بلاگ

مشکلات، ترقی کی نئی راہیں کھولتی ہیں۔

موجودہ حالات میں مسلسل لاک ڈاؤن کی کیفیت نے لوگوں میں مایوسی اورناامیدی پیدا کردی ہے مگر میرے خیال میں یہ حالات مستقبل میں ہمیں بہت فائدہ دینے والے ہیں ۔ ان کی وجہ سے بے شمارنئی کہانیاں بھی بنیں گی ۔ہم جب اس بحران سے نکلیں گے تو ایک نئی دنیا ہماری منتظر ہوگی ۔وہ وقت بالکل مختلف ہوگا اوردنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردے گا۔ایک کورونا سے پہلے کی دنیا اور ایک کورونا کے بعد ۔ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اس سے پہلے جتنی بھی وبائیں آئی ہیں ان سے دنیا کی معیشت اس انداز میں متاثر نہیں ہوئی، جتنی اب ہوئی ہے ۔موجودہ بحران سے ہر طرح کا طبقہ متاثر ہوچکا ہے ،چاہے وہ انڈسٹری کا مالک ہے ، بزنس مین ہے، نوکری والا ہے یا پھر مزدور طبقہ ،آنے والے دور میں چیلنج شاید اس لحاظ سے بڑھ جائے کہ جو پیسوں کی گردش تھی وہ ختم ہوچکی ہے۔

موجودہ حالات میں لوگوں کی توقعات متاثر ہوئی ہیں ۔بہت سارے لوگ ایسے تھے جو پیسے کمارہے تھے ، اکھٹے کررہے تھے اورپھیلتے جارہے تھے مگر اس بیچ وہ یہ بھول گئے تھے کہ ہمیں سمٹنا بھی پڑ سکتا ہے۔دنیا کا کوئی انسان بھی کاروبار کرتے ہوئے ناکامی کو نہیں سوچتا ، وہ فقط کامیابی کا سوچتا ہے اور تب وہ کامیاب ہوتا ہے ۔اسی طرح دنیا کا کوئی انسان بھی نوکری لیتے ہوئے یہ نہیں سوچتا کہ کبھی یہ ختم بھی ہوجانی ہے ۔مگر چونکہ اب ہمارے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں تو اب سب سے اہم یہ ہے ہم اللہ کی ذات پر اعتماد اور بھروسا رکھیں ۔توکل علی اللہ ہی وہ طاقت ہے جو انسان کی بڑی سے بڑی فکر اور پریشانی کو بھی ختم کردیتی ہے۔اس موقع پر مجھے واصف علی واصف صاحب کا جملہ یادآرہا ہے ۔وہ فرماتے ہیں :’’اتنا پھیلو کہ سمٹنا آسان ہو ۔‘‘یعنی پھیلنے اور ترقی کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ ضرور دیکھیے کہ اگر کل کو سمٹنا پڑجائے توکوئی مشکل نہ ہواور آج ایسا ہی ہورہا ہے ۔ہم اس قدر پھیل چکے تھے کہ اب سمٹنا مشکل ہورہا ہے ۔اس میں ہمیں ایک طرح سے یہ پیغام بھی دیا جارہا ہے کہ ہمیں قناعت کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا۔

ایک بات یاد رکھیں کہ اس طرح کے بحرانوں کے بعد نئے مواقع اور نئی راہیں بھی بہت بنتی ہیں۔نئی طرح کی چیزیں متعارف ہوتی ہیں ۔آنے والاوقت آئی ٹی اورآرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ہے ۔جس میں مارکیٹوں کی اتنی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ دنیا ای کامرس پر جارہی ہے ۔اسی طرح انسانی صلاحیت اور قابلیت پر بھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہ کہ جو لوگ قابل ہوتے ہیں اور کسی بھی ادارے کے لیے ضرورت ہوتے ہیں ان کو بدسے بد تر حالات میں بھی کمپنی سے برخاست نہیں کیا جاتا۔آنے والا دور ہمارے جوانوں کےلیے اس لحاظ سے اہمیت کے قابل ہے کہ اس میں ڈگری سے زیادہ اسکل کی ڈیمانڈ ہوگی اور اسی کے لیے ابھی سے خو د کو پالش کرنے کی ضرورت اوراپنی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے ۔

کہتے ہیں کہ مشکل وقت انسان کو نہ سکھائے تو پھر کوئی چیز بھی نہیں سکھاسکتی ۔آزمائش ،انسان کے ظرف اور صلاحیت کو بڑھانے کے لیے آتی ہے ۔یہ آپ کی تجدید کرتی ہے ۔یہ آپ کو بتاتی ہے کہ آپ دھوکے میں تھے آپ کو حقیقت میں آنا ہے اور حقیقی زندگی جینی ہے ۔آپ کو اسراف نہیں کرنا بلکہ اپنی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کی مدد بھی کرنی ہے ۔اپنے اندر قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ہے جس کی مثال اسلامی تاریخ میں جابجا ملتی ہے کہ اپنے حصے کی روٹی دوسرے ضرورت مند کو کھلادی ۔اگر پانی کا ایک پیالا تھا تو پیاسوں کو پانی پلاتے پلاتے سب کی جان چلی جاتی تھی ۔مہما ن گھر پر آتے تھے تو اپنا دِیا گُل کرکے دوسروں کو کھلاتے تھے ۔یہ سب صرف اللہ کی ذات پر توکل تھا، یہ بھروسا اور یقین تھا کہ جورب آج تک پال رہا ہے اور آج تک دنیا کا نظام چلا رہاہے وہ کل بھی رزق دے گا۔موجودہ حالات میں چیلنجز ضرور ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں رب پر یقین جیسا تحفہ بھی ملا ہوا ہے۔

ہم میں سے بیشتر افراد ایسے ہیں جن کے پاس رز ق کی فراوانی ہے اور دوسروں کی مدد کرسکتے ہیں ۔دوسروں کی مددہر انسان کی اپنی بساط اور استطاعت کے مطابق ہوتی ہے۔اگر کسی انسان کے حالات بہت زیادہ کمزور ہوں اور وہ دوسروںکی مدد نہیں کرسکتا تو وہ دعا تو دے سکتا ہے۔وہ کسی کے کندھے پر تھپکی دے سکتا ہے ، ہمت و حوصلہ اور درست راستہ بتاسکتا ہے،یہ بھی بڑا کام ہے ۔

ہمارے ہاں بہت ساری مثالیں ایسی ہیں کہ جن میں کسی انسان نے صفر سے شروع کیا ہے اور خود کو کامیاب بنادیا بلکہ بعض تو ایسے ہیں کہ جنہوں نے منفی حالات سے شروع کیااور پھر بھی کامیاب رہے ۔ موجودہ حالات میں ہمیں ذہنی طورپرخودکو تیار کرنا ہے کہ اگرچہ آج کے حالات انتہائی کمزور ہیں مگر پھر بھی ہم نے آگے جانا ہے اور ترقی کرنی ہے ۔کہا جاتا ہے کہ لمبی چھلانگ لگانی ہو تو تھوڑا سا پیچھے آنا پڑتا ہے ۔آج کے حالات اگر چہ ہمیں تھوڑا پیچھے دھکیل رہے ہیں مگریہ ہمیں بڑا دھکابھی لگائیں گے ۔
ان حالات نے ہمیں یہ بھی باور کرادیا کہ ہم بہت بڑی غلط فہمی کا شکار تھے ۔ہم اگر ہفتے میں دو بار ہوٹل کا کھانا نہ کھائیں تب بھی زندگی جی سکتے ہیں ۔تعلیم کے لیے بچوں کوبڑے بڑے اسکولوں میں داخل نہ کرائیں تودادادادی اور نانا نانی کے قصے کہانیاں بھی اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں ۔ہمارے آنگن ویران پڑے تھے وہ آباد ہوگئے ہیں ۔چند دن قبل میں اپنے دفتر کی چھت پر گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں سے درخت کتنے خوبصورت نظر آرہے تھے جو میں نے کبھی دیکھے نہیں تھے۔ان تمام حالات میں اگر ہم صرف ایک مہینے پہلے کے وقت کو دیکھ لیں جس میں مصروفیت اس قدر زیادہ تھی کہ لوگ ایک دوسرے کو وقت ہی نہیں دیتے تھے جبکہ آج دیکھیں تو ہمارے پاس وقت ہی وقت ہے ۔ہمارے پا س اتنا وقت ہے کہ ہم اپنی فیملی کو دے سکتے ہیں ۔اپنے رشتوں کو بحال کرسکتے ہیں ۔اپنے تعلقات ٹھیک کرسکتے ہیں ۔اپنی صحت بہتر بناسکتے ہیں ۔اس رُکنے اور وقفے نے بہت ساری چیزوں کو ٹھیک اور مثبت کیا ۔ہمیں موجودہ حالات میں اپنے رب پر مکمل بھروسا رکھنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آنے والے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ذہنی اور عملی طورپر تیار کرنا ہے اور اس تیاری کے لیے آج کا وقت ہمارے پاس ایک عظیم موقع ہے ۔