ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

موت کا ایک دن معین ہے

جب کسی شخص کے دل کی دھڑکن بند ہوجائے (جسے cardiac arrest کہا جاتا ہے) تو اس شخص کو کلینکل طور مردہ تصور کیا جاتا ہے – اسے جتنی بھی CPR دی جائے اور دوبارہ زندہ کرنے کی جتنی بھی کوشش کی جائے، جب تک مریض کا دل بند ہے’ سانس بند ہے اور دوسرے vital signs موجود نہیں تب تک وہ شخص مردہ تصور کیا جاتا ہے۔
ایمرجنسی میڈیکل سٹاف ایسے مریض کو CPR دیتے ہیں جس میں مریض کی چھاتی کو دبا کر اور اس کے منہ سے منہ لگا کر اس کے پھیپھڑوں میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے – اگر دل کی دھڑکن موجود ہو لیکن بے ترتیب ہو یا دل کے مسلز تھرتھرا رہے ہوں تو ایسے مریض کے دل کو defibrillators کے ذریعے بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں تاکہ دل دوبارہ اپنی نارمل دھڑکن شروع کر سکے – یہ کام گاڑی کو جمپ سٹارٹ کرنے کے مترادف نہیں ہے – defibrillators تب ہی کام کرتا ہے اگر دل کی دھڑکن موجود ہو لیکن بے ترتیب ہو – اگر دل میں کوئی دھڑکن موجود نہیں ہے تو اسے defibrillators سے دوبارہ شروع نہیں کیا جاسکتا – فلموں میں اگرچہ میڈیکل سٹاف کو ایسا کرتے دکھایا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اگر مریض کے دل کی دھڑکن بند ہوچکی ہے یعنی flat lined ہے تو ایسے مریض پر defibrillators کبھی استعمال نہیں کیا جاتا

ایسے مریض کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کب تک کی جاتی ہے آئیے اس پر ایک تفصیلی نظر ڈالتے ہیں۔
1۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ایسے مریض کے لیے ہر گذرتے منٹ کے ساتھ زندہ بچنے کا امکان 10 فیصد کم ہوتا جاتا ہے – اگر دل دس منٹ سے زیادہ دیر تک بند رہے تو ایسے مریضوں کے دوبارہ زندہ ہونے کا امکان بہت ہی کم رہ جاتا ہے (اگرچہ صفر بھی نہیں ہے) – ایسے مریض اگر بچ جائیں تو بھی انہیں شدید دماغی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے – دماغ کے نیورونز آکسیجن کی محرومی چند منٹ سے زیادہ برداشت نہیں کرسکتے اور جلد ہی مرنے لگتے ہیں – دماغ کا جو حصہ ایک دفعہ مر جائے اسے دوبارہ فعال بنانا ممکن نہیں ہوتا – چنانچہ ایسے مریض کے دماغ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے جس کا نتیجہ فالج، بول چال سے معذوری، شخصیت میں واضح تبدیلی (خاص طور پر اگر دماغ کے سامنے کے حصے کو نقصان پہنچا ہو) بے ہوشی، کومہ وغیرہ کی صورت میں ہوسکتا ہے – زیادہ تر ہسپتالوں کے پروٹوکول پندرہ سے بیس منٹ تک ایسے مردے کو واپس لانے کی کوشش کرتے ہیں – اگر پندرہ بیس منٹ میں دل کی دھڑکن دوبارہ چالو نہ ہو تو ایسے مریض کو مردہ قرار دے دیا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے میں دماغ کے بیشتر نیورونز مستقل طور پر ناکارہ ہوچکے ہوتے ہیں

2۔ اگر مریضوں کو مصنوعی تنفس دیا جائے تو اس کے پھیپھڑوں سے خارج ہونے والی سانسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح کو مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے – جب آپ سانس لیتے ہیں تو آپ ہوا میں موجود آکسیجن، نائٹروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے پھیپھڑوں میں داخل کرتے ہیں – جب آپ سانس خارج کرتے ہیں تو اس ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح میں اضافہ ہوچکا ہوتا ہے – گیسوں کی یہ ادلا بدلی خلیات کے لیول پر ہوتی ہے – اس خارج شدہ سانس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح میں اضافے کی پیمائش سے جسمانی صحت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ دل مختلف اعضا کو کتنا خون فراہم کر رہا ہے – مصنوعی تنفس کے دوران جب مریض کے پھیپھڑوں میں ہوا داخل کی جاتی ہے اور پھر خارج کی جاتی ہے تو خارج شدہ سانس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی اس شرح سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جسم میں حیاتیاتی تعاملات مسلسل ہورہے ہیں یا رک چکے ہیں – اگر تو خارج ہونے والی سانسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح 35 سے 45 فیصد تک ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حیاتیاتی تعاملات معمول کے مطابق ہو رہے ہیں – اگر خارج ہونے والی سانسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح 12 فیصد سے کم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جسم میں حیاتیاتی تعاملات ختم ہوچکے ہیں اور اس شخص کے بچنے کا کوئی امکان نہیں – چنانچہ اگر دل کو بند ہوئے پندرہ بیس منٹ سے زیادہ ہوچکے ہیں اور سانسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح 12 سے کم ہو تو اس شخص کو مردہ قرار دے دیا جاتا ہے

3۔ اگر دل میں کچھ دھڑکن یا تھرتھراہٹ یعنی fibrillation موجود ہو تو دو طرح کے مسئلے موجود ہوسکتے ہیں – اگر دل کی تھرتھراہٹ Vfib یا Vtach کی قسم کی ہے تو اس بات کا غالب امکان موجود ہوتا ہے کہ defibrillators سے دل کی نارمل دھڑکن دوبارہ شروع کی جاسکے – اگر دل کے دورے کے دوران اس قسم کی تھرتھراہٹ موجود ہو تو مریض کے بچنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں – لیکن کچھ اور قسم کی تھرتھراہٹیں ایسی ہیں جن میں بچنے کی امید کم ہوتی ہے – ان میں سے ایک کو PEA کہا جاتا ہے – ایسی صورت میں دماغ (یا اگر مریض کے جسم میں pace maker نصب شدہ ہو تو pace maker) دل کو دھڑکنے کے احکامات تو بھیج رہا ہے لیکن دل کے مسلز کام نہیں کر رہے – اگرچہ ایسی صورت میں بھی مریض کو بچانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے لیکن شماریات یہی بتلاتے ہیں کہ اس صورت میں مریض کے بچنے کے امکان بہت کم ہوتے ہیں
تو یہ ہیں وہ آثار جنہیں دیکھ کر مریض کی موت کا حتمی اعلان کیا جاتا ہے – آپ نے ٹی وی پر یا فلموں میں یہ جملہ بھی سن رکھا ہوگا ‘آنکھوں کی پتلیاں پھیل چکی ہیں اور ان میں کوئی حرکت موجود نہیں’ – یہ جملہ درست ہے – اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مریض کے دماغ نے کام کرنا مکمل طور پر بند کر دیا ہے – آنکھ کی پتلی اب انتہائی حد تک پھیل چکی ہے اور روشنی کی وجہ سے نہیں سکڑ رہی

اس آرٹیکل کا خلاصہ یہ ہے کہ جسم سے خارج ہونے والی سانس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار سے جسم میں حیاتیاتی تعاملات کا اندازہ لگایا جاتا ہے – اگر یہ شرح کم ہے تو مریض کے بچنے کا امکان بہت کم ہے – بعض اوقات الٹرا ساؤنڈ سے بھی دل کی دھڑکن تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے – اگر ان کوششوں کے باوجود مریض کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی، دماغ کی کارکردگی معطل ہوچکی ہے (جو کہ آنکھ کی پتلی کے مشاہدے سے معلوم ہوجاتی ہے)، دل کی دھڑکن بند ہے، نبض موجود نہیں ہے یعنی مریض میں زندگی کے کوئی بھی آثار نہیں ہے تب ہی اسے مردہ قرار دیا جاتا ہے

 

ترجمہ اور تلخیص: قدیر قریشی

نومبر 29، 2017

تبصرے
Loading...