اسلام

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ستارہ طلو ع ہوا

وہ بزرگ حرم میں داخل ہوئے اور کعبے کے دروازے کی زنجیر پکڑ کر دشمن کے لشکر کے خلاف فتح کی دعا مانگتے ہوئے اللہ سے فریاد کی :’’اے اللہ !تو اپنے گھر یعنی بیت اللہ کی حفاظت فرما ۔ابرہہ کا لشکر فتح حاصل نہ کرے ، ان کی طاقت تیری طاقت کے آگے کچھ بھی نہیں ۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اپنی قوم کو ساتھ لیا او ر پہاڑی پر چڑھ گئے ۔کیونکہ ان کی تعداد کم اور ابرہہ کا لشکر بہت بڑ ا تھا نیز ابرہہ کے لشکر میں ہاتھی بھی تھے جو وہ(نعوذ باللہ) بیت اللہ کو گرانے کے لیے لایاتھا ۔

آگے جانے سے پہلے یہاں پر ہم اس کہانی کا پسِ منظر آپ کو بتانا چاہتے ہیں ۔ابرہہ جو یمن کاحاکم تھا اس نے دیکھا کہ ا س کے ملک سے لوگ بڑی تعداد میں بیت اللہ کا طواف کرنے جاتے ہیں ۔اس کو یہ بات اچھی نہ لگی اور اس نے اپنے ملک میں ایک عمارت بناکر لوگوں سے کہا کہ اب تمہیں مکہ جانے کی ضرورت نہیں، اسی عمارت کا طواف کرو! لوگوں کو بیت اللہ کی یہ گستاخی اچھی نہ لگی اور انہوں نے اس کے بنائے ہوئے عمارت میں گند ڈال دیاجس پر ابرہہ غضب ناک ہوکر بولا:’’ میں بیت اللہ کی عمارت کو گِراکر اس کے ایک ایک پتھر کو توڑوں گا۔‘‘اس کے بعد ابرہہ نے ہاتھیوں کاایک لشکر تیار کیا اور اس میں ’’محمود ‘‘ نامی ایک ہاتھی کا بندوبست بھی کیا جواپنے وقت کاسب سے بڑا ہاتھی تھا۔وہ خود اس پر بیٹھاتھا جیسے ہی یہ لشکر مکہ کے قریب ہواتو وہ ہاتھی زمین پربیٹھ گیا اور چلنے سے انکار کیا،ابرہہ نے اس کو مارا پیٹا اور اس کے سر پر ضربیں لگائیں مگر وہ نہ اٹھا۔وہ ہاتھی کو اٹھاکر چلانے کی مسلسل کوشش کررہے تھے کہ اچانک سمندر کی طرف سے ان پر ابابیلوں کا ایک لشکر آگیا۔ان میں سے ہرپرندے کی چونچ میں پتھر کے تین تین ٹکڑے تھے جو ابرہہ کی لشکر پر گرارہے تھے ۔جونہی یہ پتھر ان کے جسموں پر گرتے ان کے جسم کے ٹکڑے ہوجاتے،بالکل اس طرح جیسے آج کسی جگہ اوپر سے بم گرایا جائے تو انسانوں کے ٹکڑے ہوجاتے ہیں۔کچھ ہی دیر میں سارا لشکر تباہ ہوگیا اور وہ کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہوگئے۔
جیساکہ قرآن پاک کے سورۃ الفیل میں آیا ہے۔ فجعلھم کعصف مأکول

عبد المطلب جواپنی قوم کے ساتھ پہاڑی پر تھے وہ لشکر کا حال معلوم کرنے نیچے اتر تو انہوں نے دیکھا کہ ابرہہ کا سارا لشکر تباہ ہوگیا ہے اور بہت سار ا مال و دولت اور سامان رہ گیا ہے۔عبد المطلب نے اس ظالم کی تباہی پر اللہ کا شکر ادا کیا۔تاریخ میں اس سال کو ’’عام الفیل‘‘ یعنی ہاتھیوں والا سال کہا جاتاہے ۔ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی پیدائش بھی اس واقعے کے کچھ مہینے بعد ربیع الاول کے مہینے میں پیر کے دن ہوئی ۔جب آپ ﷺ اس دنیامیں تشریف لائے تو اس وقت عبد المطلب خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے ۔اطلاع ملنے پر گھر آئے،بچے کو گود میں لیااور بہت زیادہ خوش ہوئے۔ آپ کی والدہ نے ان سے کہا :’’یہ بچہ عجیب ہے۔پیدا ہوتے ہی اس نے سجدہ کیااور پھر سجدے سے سر اٹھاکر آسمان کی طرف انگلی اٹھائی۔‘‘

حضرت حسان بن ثابت ؓ کہتے ہیں :’’میں آٹھ سال کا تھا کہ ایک صبح میں نے یثرب(مدینہ) کی گلیوں میں ایک یہودی کو دیکھا ،وہ ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ کر چلا رہا تھا۔لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے اور پوچھا کیا بات ہے،کیوں چیخ رہے ہو؟ یہودی نے کہا :’’احمد کا ستارہ طلوع ہوگیا ہے اور وہ آج رات پیدا ہوگئے ہیں ۔‘‘

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عالم مکہ میں رہتا تھا، جب وہ رات آئی جس میں آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے تو وہ قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا، اس نے کہا :’’کیا تمہارے ہاں آج کوئی بچہ پیدا ہواہے ؟‘‘ لوگوں نے کہا ’’ہمیں نہیں معلوم‘‘ ا س پر اس یہود ی نے کہا:’’ میں جو کچھ کہتا ہوں اسے اچھی طرح سن لو! آج اس امت کا آخری نبی پیدا ہوگیا ہے اور قریش کے لوگو! وہ تم میں سے سے ،یعنی وہ قریشی ہے۔اس کے کندھے کے پاس ایک علامت(یعنی مہرنبوت) ہے۔‘‘

ساتویں روزآپ کا عقیقہ او ر نام ’’محمد ‘‘ رکھا گیا۔جس کا مطلب ہے وہ انسان جس کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو،عربوں میں اس سے پہلے یہ نام کسی کا نہیں رکھا گیا تھا۔انہوں نے عبد المطلب سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا :’’میری تمنا ہے کہ آسمانوں میں اللہ تعالیٰ اس بچے کی تعریف فرمائیں اور زمین پر لوگ ا س کی تعریف کریں۔‘‘آپ کی والدہ نے آپ کانام ’’احمد‘‘ رکھا ،یہ نام بھی پہلے کسی نے نہ سنا تھا ،جس کا مطلب ہے سب سے زیادہ تعریف کرنے والا۔

امام زہری ؒ فرماتے ہیں ، حاکم نے یہ روایت بیان کی ہے اور اس کو صحیح قراردیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا:’’اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیے!‘‘ آپ (ص) نے فرمایا:’’میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں ، اپنے بھائی عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور خوش خبری ہوں، جب میں اپنی والدہ کے پیٹ میں آیا تو انہوں نے دیکھا ، گویا ان سے ایک نور ظاہر ہوا جس سے ملک شام میں بصریٰ کے محلات روشن ہوگئے۔‘‘

بطحاء (مکہ کا پرانا نام)کی وادیوں سے طلوع ہونے والا یہ آفتابِ نبوت ایسا چمکا کہ کفر کے اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے انسانوں کو اس نے ہدایت کی روشنی دی ۔اس عظیم ہستی نے اپنے اخلاق اور سیرت سے تمام دنیا کو اپنا گرویدہ بنایا،وہ اپنی امت کے لیے ایک شفیق سربراہ کے طورپر آئے ،وہ ہماری شفاعت کی ایک بڑی امید ہیں اور حوض کوثر پر اپنی پیاسی امت کو سیراب کرنے والے ہیں ۔وہ زمین پر رحمۃ للعالمین اور آسمان پر محبو ب رب العالمین ہیں۔بے شمار درود و سلام ہو ان پر اور ان کی آل پر جو روئے زمین پر سب سے بہترین ہستیاں تھیں ۔