ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

ابتدائی مسلمانوں کا صبر و ثبات اور اس کے اسباب و عوامل

آپﷺ کی زبان سے جو بات نکل گئی، دشمنوں کو بھی یقین ہوگیا کہ وہ سچی ہے اور ہو کر رہے گی۔ واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔یہاں پہنچ کر گہری سوجھ بوجھ اور مضبوط دل و دماغ بھی حیرت زدہ رہ جاتا ہے اور بڑے بڑے عقلاء دم بخود ہوکر پوچھتے ہیں کہ آخر وہ کیا اسباب و عوامل تھے جنہوں نے مسلمانوں کو اس قدر انتہائی اور معجزانہ حد تک ثابت قدم رکھا؟ آخر مسلمانوں نے کس طرح ان بے پایاں مظالم پر صبر کیا جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل لرز اٹھتا ہے۔ بار بار کھٹکنے اور دل کی تہوں سے ابھرے والے اس سوال کے پیش نظر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان اسباب و عوامل کی طرف ایک سرسری اشارہ کر دیا جائے۔

1۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم سبب اللہ کی ذات واحد پر ایمان اور اس کی ٹھیک ٹھیک معرفت ہے کیونکہ جب ایمان کی بشاشت دلوں میں جانں گزیں ہوجاتی ہے تو وہ پہاڑیوں سے ٹکراجاتا ہے اور اس کا پلہ بھاری رہتا ہے اور جو شخص ایسے ایمان محکم اور یقین کامل سے بہرہ ور ہو وہ دنیا کی مشکلات کو۔۔۔ خواہ وہ جتنی بھی زیادہ ہوں اور جیسی بھی بھاری بھرکم، خطرناک اور سخت ہوں ۔

اپنے ایمان کے بالمقابل اس کائی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا جو کسی بند توڑ اور قلعہ شکن سیلاب کی بالائی سطح پر جم جاتی ہے، اس لیے مومن اپنے ایمان کی حلاوت، یقین کی تازگی اور اعتقاد کی بشاشت کے سامنے ان مشکلات کی کوئی پروا نہیں کرتا کیونکہ:
”جو جھاگ ہے وہ تو بے کار ہو کر اُڑ جاتا ہے اور جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے وہ زمین میں برقرار رہتی ہے۔
“پھر اسی ایک سبب سے ایسے اسباب وجود میں آتے ہیں جو اس صبر و ثبات کو قوت بخشتے ہیں مثلاً:

2۔ پرکشش قیادت: نبی اکرمﷺ جو امت اسلامیہ ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت کے سب سے بلند پایہ قائد و رہمنا تھے۔ ایسے جسمانی جمال، نفسانی کمال، کریمانہ اخلاق، باعظمت کردار اور شریفانہ عادات و اطوار سے بہرہ ور تھے کہ دل خود بخود آپﷺ کی جانب کھنچے جاتے تھے اور طبیعتیں خود بخود آپﷺ پر نچھاور ہوتی تھیں کیونکہ جن کمالات پر لوگ جان چھڑکتے ہیں ان سے آپﷺ کو اتنا بھرپور حصہ ملا تھا کہ اتنا کسی اور انسان کو دیا ہی نہیں گیا۔

آپﷺ شرف و عظمت اور فضل و کمال کی سب سے بلند چوٹی پر جلوہ فگن تھے۔ عفت و امانت صدق و صفا اور جملہ امور خیر میں آپﷺ کا وہ امتیازی مقام تھا کہ رفقاء تو رفقاء آپﷺ کے دشمنوں کو بھی آپﷺ کی یکتائی و انفرادیت پر کبھی شک نہ گزرا۔ آپﷺ کی زبان سے جو بات نکل گئی، دشمنوں کو بھی یقین ہوگیا کہ وہ سچی ہے اور ہوکر رہے گی۔ واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔

ایک بار قریش کے ایسے تین آدمی اکٹھے ہوئے جن میں سے ہر ایک نے اپنے بقیہ دو ساتھیوں سے چھپ کر تن تنہا قرآن مجید سنا تھا لیکن بعد میں ہر ایک کا راز دوسرے پر فاش ہو گیا تھا۔ ان ہی تینوں میں سے ایک ابو جہل بھی تھا۔ تینوں اکٹھے ہوئے تو ایک نے ابوجہل سے دریافت کیا کہ بتاﺅ تم نے جو کچھ محمدﷺ سے سنا ہےا س کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے؟ ابوجہل نے کہا: میں نے کیا سنا ہے؟بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے اور بنو عبد مناف نے شرف و عظمت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے غربا مساکین کو کھلایا توہم نے بھی کھلایا، انہوں نے داد دہش میں سواریاں عطا کیں تو ہم نے بھی عطا کیں، انہوں نے لوگوں کو عطیات سے نوازا تو ہم نے بھی ایسا کیا‘ یہاں تک کہ جب ہم اور وہ گھٹنوں گھٹنوں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوگئے اور ہماری اور ان کی حیثیت ریس کے دو مدمقابل گھوڑوں کی ہوگئی تو اب بنو عبدمناف کہتے ہیں کہ ہمارے اندر ایک نبیﷺ ہے جس کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔

بھلا بتایئے ہم اسے کب پاسکتے ہیں۔ خدا کی قسم! ہم اس شخص پر کبھی ایمان نہ لائیں گے اور اس کی ہرگز تصدیق نہ کریں گے، چنانچہ ابوجہل کہا کرتا تھا: اے محمدﷺ ہم تمہیں جھوٹا نہیں کہتے، لیکن تم جو کچھ لے کر آئے ہو اس کی تکذیب کرتے ہیں اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:ترجمہ: ”یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔“

اس واقعے کی تفصیل گزرچکی ہے کہ ایک روز کفار نے نبیﷺ کو تین بار لعن طعن کی اور تیسری دفعہ میں آپﷺ نے فرمایا کہ اے قریش کی جماعت! میں تمہارے پاس ذبح کا حکم لیکر آیا ہوں تو یہ بات ان پراس طرح اثر کرگئی کہ جو شخص عداوت میں سب سے بڑھ کر تھا وہ بھی بہتر سے بہتر جو جملہ پاسکتا تھا اس کے ذریعے آپﷺ کو راضی کرنے کی کوشش میں لگ گیا۔ اسی طرح اس کی بھی تفصیل گزرچکی ہے کہ جب حالت سجدہ میں آپﷺپراو جھڑی ڈالی گئی اور آپﷺ نے سر اٹھانے کے بعد اس حرکت کے کرنے والوں پر بددعا کی تو ان کی ہنسی ہوا ہوگئی اور ان کے اندر غم و قلق کی لہر دوڑ گئی۔

انہیں یقین ہوگیا کہ اب ہم بچ نہیں سکتے۔یہ واقعہ بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ آپﷺ نے ابو لہب کے بیٹے عتیبہ پر بددعا کی تو اسے یقین ہوگیا کہ وہ آپﷺ کی بددعا کی زد سے بچ نہیں سکتا، چنانچہ اس نے ملک شام کے سفر میں شیر کو دیکھتے ہی کہا: واللہ محمدﷺ نے مکہ میں رہتے ہوئے مجھے قتل کردیا۔ابی بن خلف کا واقعہ ہے کہ وہ بار بار آپﷺ کو قتل کی دھمکیاں دیا کرتا تھا، ایک بار آپﷺ نے جواباً فرمایا کہ تم نہیں بلکہ میں تمہیں قتل کروں گا، انشاء اللہ۔

اس کے بعد جب آپﷺ نے جنگ احد کے روز ابی کی گردن پر نیزہ مارا تو اگرچہ اس سے معمولی خراش آئی تھی لیکن ابی برابر یہی کہے جارہا تھا کہ محمدﷺ نے مجھ سے مکہ میں کہا تھا کہ میں تمہیں قتل کروں گا اس لیے اگر وہ مجھ پر تھوک ہی دیتا تو بھی میری جان نکل جاتی۔

اس طرح ایک بار حضرت سعد بن معاذ نے مکے میں امیہ بن خلف سے کہہ دیا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان تمہیں قتل کریں گے تو اس سے امیہ پر سخت گھبراہٹ طاری ہوگئی جو مسلسل قائم رہی چنانچہ اس نے عہد کرلیا کہ وہ مکے سے باہر ہی نہ نکلے گا۔

اور جب جنگ بدر کے موقع پر ابوجہل کے اصرار سے مجبور ہوکر نکلنا پڑا تو اس نے مکے کا سب سے تیز رو اونٹ خریدا تاکہ خطرے کی علامات ظاہر ہوتے ہی چمپت ہو جائے، ادھر جنگ میں جانے پر آمادہ دیکھ کر اس کی بیوی نے بھی ٹوکا کہ ابو صفوان: آپ کے یثربی بھائی نے جو کچھ کہا تھا اسے آپ بھول گئے؟ ابو صفوان نے جواب میں کہا کہ نہیں بلکہ میں خدا کی قسم ان کے ساتھ تھوڑی ہی دور جاﺅں گا۔

یہ تو آپﷺ کے دشمنوں کا حال تھا۔ باقی رہے آپﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہ اور رفقا تو آپﷺ تو ان کے لیے دیدہ و دل اور جان و روح کی حیثیت رکھتے تھے، ان کے دل کی گہرائیوں سے آپﷺ کے لیے حب صادق کے جذبات اس طرح ابلتے تھے جیسے نشیب کی طرف پانی بہتا ہے اور جان و دل اس طرح آپﷺ کی طرف کھنچتے تھے جیسے لوہا مقناطیس کی طرف کھنچتا ہے۔

ترجمہ:”آپ کی صورت ہر جسم کا ہیولیٰ تھی اور آپ کا وجود ہر دل کے لیے مقناطیس“ اس محبت و فداکاری اور جاں نثاری و جاں سپاری کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ اکرام کو یہ گوارا نہ تھا کہ آپﷺ کے ناخن میں خراش تک آجائے یا آپﷺ کے پاﺅں میں کانٹا ہی چبھ جائے خواہ اس کے لیے ان کی گردنیں ہی کیوں نہ کاٹ دی جائیں۔

ایک روز ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بری طرح کچل دیا گیا اورا نہیں سخت مار ماری گئی۔ عتبہ بن ربیعہ ان کے قریب آکر انہیں دو پیوند لگے ہوئے جوتوں سے مارنے لگا۔ چہرے کو خصوصیت سے نشانہ بنایا۔ پھر پیٹ پر چڑھ گیا۔ کیفیت یہ تھی کہ چہرے اور ناک کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ پھر ان کے قبیلہ بنوتیم کے لوگ انہیں ایک کپڑے میں لپیٹ کر گھر لے گئے۔

انہیں یقین تھا کہ اب یہ زندہ نہ بچیں گے لیکن دن کے خاتمے کے قریب ان کی زبان کھل گئی۔ (اور زبان کھلی تو یہ) بولے کہ رسول اللہﷺ کیا ہوئے؟ اس پر بنو تیم نے انہیں سخت سست کہا، ملامت کی اور ان کی ماں ام الخیر سے یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے کہ انہیں کچھ کھلا پلا دینا۔ جب وہ تنہا رہ گئیں تو انہوں نے ابو بکررضی اللہ عنہ سے کھانے پینے کے لیے اصرار کیا لیکن ابو بکر رضی اللہ عنہ یہی کہتے رہے کہ رسول اللہﷺ کا کیا ہوا؟ آخرکار ام الخیر نے کہا‘ مجھے تمہارے ساتھی کا حال معلوم نہیں۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ام جمیل بنت خطاب کے پاس جاﺅ اور اس سے دریافت کرو۔“ وہ ام جمیل کے پاس گئیں اور بولیں: ابوبکر تم سے محمد بن عبداللہ ﷺ کے بارے میں دریافت کررہے ہیں۔ ام جمیل نے کہا: میں نہ ابوبکررضی اللہ عنہ کو جانتی ہوں نہ محمد بن عبداللہﷺ کو۔ البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے ساتھ تمہارے صاحبزادے کے پاس چل سکتی ہوں۔ ام الخیر نے کہا بہتر ہے۔

اس کے بعد ام جمیل ان کے ہمراہ آئیں، دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ انتہائی خستہ حال پڑے تھے۔ پھر قریب ہوئیں تو چیخ پڑیں اور کہنے لگیں جس قوم نے آپ کی یہ درگت بنائی ہے وہ یقیناً بدقماش اور کافر قوم ہے، مجھے امید ہے کہ اللہ آپ کا بدلہ ان سے لے کر رہے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: رسول اللہﷺ کیا ہوئے؟ انہوں نے کہا یہ آپ کی ماں سن رہی ہیں۔
کہا کوئی بات نہیں۔ بولیں آپ صحیح سالم ہیں۔ پوچھا کہاں ہیں؟ کہا ابن ارقم کے گھر میں ہیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا تو پھر اللہ کے لیے مجھ پر عہد ہے کہ میں نہ کوئی کھانا کھاﺅں گا نہ پانی پیوں گا یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاﺅں۔ اس کے بعد ام الخیر اور ام جمیل رکی رہیں۔ جب آمدورفت بند ہوگئی اور سناٹا چھا گیا تو یہ دونوں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لے کر نکلیں۔

وہ ان پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور اس طرح انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہﷺ کی خدمت میں پہنچا دیا۔
محبت و جان سپاری کے کچھ اور بھی نادر واقعات ہم اپنی اس کتاب میں موقع بہ موقع نقل کریں گے خصوصاً جنگ احد کے واقعات اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے حالات کے ضمن میں۔

3۔ احساس ذمہ داری۔۔۔۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ یہ مشت خاک جسے انسان کہا جاتا ہے اس پر کتنی بھاری بھر کم اور زبردست ذمہ داریاں ہیں اور یہ کہ ان ذمہ داریوں سے کسی صورت میں گریز اور پہلو تہی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس گریز کے جو نتائج ہوں گے وہ موجودہ ظلم و ستم سے زیادہ خوفناک اور ہلاکت آفریں ہوں گے اور اس گریز کے بعد خود ان کو اور ساری انسانیت کو جو خسارہ لاحق ہوگا وہ اس قدر شدید ہوگا کہ اس ذمہ داری کے نتیجہ میں پیس آنے والی مشکلات اس خسارے کے مقابل کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔

4۔ آخرت پر ایمان۔۔ جو مذکورہ احساس ذمہ داری کی تقویت کا باعث تھا صحابہ کرام رضوان اللہ عنہا اس بات پر غیر متزلزل یقین رکھتے تھے کہ انہیں رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونا ہے، پھر ان کے چھوٹے بڑے اور معمولی و غیر معمولی ہر طرح کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ اس کے بعد یا تو نعمتو ں بھری دائمی جنت ہوگی یا عذاب سے بھڑکتی ہوئی جہنم۔ اس یقین کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اپنی زندگی امید و بیم کی حالت میں گزارتے تھے، یعنی اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتے تھے اور اس کے عذاب کا خوف بھی اور ان کی کیفیت وہی رہتی تھی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ”وہ جو کچھ کرتے ہیں دل کے اس خوف کے ساتھ کرتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کے پاس پلٹ کر جانا ہے“
انہیں اس کا بھی یقین تھا کہ دنیا اپنی ساری نعمتوں اور مصیبتوں سمیت آخرت کے مقابل مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں اور یہ یقین اتنا پختہ تھا کہ اس کے سامنے دنیا کی ساری مشکلات مشقتیں اور تلخیاں ہیچ تھیں۔اس لیے وہ ان مشکلات اور تلخیوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔

5۔ ان ہی پُرخطر، مشکل ترین اور تیرہ و تار حالات میں ایسی سورتیں اور آیتیں بھی نازل ہورہی تھیں جن میں بڑے ٹھوس اور پرکشش انداز سے اسلام کے بنیادی اصولوں پر دلائل و براہین قائم کئے گئے تھے، اور اس وقت اسلام کی دعوت انہی اصولوں کے گرد گردش کررہی تھی۔ ان آیتوں میں اہل اسلام کو ایسے بنیادی امور بتلائے جارہے تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے عالم انسانیت کے سب سے باعظمت اور پر رونق معاشرے یعنی اسلامی معاشرے کی تعمیر و تشکیل مقدر کر رکھی تھی نیز ان آیات میں مسلمانوں کے جذبات و احساسات کو پامردی و ثابت قدمی پر ابھاراجارہا تھا۔اس کے لیے مثالیں دی جارہی تھیں اور اس کی حکمتیں بیان کی جاتی تھیں۔ ترجمہ: ”تم سمجھتے ہو کہ جنت میں چلے جاﺅ گے حالانکہ ابھی تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ سختیوں اور بدحالیوں سے دو چار ہوئے اور انہیں جھنجھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ ان پر ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی! سنو! اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔“

ترجمہ:”الم۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ انہیں یہ کہنے پر چھوڑدیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی حالانکہ ان سے پہلے جو لوگ تھے ہم نے ان کی آزمائش کی لہٰذا ان کے بارے میں اللہ یہ ضرور معلوم کرے گا کہ کن لوگوں نے سچ کہا اور یہ بھی ضرور معلوم کرے گا کہ کون لوگ جھوٹے ہیں۔“

اور انہی کے پہلو بہ پہلو ایسی آیات کا نزول بھی ہورہا تھا جن میں کفارو معاندین کے اعتراضات کے دندان شکن جواب دیئے گئے تھے، ان کے لیے کوئی حیلہ باقی نہیں چھوڑا گیا تھا اور انہیں بڑے واضح اور دوٹوک الفاظ میں مبتلا دیا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی گمراہی اور عناد پر مصر رہے تو اس کے نتائج کس قدر سنگین ہوں گے۔

اس کی دلیل میں گذشتہ قوموں کے ایسے واقعات اور تاریخی شواہد پیش کئے گئے تھے جن سے واضح ہوتا تھا کہ اللہ کی سنت اپنے اولیاء اور اعداء کے بارے میں کیا ہے، پھر اس ڈراوے کے پہلو بہ پہلو لطف و کرم کی باتیں بھی کہی جارہی تھیں اور افہام و تفہیم اور ارشاد و رہنمائی کا حق بھی ادا کیا جا رہا تھا تاکہ باز آنے والے اپنی کھلی گمراہی سے باز آسکیں۔

درحقیقت قرآن مسلمانوں کو ایک دوسری ہی دنیا کی سیر کراتا تھا اور انہیں کائنات کے مشاہد ربوبیت کے جمال الوہیت کے کمال رحمت و رافت کے آثار اور لطف و رضا کے ایسے ایسے جلوے دکھاتا تھا کہ ان کے جذب و شوق کے آگے کوئی رکاوٹ برقرار ہی نہ رہ سکتی تھی۔

پھر انہیں آیات کی تہ میں مسلمان سے ایسے ایسے خطاب بھی ہوتے تھے جن میں پروردگار کی طرف سے رحمت و رضوان اور دائمی نعمتوں سے بھری ہوئی جنت کی بشارت ہوتی تھی اور ظالم و سرکش دشمنوں اور کافروں کے ان حالات کی تصویرکشی ہوتی تھی کہ وہ رب العالمین کی عدالت میں فیصلے کیلئے کھڑے کئے جائیں گے، ان کی بھلائیاں اور نیکیاں ضبط کر لی جائیں گی اور انہیں چہروں کے بل گھسیٹ کر یہ کہتے ہوئے جہنم میں پھینک دیا جائے گا کہ لو جہنم کا لطف اٹھاﺅ۔

6۔ کامیابی کی بشارتیں ۔۔۔۔ ان ساری باتوں کے علاوہ مسلمانوں کو اپنی مظلومیت کے پہلے ہی دن سے ۔۔۔۔۔ بلکہ اس کے بھی پہلے سے۔۔۔۔ معلوم تھا کہ اسلام قبول کرنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ دائمی مصائب اور ہلاکت خیزیاں مول لے لی گئیں بلکہ اسلامی دعوت روز اول سے جاہلیت جہلا اور اس کے ظالمانہ نظام کے خاتمے کے عزائم رکھتی ہے اور اس دعوت کا ایک اہم نشانہ یہ بھی ہے کہ وہ روئے زمین پر اتنا اثرونفوذ پھیلائے اور دنیا کے سیاسی موقف پر اس طرح غالب آجائے کہ انسانی جمعیت اور اقوام عالم کو اللہ کی مرضی کی طرف لے جا سکے۔اور انہیں بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کر سکے۔

قرآن مجید میں یہ بشارتیں۔۔۔ کبھی اشارةً اور کبھی صراحةً نازل ہوئی تھیں۔ چنانچہ ایک طرف حالات یہ تھے کہ مسلمانوں پر پوری روئے زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تنگ بنی ہوئی تھی اورا یسا لگتا تھا کہ اب وہ پنپ نہ سکیں گے بلکہ ان کا مکمل صفایا کردیا جائے گا مگر دوسری طرف ان ہی حوصلہ شکن حالات میں ایسی آیات کا نزول بھی ہوتا رہتا تھا جن میں پچھلے انبیاء کے واقعات اور ان کی قوم کی تکذیب و کفر کی تفصیلات مذکور ہوتی تھیں اور ان آیات میں ان کا جو نقشہ کھینچا جاتا تھا وہ بعینہ وہی ہوتا تھا جو مکے کے مسلمانوں اور کافروں کے مابین درپیش تھا اس کے بعد یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ ان حالات کے نتیجے میں کسی طرح کافروں اور ظالموں کو ہلاک کیا گیا اور اللہ کے نیک بندوں کو روئے زمین کا وارث بنایا گیا۔
اس طرح ان آیات میں واضح اشارہ ہوتا تھا کہ آگے چل کر اہل مکہ ناکام و نامراد رہیں گے اور مسلمان اور ان کی اسلامی دعوت کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ پھر ان ہی حالات و ایام میں بعض ایسی بھی آیتیں نازل ہوجاتی تھیں جن میں صراحت کے ساتھ اہل ایمان کے غلبے کی بشارت موجود ہوتی تھی۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تررجمہ: ”اپنے فرستادہ بندوں کے لیے ہمارا پہلے ہی یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ ان کی ضرور مدد کی جائے گی اور یقیناً ہمارا ہی لشکرغالب رہے گا، پس (اے نبیﷺ) ایک وقت تک کے لیے تم ان سے رخ پھیر لو اور انہیں دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔

کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں تو جب وہ ان کے صحن میں اتر پڑے گا تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہو جائے گی۔“ نیز ارشاد ہے۔ ”عنقریب اس جمعیت کو شکست دے دی جائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔“
ترجمہ: ”یہ جتھوں میں سے ایک معمولی سا جتھہ ہے جسے یہیں شکست دی جائے گی۔“ مہاجرین حبشہ کے بارے میں ارشاد ہوا۔

ترجمہ۔”جن لوگوں نے مظلومیت کے بعد اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہم انہیں یقیناً دنیا میں بہترین ٹھکانا عطا کریں گے۔ اور آخرت کا اجر بہت ہی بڑا ہے اگر لوگ جانیں۔“ اسی طرح کفار نے رسول اللہﷺ سے حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ پوچھا تو جواب میں ضمناً آیت نازل ہوئی۔ ”یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعے میں پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“یعنی اہل مکہ جو آج حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ پوچھ رہے ہیں یہ خود بھی اسی طرح ناکام ہوں گے جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی ناکام ہوئے تھے اور ان کی سپر اندازی کا وہی حال ہوگا جو ان کے بھائیوں کا ہوا تھا۔ انہیں حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے واقعے سے عبرت پکڑنی چاہیے کہ ظالم کا حشر کیا ہوتا ہے۔ ایک جگہ پیغمبروں کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا: ترجمہ: ”کفار نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ ہم انہیں اپنی زمین سے ضرور نکال دیں گے یا یہ کہ تم ہماری ملت میں واپس آجاﺅ۔

اس پر ان کے رب نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ہم ظالموں کو یقینا ہلاک کر دیں گے، یہ وعدہ اس شخص کے لیے جو میرے پاس کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے ڈرے۔“اسی طرح جس وقت فارس وروم میں جنگ کے شعلے بھڑک رہے تھے اور کفار چاہتے تھے کہ فارسی غالب آجائیں کیونکہ فارسی مشرک تھے اور مسلمان چاہتے تھے کہ رومی غالب آجائیں کیونکہ رومی بہرحال اللہ پر، پیغمبروں پر، وحی پر، آسمانی کتابوں پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے کے دعویدار تھے لیکن غلبہ فارسیوں کو حاصل ہوتا جارہا تھا تو اس وقت اللہ نے یہ خوشخبری نازل فرمائی کہ چند برس بعد رومی غالب آجائیں گے لیکن اسی ایک بشارت پر اکتفا نہ کی بلکہ اس ضمن میں یہ بشارت بھی نازل فرمائی کی رومیوں کے غلبے کے وقت اللہ تعالیٰ مومنین کی بھی خاص مدد فرمائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔

چنانچہ ارشاد ہے۔ترجمہ: ”یعنی اس دن اہل ایمان بھی اللہ کی (ایک خاص) مدد سے خوش ہو جائیں گے۔“ (اور آگے چل کر اللہ کی یہ مدد جنگ بدر کے اندر حاصل ہونے والی عظیم کامیابی اور فتح کی شکل میں نازل ہوئی۔) قرآن کے علاوہ خود رسول اللہﷺ بھی مسلمانوں کو وقتاً فوقتاً اس طرح کی خوشخبری سنایا کرتے تھے، چنانچہ موسم حج میں آپ عکاظ، مجنہ اور ذوالجاز کے بازاروں میں لوگوں کے اندر تبلیغ رسالت کے لیے تشریف لے جاتے تو صرف جنت ہی کی بشارت نہیں دیتے تھے بلکہ دو ٹوک لفظوں میں اس کا بھی اعلان فرماتے تھے:ترجمہ: ”لوگو! لاالہ الا اللہ کہو، کامیاب رہو گے، اور اس کی بدولت عرب کے بادشاہ بن جاﺅ گے اور اس کی وجہ سے عجم بھی تمہارے زیر نگیں آ جائے گا، پھر جب تم وفات پاﺅ گے تو جنت کے اندر بادشاہ رہو گے۔“

یہ واقعہ پچھلے صفحات میں گزرچکا ہے کہ جب عتبہ بن ربیعہ نے آپﷺ کو متاع دنیا کی پیشکش کرکے سودے بازی کرنی چاہی اور آپﷺ نے جواب میں حم تنزیل السجدہ کی آیات پڑھ کر سنائیں تو عتبہ کو یہ توقع بندھ گئی کہ انجام کار آپﷺ غالب رہیں گے۔ اسی طرح ابوطالب کے پاس آنے والے قریش کے آخری وفد سے آپﷺ کی جو گفتگو ہوئی تھی اس کی بھی تفصیلات گزر چکی ہیں۔

اس موقعے پر بھی آپﷺ نے پوری صراحت کے ساتھ فرمایا تھا کہ آپﷺ ان سے صرف ایک بات چاہتے ہیں جسے وہ مان لیں تو عرب ان کا تابع فرمان بن جائے اور عجم پر ان کی بادشاہت قائم ہوجائے۔حضرت خباب بنج ارت کا ارشاد ہے کہ ایک بار میں خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوا۔ آپﷺ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنائے تشریف فرما تھے۔ اس وقت ہم مشرکین کے ہاتھوں سختی سے دوچار تھے۔

میں نے کہا: کیوں نہ آپﷺ اللہ سے دعا فرمائیں۔ یہ سن کر آپﷺ اُٹھ بیٹھے، آپﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپﷺ نے فرمایا جو لوگ تم سے پہلے تھے ان کی ہڈیوں تک گوشت اور اعصاب میں لوہے کی کنگھیاں کردی جاتی تھیں لیکن یہ سختی بھی انہیں دین سے باز نہ رکھتی تھی۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: اللہ اس امر کو یعنی دین کو مکمل کرکے رہے گا۔ یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک جائیگا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔

البتہ بکری پر بھیڑیے کا خوف ہوگا۔ ایک روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ لیکن تم لوگ جلدی کررہے ہو۔ یاد رہے کہ یہ بشارتیں کچھ ڈھکی چھپی نہ تھیں بلکہ معروف و مشہور تھیں اور مسلمانوں ہی کی طرح کفار بھی ان سے واقف تھے، چنانچہ جب اسود بن مطلب اور اس کے رفقا صحابہ کرام کو دیکھتے تو طعنہ زنی کرتے ہوئے آپس میں کہتے کہ لیجیے آپ کے پاس روئے زمین کے بادشاہ آ گئے ہیں۔یہ جلد ہی شاہان قیصروکسریٰ کو مغلوب کرلیں گے۔ اس کے بعد وہ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے۔
بہرحال صحابہ کرام کے خلاف اس وقت ظلم و ستم اور مصائب و آلام کا جو ہمہ گیر طوفان برپا تھا اس کی حیثیت حصول جنت کی ان یقینی امیدوں اور تابناک و پروقار مستقبل کی ان بشارتوں کے مقابل اس بادل سے زیادہ نہ تھی جو ہوا کے ایک ہی جھٹکے سے بکھر کر تحلیل ہوجاتا ہے۔

علاوہ ازیں رسول اللہﷺ اہل ایمان کو ایمانی مرغوبات کے ذریعے مسلسل روحانی غذا فراہم کررہے تھے۔ تعلیم کتاب و حکمت کے ذریعے ان کے نفوس کا تزکیہ فرما رہے تھے۔ نہایت دقیق اور گہری تربیت دے رہے تھے اور روح کی بلندی، قلب کی صفائی، اخلاق کی پاکیزگی، مادیات کے غلبے سے آزادی، شہسوات کی مقاومت اور رب السمٰوات و الارض کی کشش کے مقامات کی جانب ان کے نفوس قدسیہ کی حدی خوانی فرما رہے تھے۔

آپﷺ ان کے دلوں کی بجھتی ہوئی چنگاری کو بھڑکتے ہوئے شعلوں میں تبدیل کردیتے تھے اور انہیں تاریکیوں سے نکال کر نور زار ہدایت میں پہنچا رہے تھے۔ انہیں اذیتوں پر صبر کی تلقین فرماتے تھے اور شریفانہ درگذر اور ضبط نفس کی ہدایت دیتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کی دینی پختگی فزوں تر ہوتی گئی۔ اور وہ شہوات سے کنارہ کشی، رضائے الہیٰ کی راہ میں جاں سپاری، جنت کے شوق، علم کی حرص، دین کی سمجھ، نفس کے محاسبے، جذبات کو دبانے، رجحانات کو موڑنے، ہیجانات کی لہروں پر قابو پانے اور صبروسکون اور عزووقار کی پابندی کرنے میں انسانیت کا نادرہ روز گار نمونہ بن گئے۔

مصنف : مولانا صفی الرحمان مبارک پوری

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...