کالمز

نادر مواقع جو ضائع ہورہے ہیں

آغاز جنرل پرویز مشرف کے دور سے ہوا لیکن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ادوار میں بھی پاکستان مکمل طور پر حالتِ جنگ میں رہا۔ دہشت گردی کی وجہ سے ہم اپنی معیشت کو نمبر ون ترجیح بنا سکے اور نہ اس سے متعلقہ شعبوں کو۔ تاہم پی ٹی آئی کو ایسے وقت میں حکمران بنایا گیا جب پاکستانی قوم اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کے طفیل دہشت گردی کے جن کو بڑی حد تک قابو کر لیا گیا تھا۔

یوں اس حکومت کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ معیشت کو نمبر ون ترجیح بنا کر معمول کے مطابق مضبوط بنیادوں پر استوار کرلے لیکن معیشت کا کیا حشر ہوا، سب کے سامنے ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومتوں میں سیکورٹی فورسز کراچی سے باجوڑ تک دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں مصروف تھیں۔ ایک طرف وزیرستان اور بلوچستان میں آپریشن ہورہے تھے تو دوسری طرف کبھی سوات اور کبھی کراچی میں۔ جب ملک حالتِ جنگ میں ہو اور افواج میدانِ عمل میں تو کسی بھی ملک کے اندر آئیڈیل بنیادوں پر جمہوری اقدار پروان چڑھ سکتی ہیںنہ میڈیا مکمل آزاد ہو سکتا ہے اور نہ ہی حقیقی معنوں میں سول بالادستی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

تب بشیر احمد بلور اور میاں افتخار حسین جیسے اس وقت کے حکمراں بموں اور گولیوں کا سامنا کررہے تھے اور بینظیر بھٹو جیسےسیاستدان بموں سے اڑائے جارہے تھے۔ تب حکمراں اور سیاستدان صرف سیکورٹی فورسز کی حصار میں حرکت کر سکتے تھے۔ تاہم پی ٹی آئی ایسے وقت میں حکمران بنی جب الحمدللہ بڑی حد تک ملک اس حالتِ جنگ سے نکل گیا تھا۔

نہ وزیرستان میں آپریشن ہورہا ہے، بلوچستان میں اور نہ کراچی میں۔ یوں اگر نئی حکومت چاہتی تو ملک کو دوبارہ معمول کی سول بالادستی اور انسانی آزادیوں کی طرف لے جا سکتی تھی لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ سویلین بالادستی، جمہوری اور انسانی آزادیوں اور میڈیا کی آزادی کے حوالوں سے ملک کو الٹ سمت میں لے جایا جارہا ہے۔

گویا سیاستدانوں اور سول اداروں کو کئی سال بعد جو ایک موقع ہاتھ آگیا تھا، وہ ضائع ہوتا جارہا ہے۔پرویز مشرف اور پھر بالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے ادوار میں دہشت گردی کی وجہ سے خوف و ہراس کی فضا پھیلی ہوئی تھی۔ جب جی ایچ کیو پر حملے ہورہے ہوں اور اسلام آباد کا میریٹ ہوٹل نشانہ بن رہا ہوتو پاکستان میں بیرونی سرمایہ کار کیونکر آتے۔ گزشتہ تقریباً دو عشروں میں تمام مغربی ممالک نے پاکستان سے متعلق ٹریول ایڈوئزری جاری کئے تھے۔ برٹش ایئرویز نے سیکورٹی کی وجہ سے یہاں کے لئے فلائٹس بند کی تھیں جبکہ کچھ وقت کے لئے تو پشاور میں عرب ممالک کی ایئر لائنز نے بھی اپنے آپریشنز بند کئے تھے۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان کے اسٹیڈیم ویران ہو گئے تھے۔

پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے خدشات جنم لے چکے تھے اور بیرونی سرمایہ تو کیا آتا، خود پاکستان سے سرمایہ بیرون ملک منتقل ہورہا تھا۔ دوسری طرف صاحب سرمایہ اور صاحب علم لوگ تحفظ کی خاطر بیرون ملک فرار ہورہے تھے لیکن تحریک انصاف کو ایسے عالم میں حکومت دلوائی گئی جب بم دھماکوں کا سلسلہ بڑی حد تک تھم گیا تھا۔ پاکستان سے متعلق ٹریول ایڈوائزریز واپس لینے کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ غیرملکی کرکٹ ٹیمیں پاکستانی آنے لگی تھیں۔ سی پیک کے آغاز کے ساتھ عالمی سرمایہ کاروں کو مثبت پیغام مل چکا تھا۔

یوں بجا طور پر توقع کی جا رہی تھی کہ پی ٹی آئی کی حکومت عالمی سرمایہ کاروں اور ذہانتوں کو پاکستان کی طرف کھینچ لائے گی لیکن افسوس کہ احتساب کے ڈراموں، پکڑ دھکڑ اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف اس موقع سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا بلکہ سرمائے اور ذہانتوں کی ہجرتوں کا سلسلہ خطرناک حد تک تیز ہو گیا۔ یوں خطرہ ہے کہ اس موقع کو اس حوالے سے بھی ضائع کیا جارہا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی مخمصے سے دوچار تھا۔ یہ مخمصہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے شروع ہوا تھا جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے ادوار میں عروج پر رہا۔ مخمصہ یہ تھا کہ امریکہ افغانستان کے حوالے سے اپنے عزائم واضح نہیں کررہا تھا جس کی وجہ سے پاکستان بھی اپنی پالیسی کا ابہام ختم نہیں کر سکتا تھا۔ پاکستان امریکہ کا اتحادی ہو کر بھی مغرب کے زیرِ عتاب تھا۔

امریکہ اور مغربی ممالک اس پر ڈبل گیم کا الزام لگارہے تھے۔ امریکہ افغانستان میں انڈیا کے کردار کو بڑھا رہا تھا اور جواب میں پاکستان بھی طالبان کے بارے میں امریکہ اور افغانستان کے حسبِ منشا پالیسی نہیں اپنا رہا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق پہلا پالیسی بیان جاری کیا تو اس میں پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ استعمال کیا اور الٹا وہاں پر انڈیا کے کردار کو بڑھانے کی بات کی لیکن گزشتہ عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل امریکی حکام اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے رابطوں کے ذریعے وہ پہلی مرتبہ طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہوئے اور پھر واضح انداز میں انخلا کا عندیہ دیا۔

جواب میں پاکستان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں پورے خلوص کے ساتھ تعاون شروع کیا۔ یوں گزشتہ پندرہ بیس سال میں پہلی مرتبہ امریکی صدر ٹرمپ سے لے کر زلمے خلیل زاد تک پاکستان کے کردار کی تعریفیں ہورہی ہیں۔ یوں پاکستان میں کسی حکومت کے پاس یہ نادر موقع ہاتھ آیا ہے کہ وہ امریکہ کی اس محتاجی کو کشمیر کے معاملے میں ہندوستان پر دباؤ اور معیشت کے میدان میں تعاون کیلئے استعمال کرے لیکن یہ موقع بھی ضائع ہوتا نظر آرہا ہے۔

ہمارے وزیراعظم اور وزیرخارجہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقاتوں اور ان کے ثالثی کے ہوائی بیانات پر خوش ہوتے رہے۔ اس دوران اُلٹا ہندوستان نے کشمیر کو ہڑپ کیا لیکن پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کے حسبِ منشا کردار کو کشمیر کے تناظر میں بھارت پر دبائو کے لئے استعمال کیا اور نہ آگے کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اسی طرح موجودہ دور میں امریکہ اور چین کی سرد جنگ کا گرم ہو جانا جہاں پاکستان کے لئے چیلنج ہے، وہاں موقع بھی ہے۔ ہم اس پوزیشن کو دونوں ممالک سے فائدہ لینے کے لئے بھی استعمال کر سکتے ہیں لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا بلکہ نئی حکومت کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف بھاگتی نظر آرہی ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے دو بلاکوں کے بعد اب ملائیشیا اور ترکی جس نئے روپ میں سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اپنے کارڈز کو صحیح طریقے سے استعمال کرکے خارجہ اور اقتصادی محاذوں پران ممالک سے تعاون لے لیکن ہماری حکومت اس حوالے سے بھی افراط و تفریط کا شکار نظر آتی ہے۔ ان بلاکس کی طرف سے صرف دوروں اور بیانات پر اکتفا کیا جارہا ہے۔ کبھی ایک کو خوش کر کے دوسرے کو ناراض کیا جاتا ہے اور کبھی دوسرے کو خوش کرکے پہلے کو ناراض کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کو نادر مواقع کے اس دور میں ایسی حکومت مل گئی جو صرف چیلنجز کا ذکر کرتی ہے، مواقع کا نہیں۔ جو باہر جاکر صرف اپنی مجبوریوں کی بنیاد پر ڈیل کررہی ہے اور دوسروں کی محتاجیوں اور اپنی قوت کی بنیاد پر سودے بازی کی صلاحیت سے عاری ہے۔