بلاگ معلومات

مبشرات اور تمنائی خواب

وہ خواب جو فرشتے کی طرف سے ہوتے ہیں، وہ کبھی تو مستقبل کے احوال کے بارے فرشتے کا الہام ہوتا ہے کہ تمہارے ساتھ ایسا ہونے والا ہے۔ وہ جو ہونے والا ہے، وہ کوئی مصیبت بھی ہو سکتی ہے اور کوئی رحمت بھی۔ مثلا بعض لوگ خواب دیکھتے ہیں کہ ان کے فلاں رشتے دار فوت ہو گئے اور وہ واقعتا میں فوت ہو جاتے ہیں تو یہ فرشتے کی طرف سے الہام ہو سکتا ہے۔ لیکن بعض صورتوں میں یہ الہام نہیں ہوتا بلکہ نفس کی کیلکولیشن ہوتی ہے جیسا کہ آپ کے کسی دوست یا رشتہ دار کو کوئی موذی مرض لاحق ہے مثلا کینسر، تو ایسی صورت یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے نفس نے اس کی موت کے بارے تجزیہ درست کر لیا ہو لیکن جاگتے میں آپ کے شعور کے لیے اپنے اس دوست یا رشتے دار سے تعلق کی وجہ سے اس تجزیے کو قبول کرنا ممکن نہ تھا لہذا شعور نے اسے لاشٰعور کے اسٹور میں پھینک دیا اور لاشعور نے سوتے میں اسے خواب کی صورت دکھا دیا۔ اور اگر آپ کو مرنے والے کے حالات کا علم بالکل بھی نہ ہو تو یہ کنفرم فرشتے کا الہام ہے، واللہ اعلم۔

اور کبھی فرشتے کے خواب میں الہام کا تعلق مبشرات سے ہوتا ہے۔ مبشرات سے مراد وہ خواب ہیں جو انسانی نفس کو خوشی دیں۔ ان خوابوں کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی البتہ وجہ ضرور ہوتی ہے۔ اور وہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ اللہ عزوجل بعض اوقات اپنے بندے سے راضی ہوتے ہیں تو اسے ایسا خواب دکھاتے ہیں کہ جس سے اس کے نفس کو خوشی اور راحت حاصل ہو۔ ایک حدیث کے مطابق نبوت کا جو حصہ قیامت تک باقی رہے گا، وہ یہی مبشرات ہیں یعنی صالح خواب۔ یعنی ان کا اللہ کی طرف سے ہونا اتنا ہی یقینی ہے جتنا کہ نبی پر نازل ہونے والی وحی کا خدا کی طرف سے ہونا۔ مبشرات کیا ہیں؟ مثلا خواب میں اللہ عزوجل کو دیکھنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا، بیت اللہ کو دیکھنا، جنت کو دیکھنا، خلفائے راشدین یا صحابہ کرام کو دیکھنا۔ تو خواب میں جنت دیکھنے کا کوئی معنی نہیں ہے۔ بس اتنا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے خوشخبری ہے کہ اس وقت میں وہ آپ سے راضی ہے۔ اور اپنی اس رضا پر مطلع کرنے کے لیے اس نے آپ کو ایک نشانی عطا کی ہے جو آپ کے نفس کے لیے راحت کا باعث بنتی ہے۔

البتہ بعض اوقات ایک خواب مبشرات میں سے نہیں ہوتا لیکن اسے مبشرات میں سے سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ اصلا وہ تمنائی خواب ہوتا ہے۔ مثلا ایک شخص بار بار خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ حج یا عمرہ کر رہا ہے لیکن اس منظر میں اسے بیت اللہ نظر نہیں آ رہا تو یہ دراصل اس کی حج اور عمرہ کی خواہش ہے کہ جب وہ حد سے بڑھ گئی تو اس نے خواب کی صورت اختیار کر لی۔ اسی طرح ایک شخص خواب میں بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہے لیکن آپ کا چہرہ مبارک اسے نظر نہیں آتا مثلا یہ کہ آپ کا رخ دوسری طرف ہے تو یہ بھی مبشرات میں سے نہیں بلکہ تمنائی خوابوں میں سے ہے کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کی خواہش ہے اور یہی ٘خواہش ادھورے خواب کی صورت ظاہر ہو گئی۔ تو تمنائی خواب میں مبشرات، ادھوری اور نامکمل ہوتی ہیں۔ اور جس نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو کیا اس نے رسول اللہ کو ہی دیکھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اس کی کیفیات اور احوال پر منحصر ہیں۔ اگر تو خواب دیکھنے کے بعد وہ بدل جائیں تو اس نے رسول اللہ ہی کو دیکھا ہے ورنہ نہیں۔

رہی اس حدیث کی بات کہ جس نے مجھے دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا کہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا تو یہ بات درست ہے لیکن یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے لوگوں کے لیے ہے۔ حدیث میں صرف اتنی بات ہے کہ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ لیکن آپ کی صورت تو خواب دیکھنے والے کے علم میں نہیں ہے لہذا شیطان کسی عام آدمی کی صورت میں کسی کے خواب میں آئے اور کہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو یہ بالکل ممکن ہے۔ یہ خواب تو کیا، جاگتے میں بھی ممکن ہے۔ جتنے لوگ نبوت کا دعوی کرتے ہیں، یہ شیاطین ہی تو ہیں، چلیں انسانوں میں سے سہی۔ تو شیطان کے لیے نبوت کا دعوی کرنا ناممکن نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے لوگوں کے اعتبار سے یہ ممکن نہ تھا کہ صحابہ نے آپ کو دیکھا ہوا تھا لہذا صحابہ اگر آپ کو خواب میں دیکھتے تو آپ کو ہی دیکھتے، شیطان آپ کی صورت میں نہیں ظاہر ہو سکتا تھا۔

اسی طرح مستقبل سے متعلق خواب جیسا کہ فلاں مر جائے گا، اس کا تعلق نفس کی تمنا سے بھی ہو سکتا ہے۔ خواب میں انسان اگر بھائی کو مرتا دیکھے تو فرائیڈ نے اسے تمنائی خواب کہا ہے۔ اور میری نظر میں بعض صورتوں میں یہ تمنائی ہو سکتا ہے اگر تو بھائی سے تعلقات اچھے نہ ہوں۔ یعنی بھائی سے تعلقات اتنے خراب تھے کہ اس کے مرنے کی خواہش پیدا ہو گئی، جسے شعور نے دبا کر لاشعور کے اسٹور میں پھینک دیا اور لاشعور نے سوتے میں اسے خواب کی صورت دکھا دیا۔ یہی امکان میاں بیوی کا خواب میں ایک دوسرے کی موت دیکھنے میں بھی ہو سکتا ہے اگر تو دونوں ایک دوسرے کو ظالم سمجھتے ہوں۔