ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

محدثین نے کتابوں میں ضعیف حدیثیں کیوں درج کیں ؟

یہ سوال بندے کو کبھی کبھی پریشان کر چھوڑتا ہے – اور بہت سے دوست بعض  "عجیب و غریب روایات ” کو دیکھ کر محدثین کو برا کہنا شروع ہو جاتے ہیں – اور یوں اسلام کے ان عظیم خدمت گاروں کی عظمت کا اعتراف اور خدمت کا اقرار کرنے کی بجاے ناشکر گزاری کا شکار ہو جاتے ہیں –

اختصار کے سبب ہم فتنہ وضع حدیث یعنی جھوٹی روایات کے گھڑنے کے اسباب کو ذکر نہیں کرتے – بس یہی لکھتے ہیں کہ محدثین نے ان کو اپنی کتب میں کیوں ذکر کیا – دیکھیے نا کیسی عجیب عجیب حدیثیں یار لوگوں نے بنا چھوڑیں اور ہمارے امام انھیں درج کرتے چلے گئے – ایک "حدیث” ہے کہ: "سفید مرغا میرا دوست ہے میرے دوست کا دوست ہے "ایک اور میں آٹھ بکروں پر اللہ کا عرش کھڑا کر دیا —

اب محدثین کے پاس دو راستے تھے ، ایک یہ کہ وہ ایسی احادیث کو ” ریجکٹ ” کر کے کتابوں سے نکال باہر کرتے ، دوسرا یہ کہ ان کو شامل کتاب کرتے اور ان کی صحت پر بات کر کے ان کا مقام متعین کرتے – اگر پہلا راستہ اختیار کیا جاتا یعنی کہ ایسی حدیثوں کو نکال دیا جاتا تو اس میں بہت سے نقصانات تھے –

پہلا یہ کہ بہت سی احادیث ایسی تھیں کہ جو محض سند کے اعتبار سے ضعیف ہوتی تھیں ، لیکن متن اور مفھوم کے اعتبار سے درست تھیں سو ان کی ضرورت رہتی تھی – اس طرح ایسا ذخیرہ حدیث ضائع ہو جاتا – محدثین نے دوسرا راستہ اختیار کیا کہ ایسی تمام روایات کو من و عن درج کر دیا گیا اور ساتھ میں فن اسماء الرجال ، جرح و تعدیل کے علوم کا اجراء کیا گیا – اس طرح ایک ایک راوی کے حالات کو ذکر کر دیا گیا – ان کی عادات ، اشغال ، افعال ، اعمال ، حافظہ ، امانت دیانت ، حفظ و حافظہ ، دماغی حالت ، تقوی غرض یہ کہ ہر ہر پہلو درج کر دیا گیا – اور محض درج ہی نہیں کیا گیا بلکہ ان امور کی بنیاد پر ان کی درجہ بندی بھی کر دی گئی –

ان لاکھوں راویوں کے حالات میں یہ درج ہے کہ کون ثقہ یعنی سچا ہے ، کون جھوٹا ہے ، کون بھلکڑ ہے اور کون مضبوط حافظے کا مالک ہے –  ایک حدیث کی سند میں راویوں کی جو چین ہے اس کو سند کہتے ہیں – اب ان ہزارہا بلکہ لاکھوں اسناد کو بھی پرکھا گیا ، اس کی پرکھ اس طرح تھی کہ ایک حدیث میں اسلم بیان کرتا ہے افضل سے اور افضل بیان کرتا ہے اکرم سے – اب دیکھا جائے گا کہ اسلم افضل سے ملا ہے کبھی یا نہیں ، اور ان کی ملاقات کا کوئی ثبوت ہے یا نہیں ، اور یہ کہ ان کی پیدائش اور وفات ایسی ہے کہ ملاقات کا کوئی امکان ہے ؟؟؟؟؟-

غرض یہ کہ انسانی تدبیر کی حد تک جو ممکن احتیاط تھی وہ کی گئی – انسانی دماغ جس جس پہلو سے سوچ سکتا تھا وہ محدثین نے اختیار کیا –  اگر میں یہ دعوی کروں کہ آج ہزار برس بعد بھی انسانی دماغ اس سے آگے نہیں جا سکا کہ جہاں تک ہمارے یہ بزرگ تحقیق میں چلے گئے تو یہ غلط نہ ہو گا – جب یہ سب اہتمام ہو گیا تو ان بزرگوں نے حدیث کے نام پر موجود تمام مواد اپنی کتب میں شامل کر دیا –

آج بھی جب آپ کتب احادیث میں موجود کسی ایک لفظ ، جی ہاں مکرر کہتا ہوں کہ کسی ایک لفظ پر بھی تحقیق کرنا چاہیں تو آپ کے پاس اس کے لیے مکمل چھلنی موجود ہو گی – موضوع روایت مکمل جھوٹی روایت کو کہتے ہیں – ایک بات دماغ میں آتی ہے کہ چلو ضعیف روایت درج کرنے کا جواز تو ہوا ، لیکن موضوع روایت کیونکر درج کر دی گئی ؟

احباب ! "سفید مرغا میرا دوست ہے اور دوست کا دوست ہے ” جیسی روایت جب درج کی جاتی ہے تو ساتھ سند بھی موجود ہوتی ہے – اب اس سند میں ایک کذاب اور جھوٹا راوی موجود ہے تو اس درج کرنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ تمام اہل علم اس سند کے سبب متنبہ ہو جاتے ہیں کہ یہ "کامران ” نامی بندہ جھوٹا ہے اس لیے ہوشیار ہو جائیے کہ اس "کامران ” کی کوئی بات بھی آجائے تو اس کا اعتبار نہیں کرنا – خرابی یہ ہوئی کہ ہمارے دوست حدیث کو تو لے اڑتے ہیں لیکن کم علمی کے سبب سند کے بارے میں اور حدیث کی حیثیت کے بارے میں کچھ نھ جانتے ہوتے تو محدثین کو برا بھلا کہنے لگاتے ہیں کہ انہوں نے یہ حدیث کیوں کر درج کی ؟

اب اگر محدثین اس حدیث کو اس کی سند کے ساتھ درج نہ کرتے تو خرابی یہ ہوتی کہ حدیث کسی اور ذریعے سے عوام میں پہنچ جاتی اور قول رسول کے طور پر جانی جاتی – ایسی صورت میں خرابی زیادہ ہو جاتی – اس لیے اس بات پر مت الجھا کیجئے کہ محدثین نے ایسی روایات نکال ہی کیوں نہ دیں –

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...