خبریں معلومات

نیب کے زیر التواء کیسز — ایک نظر

چھوٹے بڑے سینکڑوں کیسوں میں نیب کے پاس 179 کیس ایسے بھی ہیں جنہیں میگا کیسز کا درجہ دیا گیا تھا — ان کیسز میں سے 101 کیسز کی تحقیقات مکمل کر لئیے جانے کے بعد ان کے خلاف متعلقہ احتساب عدالتوں میں ریفرنس دائر کئیے گئے — جبکہ اس وقت نیب 19 کیسز کی انکوائریاں اور 23 کیسز کی تحقیقات کررہا یے جبکہ 36 کیسز ایسے بھی تھے جن کو نیب پہلے ہی خارج کر چکا تھا

ان 101 زیر التواء کیسوں میں کچھ کیس ایسے بھی ہیں جن میں دو دہائیاں گزرنے پر تین (3) سال قبل سپریم کورٹ کی طرف سے سخت ہدایات دئیے جانے کے باوجود معاملات انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز تک ہی اٹکے ہوئے تھے — مگر نیب کے چئیرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے چارج لینے کے بعد ان میں سے 101 کیسز کے ریفرینس دائر کئے گئے

اگر احتساب عدالتوں میں زیر التواء اور انکوائری مراحل میں پھنسے ان میگا کیسز کا جائزہ لیں تو ان میں جو نمایاں ترین کیس ہیں وہ یہ ہیں:-

1):- دو (2) ارب روپے مالیت کا این آئی سی ایل کیس جس کی تحقیقات 2014ء (یعنی 4 سال پہلے) سے شروع ہوئیں اور تا حال تفتیش جاری ہے — اس کیس میں این آئی سی ایل کے سابق سربراہ ایاز خان نیازی، سلمان غنی، قاسم دادا بھائی, محسن حبیب وڑائچ اور پیپلز پارٹی کے مرحوم رہنما مخدوم امین فہیم سمیت 11 افراد پر زمینوں کی خرید و فروخت میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے — جس سے قومی خزانہ کو دو ارب روپے نقصان پہنچا —

2):- این آئی سی ایل اور فرسٹ داؤد بنک اسکینڈل جس میں ادارے کا سرمایہ غیر قانونی طور پر بنک میں رکھوا کر قومی خزانہ کو 6 کروڑ 40 لاکھ کا نقصان پہنچایا گیا — اس کیس میں این آئی سی ایل کی انویسٹمنٹ کمیٹی میں شامل محمد ظہور، احمد نقوی مرحوم، اعجاز احمد خان اور شہاب صدیقی, چیئرمین طاہر جاوید اکبر اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل ایاز خان نیازی، ہیرا راہی داس، امین قاسم دادا، محمد جاوید سید، سید نوید حسین زیدی مرحوم شامل ہیں

3):- ڈیڑھ ارب مالیت کا ای او بی آئی کیس جو 2013ء سے شروع ہوا اور ابھی تک جے آئی ٹی کی نذر ہے۔ اس کیس میں منڈی بہاؤ الدین سے تحریک انصاف کے مرکزی راہنما نذر گوندل کے سگے بھائی ظفر گوندل مرکزی ملزم ہیں

4):- پی ٹی سی ایل، اتصالات اور نجکاری کمیشن کے خلاف 80 کروڑ ڈالر کا 2013ء میں شروع ہونے والا مقدمہ تاحال زیر تفتیش — اس معاملہ میں نجکاری کمیشن 2006ء سے واجب الادا 80 کروڑ ڈالرز اتصالات سے لینے میں ناکام ہے

5):- اسٹیٹ بنک ،کے ایس بی اور اسلامی بینک کے حکام کے خلاف 5 ارب روپے کی بد عنوانی کا مقدمہ 2016ء سے بدستور زیر تفتیش — اس مقدمہ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے کچھ افسروں کی ملی بھگت سے بینک اسلامی کو 15 ارب روپے کا قرضہ 4.7 فیصد مارک اپ پر دیا جبکہ 4 ارب روپے کا قرضہ0.01 فیصد مارک اپ پر دیا گیا جس سے قومی خزانہ کو سالانہ 44 کروڑ روپے کا نقصان ہوا

6):- اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افسروں نے 2015ء میں بینک اسلامی کو ایک ہزار روپے میں (کے اے ایس بی) بینک کو فروخت کیا جس سے قومی خزانہ کو 19 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ پی اے سی کے بار بار استفسارکے باوجود اسٹیٹ بینک کے نمائندے بینک اسلامی کی انتظامیہ اور کے اے ایس بی بینک کے مالکان میں سنگا پور سے علیم حسین اور دوسرے مالک کا تعلق بحرین سے ہے

7):- ڈی ایچ اے ویلی اسلام آباد کیس 2012ء سے تاحال انکوائری جاری — اس کیس میں جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے سگے بھائی کامران کیانی کے علاوہ, ڈی ایچ اے اسلام آباد کی انتظامیہ اورچئیرمین سی ڈی اے بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک ڈیم کے لئیے مختص جگہ پر ڈی ایچ اے ویلی کی لانچنگ کر ڈالی

8):- چار (4) ارب روپے مالیت کی بدعنوانی کا این ایل سی کیس بھی 2012 ء سے انکوائری کے مرحلے میں — اس کیس میں مبینہ طور پر میجر جنرل (ر) خالق ظہیر اختر, لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد افضل مظفر اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد منیر خان ملوث رہے ہیں

9):- اربوں روپے مالیت کا ریکوڈک کیس گزشتہ تین سال سے انکوائری جاری — اس معاملہ میں 1993ء کی بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی کمپنی بی ایچ پی کے درمیان کمیشن لے کر بےہودہ معاہدہ کیا گیا جس کے تحت چاغی کے پہاڑوں سے نکلنے والے سونے اور تانبے کے ذخائر میں سے صرف 25 فیصد بلوچستان جب کہ 75 فیصد مائننگ کمپنی کی ملکیت ہوں گے۔

10):- وزارت ہاوسنگ کا تین ہزار کینالز زمین کی خریداری کا کیس، 1 ارب 56 کروڑ روپے کی بد عنوانی لیکن 2010ء سے انکوائری تفتیش میں بھی نہ تبدیل ہو سکی۔

11):- ملٹی پروفیشنل کوآپریٹو سوسائٹی کا 1 ارب 20 کروڑ روپے کا اسکینڈل گزشتہ چار سال سے انکوائری کے مرحلے میں،

12):- نیشنل پولیس فاونڈیشن کا 2 ارب 52 کروڑ کا کیس 2013ء سے بدستور جاری،

13):- گرینڈ حیات ٹاور اسکینڈل جو کہ 2 ارب 19 کروڑ مالیت کا ہے مگر بدستور اس پر انکوائری جاری ہے

14):- ایف بی آر کے سابق چئیرمین عبداللہ یوسف اور دیگر حکام کے خلاف قومی خزانے کو 1 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز یعنی ایک ارب 30 کروڑ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی تحقیقات بدستور جاری،

15):- سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف سوہاوہ سے چکوال اور مندرہ سے گجر خان دو رویہ سڑک کی تعمیر کا کیس 2014ء سے ابھی تک نقصان کا تخیمینہ ہی نہیں لگایا جا سکا۔

یہ فہرست بہت طویل ہے جس کا احاطہ ممکن نہیں مگر ایک نظر ان چند کیسز پر ڈالتے ہیں جنہیں نیب نے بند کر دیا ہے:-

1):- سابق ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی منظور قادر پر 30 ارب کی کرپشن کا الزام تھا تاہم منظور قادر کے خلاف نیب ایک بھی ریفرنس دائر نہ کرسکا۔

2):- سابق وزیر تعلیم پیر مظہرالحق کے خلاف 13 ہزار غیر قانونی بھرتیوں کے عوض 5 ارب روپے لینے کی کرپشن کا الزام تھا۔

3):- مکیش کمار چاؤلہ کے خلاف سیکورٹی کیمروں کی خریداری میں کرپشن کا کیس

4):- صوبائی وزیر قانون ضیاء لنجار کے خلاف اثاثہ جات بنانے کا کیس بھی فائلوں کی نذر ہوگیا ہے۔

5):- وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کے خلاف نیب کی تحقیقات بھی مکمل نہیں ہوسکی ہیں

6):- فریال تالپور کے شوہر منور تالپور اور اویس مظفر ٹپی کے خلاف آمدن سے زائد جائیداد اور ناجائز اثاثہ جات کے کیسز بھی بند کر دئیے گئے ہیں۔