اسلام

متعہ ( نکاح یا زنا)

اس دُنیا میں عورت کو مرد کی اور مرد کو عورت کی اس طرح ’’ضرورت‘‘ ہے جیسے ہر انسان کو کھانے پینے کی ’’ضرورت‘‘ ہے۔ اس دور میں انسانیت نے تمام مذاہب سے نکل کر اس’’ضرورت‘‘ کو پورا کرنا ایک پیشہ بنالیا ہے اور بعض کیلئے مجبوری بنا دیا ہے۔ اسلئے لڑکے یا لڑکی کی دوستی کو میڈیا کے ذریعے ضرورت بنایا جا رہاہے، بدکار  عورت اور مساج سنٹر وغیرہ اس ’’جنسی‘‘ خواہش کو پورا کر کے پیسے کما رہے ہیں۔ لڑکیوں کو اغوا کر کے یہ’’ دھندہ‘‘ کرنے والے بھی موجود ہیں۔

مذہب: ہر مذہب نے نکاح کو اہمیت دی ہے اور نکاح کا مطلب بھی اس جنسی خواہش کو پورا کرنا ہے۔…..نکاح: اہلنست کے نزدیک نکاح میں دو شرائط ہیں (1) لڑکی اور لڑکے کا ایک دوسرے کو قبول کرنا (2)کم از کم 2مردگواہ ہونا اور حق مہرواجب ہے۔…..حق مہر: جنسی خواہش پور ی کرنے سے پہلے عورت کاحق مہر( پیسوں) کا مطالبہ کرنا اُس کا شرعی حق ہے اوراگر کوئی مرداپنی بیوی کو حق مہر نہ دے تو بیوی اُس کو جنسی خواہش پوری کرنے سے روک سکتی ہے۔ کم از کم حق مہر 2.75 تولہ چاندی ہے اور زیادہ سے زیادہ(سونا، چاندی، مکان، پلاٹ، کپڑا، خزانہ) کا کوئی تعین نہیں۔….متعہ: اہلسنت کے نزدیک گواہوں کے بغیر پیسے لے کر “متعہ” کرنا جائز نہیں۔ البتہ ابتدائے اسلام میں صحابہ کرام نے متعہ کیا ہے لیکن غزوہ خیبر یا فتح مکہ کے بعد ’’متعہ‘‘ حرام قرار دے دیا گیا جیسے شراب ، سُود وغیرہ کو منع کیا گیا تھا۔ اہلسنت کے متعہ کے حرام ہونے پرق قرآن و احادیث سے دلائل یہ ہیں:

1۔ جو عورتیں تم کو پسند ہیں ان سے نکاح کرو، دو دو، تین تین، اور چار چار سے لیکن اگر تمہیں خدشہ ہو کہ ان کے درمیان انصاف نہیں کر سکو گے تو صرف ایک نکاح کرو یا اپنی کنیزوں پرگذارہ کرو۔ (النساء 3)

2۔ اور جو شخص تم میں سے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ مسلمان کنیزوں سے نکاح کر لے۔ اور یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جسے غلبہ شہوت کی وجہ سے اپنے اوپر زنا کا خطرہ ہو اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔(النساء)

3۔ اور جو لوگ نکاح کی طاقت نہیں رکھتے ان پر لازم ہے کہ وہ ضبط نفس کریں حتی کہ اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے۔( النور33)

4۔ ( لونڈی سے نکاح) اسلئے کہ تم ان کو نکاح کی قید میں لاؤ نہ کہ محض عیاشی کرنے کیلئے (النساء 24)

*ان آیات کے مطابق نکاح چار عورتوں تک کرنا جائز اور نکاح متعہ ہزار عورتوں سے جائز کیسے ہوسکتاہے ۔ لونڈیوں کے ساتھ مباشرت کرناجائز مگر عیاشی کیلئے نہیں اوراگر لونڈی نہ ہو تو صبر کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اگر’’ متعہ ‘‘جائز ہوتا تولونڈی نہ رکھنے کی صورت میں متعہ کی ہدایت کی جاتی۔ متعہ میں محض عیاشی ہوتی ہے اورعورت کی حفاظت صرف نکاح میں ہوتی ہے۔

1۔ سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے کہا کہ کیا آپ نے متعہ کے جواز کا فتوی دیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے کہا انا للہ و انا الیہ راجعون، خدا کی قسم نہ میں نے یہ فتوی دیا اور نہ ہی میں نے یہ ارادہ کیا تھا میں نے اسی صورت میں متعہ کو حلال کہا ہے جس صورت میں اللہ نے مردار، خون اور خنزیر کے گوشت کو حلال فرمایا ہے (المعجم الکبیر)

2۔ رسول اللہ ﷺنے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے متعہ اور پالتو گدھوں کو حرام کر دیا۔ (بخاری)

3۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں متعہ والی عورتوں کے متعلق سُن کر نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ نکاح، طلاق، عدت اور میراث نے متعہ کو حرام کر دیا (مسند ابو یعلی)

4۔ سعید بن مسیبرحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی عمررضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے اگر وہ متعہ کی حرمت بیان نہ کرتے تو علی اعلان زنا ہوتا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا سنو متعہ زنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے عورتوں سے متعہ کو حرام کر دیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے متعہ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ زنا ہے۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ متعہ صرف تین دن ہوا پھر اللہ عزوجل اور اس کے رسول نے اس کو حرام کر دیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا رمضان نے ہر روزہ کو منسوخ کر دیا، زکوۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کر دیا اور طلاق، عدت اور میراث نے متعہ کو منسوخ کر دیا۔(نمبر4میں موجود احادیث ’’ المصنف ‘‘سے ہیں)

اسلئے اہلسنت و جماعت قرآن و احادیث سے ’’متعہ‘‘ کو حرام قرار دیتے ہیں۔