بلاگ معلومات

مولانا ، افغان جہاداور مشافہات۔!

افغان جہاد اب ایک تاریخ ہے۔ تاریخ گزر جائے تو اس پر تبصرہ دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ یہی فریضہ آج کل مولانا فضل الرحمن بھی پوری سنجیدگی سے ادا فرما رہے ہیں اور ہمیں بتا رہے ہیں کہ مدرسے کے طالب علموں کو اس جہاد کی ترغیب دینا تو اصل میں امریکی سازش تھی۔جے یو آئی کے احباب اس ویڈیو کو شیئر کر رہے ہیں اور ساتھ ہی گویا کوسنے سے بھی دے رہے ہیں کہ ہمارے بالغ نظر رہنما کی بات مان لی ہوتی تو خطہ اس قتل و غارت سے نہ گزرتا۔حقیقت مگر اس سے مختلف ہے۔حقیقت کیا ہے؟ یہ مشافہات میں درج ہے۔آپ بھی پڑھ لیجیے۔ مشافہات ، مولانا فضل الرحمن صاحب کے مختلف ادوار میں دیے گئے انٹرویوز کا ایک مجموعہ ہے جو تین جلدوں پر مشتمل ہے ۔ اسے مفتی محمود اکیڈمی نے کراچی سے شائع کیا ہے ۔اس کے پیش لفظ میں اکیڈیمی کے ڈائریکٹر نے لکھا ہے:’’ مشافہات مولانا فضل الرحمن کے انٹرویوز ہی نہیں ، بلکہ ہماری ملی تاریخ کا اثاثہ اور جمعیت علمائے اسلام کی قومی معاملات میں پالیسی کا مجموعہ ہے‘‘۔

اگلے روز محترم مفتی زاہد صاحب کے ہاں ان کے والد گرامی کے انتقال پر فاتحہ کے لیے حاضر ہوا تو انہوں نے ’ مشافہات‘ کی تینوں جلدیں عنایت فرمائیں۔ افغان جہاد کے بارے میں مولانا کا تازہ موقف تو آپ سن ہی چکے ہوں گے ، اب آئیے ذرا دیکھتے ہیں ’’ مشافہات ‘‘ کی گواہی کیا ہے۔ جلد دوم کے صفحہ 107پر مولانا کا ایک انٹرویو ہے جو ایک ہفت روزے میں 27 مئی 2000ء کو شائع ہوا۔اس میں مولانا فرماتے ہیں : اصول کی بات یہ ہے کہ مدارس میں جہاد کی تربیت دی جانی چاہیے۔ یہ میں اس اصول کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ کسی تعلیمی ادارے میں جہاد کی تربیت دینا نا جائز ہے تو حکومت نے یہ کیڈٹ کالج کیوں بنائے ہیں جہاں ایک طرح کی فوجی تربیت دی جاتی ہے ۔اگر حکومت کی سطح پر فوجی تربیت جائز ہے تو پرائیویٹ سطح پر کیوں جائز نہیں ہے؟ اس پر ان سے سوال کیا گیا:کیا ایسا شرعا جائز ہے کہ پرائیویٹ سطح پر جہاد کی تربیت دی جائے؟تو مولانا نے جواب دیا: بالکل جائز ہے ۔اگلا سوال کیا گیا : کیا جہاد کی تربیت حکومت کے علاوہ نجی سطح پر جائز ہے؟مولانا نے فرمایا: مسلمان پر جہاد کی تربیت فرض ہے۔

اگلا سوال تھا: کیا خلیفۃ المسلمین یا اسلامی حکومت کی اجازت کے بغیر جہاد یا جہاد کی تربیت لینا جائز ہے؟ جواب تھا: بالکل جائز ہے۔ جس طرح کیڈٹ کالج حکومت نے کھولے ہیں اس طرح پرائیویٹ سطح پر اگر مدرسے ایسی تربیت دیتے ہیں تو وہ بالکل جائز ہے ۔ بندوق رکھنا ضرورت کے مطابق اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے نا صرف جائز بلکہ زکوۃ سے بھی مستثنی ہے۔ سوال کرنے والے نے مزید کریدتے ہوئے پوچھا ـ:کہ بنیادی سوال یہ ہے خلیفۃ المسلمین کی اجازت اور مرضی کے خلاف بلکہ اس کی مخالفت میں ایک اسلامی ریاست میں جہاد کی تربیت آپ کیسے جائز قرار دے سکتے ہیں ، یہ کس اصول کے تحت جائز ہے؟ مولانا نے کہا : ’’ آپ ہر حکم کو خلیفۃ المسلمین سے کیوں جوڑتے ہیں ۔

اگر ملک میں خلیفۃ المسلمین نہیں ہے تو کیا جمعہ پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں۔سوال ہوا: کھلے عام جہاد کی تربیت دینے سے انتشار پھیلنے کے خدشات تو موجود ہیں؟ جواب آیا: کوئی انتشار نہیں پھیلے گا ۔ مسئلے کو ایشو نہ بنایا جائے ۔بلکہ جو انسان کا فطری حق ہے وہ اسے دینا چاہیے۔صفحہ 291 پا اسامہ بن لادن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں : سرزمین عرب سے امریکی فوجوں کا انخلاء صرف اسامہ کا موقف نہیں ہم سب کا ہے۔اپنی سرزمین کو آزاد کرانے کے لیے طاقت کا استعمال جائز ہے۔ یعنی مولانا نجی سطح پر جہاد کی تربیت کے بھی قائل ہیں ، وہ حکومت کی مرضی کے برعکس مدارس میں فوجی تربیت دینے کے بھی قائل ہیں ، وہ خلیفۃ المسلمین یا اسلامی حکومت کی اجازت کے بغیر جہاد کو شرعا درست مانتے ہیں ، وہ ایک نجی گروہ ( اسامہ بن لادن اور القاعدہ ) کے اس حق کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملک ( سعودی عرب) کی پالیسی کے برعکس مسلح جدوجہد شروع کر دیں ۔وہ گویا فرد یا گروہ کے اس حق کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت کی پالیسی کو چیلنج کرتے ہوئے وہاں مقیم کسی دوسری فوج کے خلاف مسلح مزاحمت شروع دے اور پھر اس سب کے بعد وہ فرمارہے ہیں کہ یہ جو مدارس کے طالب علموں کو جہاد کی ترغیب دی گئی تھی یہ تو اصل میں امریکی سازش تھی۔کوئی سادگی سی سادگی ہے؟

طالبان کے زمانے میں مولانا کے امریکہ مخالف بیانات اور تقاریر البتہ اب بھی تلاش کی جا سکتی ہیں۔ایک جلسہ عام میں تو وہ امریکہ کے خلاف جنگ کا اعلان بھی فرما رہے ہیں۔مولانا کا یہ بیان تو اپنے زمانہ طالبعلمی میں ، میںنے خود پڑھا کہ اگر امریکہ نے اسامہ پر حملہ کیا تو جے یو آئی امریکی بحری بیڑے کوتباہ کر دے گی۔اس پر ایک مدیر محترم نے شدت جذبات میں اگلے روز دادو تحسین سے لبریز ایک کالم لکھ مارا کہ واہ مولانا ! امریکہ کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنے کی دھمکی دے کر آپ نے دل خوش کر دیا ، جی چاہتا ہے آپ کا بوسہ لے لوں لیکن سوال یہ ہے کہ بوسہ کہاں سے لوں ؟ ’’مشافہات‘‘انتہائی دل چسپ مجموعہ ہے۔ اس کے حرف اول میں لکھا ہے مولانا دلائل کی دنیا کے آدمی ہیں ۔مشافہات کے مطالعے کے بعد البتہ یہ طلسم ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے کہ مولانا مدلل اور متوازن بات کرتے ہیں ۔اس پر آئندہ کالموں میں تفصیل سے بات کرتے ہیں۔