس انسانی میں کسی چیز کی خواہش اور تمنا اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ خواب کی صورت اس خواہش کی تکمیل سے تسکین حاصل کرتا ہے۔اور یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات پانچ دس یا بیس تیس سال پرانی خواہشات بھی خواب کی صورت متشکل ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خواہش جب پیدا ہوتی ہے اور اس کی تکمیل کے ذرائع نہ ہوں تو ہم انہیں اپنے لاشعور کے اسٹور میں پھینک دیتے ہیں۔ جہاں سے پھر کبھی کسی وقت وہ خواب میں آ کر اپنا سر دوبارہ اٹھا لیتی ہیں۔

مثلا اگر کوئی خاتون کہ جس کے بیٹے ہی بیٹے ہوں، خواب میں یہ دیکھے کہ اس کی بیٹی ہے کہ جسے وہ دودھ پلا رہی ہے تو اس خواب کا تعلق اس کی خواہش اور تمنا سے ہے۔ اس خاتون کو بیٹی کی بہت زیادہ تمنا اور خواہش تھی اور جب وہ حقیقی زندگی میں پوری نہ ہوئی تو خواب کی صورت متشکل ہو گئی تا اس کے نفس کو خواہش پورے ہونے کے احساس سے راحت ملے۔ تو ایسے خوابوں کا ایک مقصد نفس کا اپنے آپ کو راحت پہنچانا ہوتا ہے تا کہ اس کی شخصیت کی وحدت برقرار رہے اور اس کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو۔ تو گویا نفس کے خالق نے خود نفس میں ہی اس کی نفسی صحت کے لیے دماغی میکانزم قائم کر دیا ہے۔

تشویشی خوابوں سے مراد وہ خواب ہیں جو نفس انسانی میں تشویش کے نتیجے میں نظر آتے ہوں۔ مثلا اگر کوئی بیٹی بار بار یہ خواب دیکھے کہ اس کی ماں فوت ہو گئی ہے تو اس کی ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ اس بیٹی کو اپنی ماں سے بہت تعلق ہے اور وہ اس پر بہت زیادہ ڈی پینڈینڈ ہے۔ لہذا اب اسے حقیقی زندگی میں ماں کے بچھڑ جانے کا خوف لاحق ہے۔ یہی خوف جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو خواب کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔ تو بہت سے خوابوں کی وجہ ہمارا خوف بھی ہوتا ہے جو ہم میں اضطراب (anxiety) کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے اور یہی اینگزائٹی خواب کی وجہ بن جاتی ہے۔ اگر آپ اپنے امتحان اور پیپر کا بہت زیادہ دباؤ لے لیں گے تو خواب میں آپ اپنی ناکامی ہی دیکھیں گے۔

اسی طرح خواب میں اپنے آپ کو برہنہ یعنی بغیر لباس دیکھنا بھی تشویشی خواب ہے کہ آپ حقیقی زندگی میں کچھ ایسا کر بیٹھے ہیں کہ اب اس کے ظاہر ہو جانے کا خوف لاحق ہے یعنی لوگوں کے سامنے ننگا ہو جانے کا اور یہی تشویش خواب کی وجہ بن جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ کسی اور کو خواب میں برہنہ دیکھیں تو پھر یہ تشویشی خواب نہیں ہے۔ تنبیہی خواب، دراصل نفس کی طرف سے یا فرشتے کی طرف سے تنبیہ ہوتی ہے کہ اپنے معاملات درست کر لو۔ مثلا اگر کوئی خواب دیکھے کہ سورج مغرب سے طلوع ہوا ہے اور قیامت برپا ہے اور وہ توبہ کی طرف مائل ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ اس کے دین میں سستی ہے اور نفس یا فرشتہ اسے قیامت کے تصور سے تنبیہ کر رہا ہے کہ اپنے نفس کے احوال کو سنوار لو، اگر اپنے نفس کی خیر چاہتے ہو۔ تو یہاں بھی انسان کا نفس ہی اس کے خیر اور صلاح کی وجہ بنتا ہے تا کہ حقیقی زندگی میں نفس انسانی کی وحدت قائم رہے اور وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو۔

جہاں تک استخارے کا معاملہ ہے تو اس بارے سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ استخارے کے بعد سونا لازم ہے اور خواب میں کوئی بابا جی آ کر ان کی رہنمائی فرمائیں گے۔ تو یہ استخارے کا بالکل غلط تصور ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ استخارے کا صحیح اور سنت طریقہ تو یہ ہے کہ خود سے استخارہ کرے۔ کسی سے استخارہ کروانا ثابت نہیں ہے۔ دوسرا استخارہ میں آپ دو رکعت نفل نماز پڑھ کر اپنے کسی اہم معاملے مثلا شادی، کاروبار، ملازمت وغیرہ میں اللہ سے مشورہ مانگتے ہیں اور اس کے لیے استخارہ کی مسنون دعا پڑھتے ہیں۔ اور استخارہ کی مسنون دعاء میں یہ موجود ہے کہ یا اللہ، اگر یہ کام میرے حق میں بہتر ہے تو میرے دل کو اس کی طرف مائل کر دے اور میرے لیے اس کام کے رستے کھول دے۔ اور اگر یہ کام میرے حق میں بہتر نہیں ہے تو مجھے اس سے بد دل کر دے اور مجھے اس کے بدلے کہیں اور سے ایسی ہی خیر عطا فرما۔

تو استخارے کی دعا میں کہیں بھی نہ تو سونے کا ذکر ہے اور نہ ہی خواب میں اللہ کی طرف سے رہنمائی کا۔ تو استخارے کا نتیجہ کیسے معلوم ہو گا؟ تو استخارے کا نتیجہ اسی طرح معلوم ہو گا ناں کہ جس طرح آپ نے اللہ سے مانگا ہے۔ آپ نے تو اللہ سے یہ مانگا ہے کہ اگر یہ کام میرے حق میں بہتر ہے تو میرا دل اس کی طرف مائل کر دے۔ تو اگر دل کا میلان ہو گیا ہے تو یہی استخارے کا نتیجہ ہے۔ اور اگر دل کا میلان پہلے سے ہی موجود ہے تو استخارے میں یہ مانگا ہے کہ اس کے رستے میرے لیے آسان کر دے۔ تو اگر اس کام کے رستے آسان ہوتے جا رہے ہیں تو یہی آپ کے استخارے کا نتیجہ ہے۔

اور اگر استخارہ مثبت نہیں آیا ہے تو آپ کا دل اس کام سے ہٹ جائے گا اور آپ کے لیے اس کام میں رکاوٹیں بڑھ جائیں گی کہ یہی آپ نے اللہ سے مانگا ہے۔ باقی خواب کا استخارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم روٹین لائف میں روزانہ خواب دیکھتے ہیں لہذا استخارہ کرنے کے بعد اس رات جو خواب ہمیں نظر آتا ہے، ہم اس سے اپنے استخارے کا نتیجہ کھینچ تان کر نکالنا شروع کر دیتے ہیں جو کہ درست طرز عمل نہیں ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ کسی کو اللہ عزوجل خواب میں بھی رہنمائی کر دیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ اور واضح رہے کہ استخارے کا خواب بہت کلیئر اور واضح ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب خدا سے آپ نے رہنمائی مانگی ہے اور اس نے خواب میں آپ کی رہنمائی کرنی ہے تو وہ آپ سے پہیلیاں نہیں بھجوائے گا۔ بس یہ ذہن میں رکھیں۔ اور اگر استخارے کے نتیجے میں کچھ واضح نہیں ہو رہا کہ کیا کریں تو استخارہ تین دن کر لیں، سات دن کر لیں۔