اسلام بلاگ

نالائقی

’سر! مجھ میں کوئی موٹی ویشن ہے ہی نہیں، کام کیا کروں۔‘‘ یہ سوال آج فیس بک پر ملا۔ ہر شخص کوئی موٹی ویشن، کوئی تحریک، کوئی ترغیب چاہتا ہے جو اسے کوئی کام کرنے پر اکسا سکے۔ بلامبالغہ ہزاروں ٹرینرز، کتابیں اور ویڈیوز اس ’’موٹی ویشن‘‘ کی قدر و منزلت کو اجاگر کرنے پر آچکی ہیں مگر یہ ہے کہ روز بروز گھٹتی ہی چلی جاتی ہے۔ آپ کسی ’’زندگی کو تبدیل کر دینے والی‘‘ ٹریننگ پر جاتے ہیں مگر کچھ ہی دنوں بعد موٹی ویشن پھر سے صفر!سب سے پہلی بات تو یہ سمجھنی چاہیے کہ یہ وہ جذبہ، وہ مادہ ہے جو اندر سے پھوٹتا ہے، باہر سے مستعار لے کر آپ کام نہیں چلا سکتے۔ آج تک کوئی کنواں دیکھا ہے جس میں پانی باہر سے ڈالا جاتا ہو؟

میں آپ کو اس کنویں کا ڈھکن کھولنے کا طریقہ بتاسکتا ہوں۔ کسی ٹریننگ اور ورکشاپ کی ضرورت نہیں۔ صرف اپنے آپ پر غور کیجیے، اپنا محاسبہ کیجیے، نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھیے اور اپنی فیلڈ کے بہترین لوگوں سے ملیے۔ آپ کو بہت جلد اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ آپ ’’نالائق‘‘ ہیں، اور یقین جانیے کہ نالائقی سے بڑی موٹی ویشن اور کوئی ہے ہی نہیں۔ جب آدمی دیکھتا ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی اور میں کہاں کھڑا ہوں تو وہ ضرور بالضرور محنت کرتا ہے۔آپ دنیا کا کوئی کام، کوئی فیلڈ اٹھا لیجیے، آپ کو اس میں اپنے سے اچھا بندہ مل جائے گا۔ بس اسے پکڑ لیجیے اور ویسا بننے میں لگ جائیے۔ موٹی ویشن بھلے جا کر کہیں ہو جائے، آپ تو بس کام کرتے رہیے۔اس بات کا پتا کیسے لگے گا

کہ آپ کو صحیح بندہ مل گیا ہے جسے فالو کیا جاسکے؟جہاں جاکر نفس کو چوٹ لگے اور اپنی کم علمی و بے مائیگی کا احساس ہو، بس وہیں سے شروع کیجیے، یہ پہلی سیڑھی ہے۔خوب سوال کیجیے۔ صحیح سوال کی تخلیق اور جواب کی تمنا ہی تو علم ہے؛ اور سوال تو پیدا ہی بے چارگی میں ہوتا ہے، جب بندے کو کوئی راہ سجھائی نہ دے تو وہ پوچھتا ہی ہے۔ من گھڑت سوالات اور کہانیاں تو اکثر مکاری ہی ہوتے ہیں۔ نیک لوگوں سے ملنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی گناہ گار ہو جاتا ہے. ان سے مل کر پتا لگتا ہے کہ کون کون سے گناہ تھے جنہیں وہ آج تک گناہ سمجھتا ہی نہ تھا۔ تنہائیوں کو پاک کیجیے، تنہائیوں کی پاکیزگی زبان میں اثر لاتی ہے۔ اللہ کی معرفت حرام ہے اس شخص پر جس کی تنہائیاں پاک نہ ہوں۔

حدیث پاک(ﷺ) میں آیا ہے کہ جس نے اللہ کو یاد کیا اور تنہائی میں اس کے آنسو نکلیں، اللہ کو قسم ہے کہ وہ ان آنسوؤں اور جہنم کی آگ کو جمع نہیں کرے گا۔ یہ تنہائیاں آپ کو آپ کی نالائقیوں کا خوب پتا دیتی ہیں۔کام تو دور کی بات، ہمیں تو دعا مانگنی تک نہ آئی۔ ہم نے (نعوذ باللہ) اللہ کو رزق اور مغفرت تک محدود کرکے رکھ دیا ہے، یا گناہ بخشوا لیے یا رزق میں اضافہ کروا لیا۔ کون ہے جو دعا مانگتا ہو کہ اللہ کی معرفت ملے، محبت ملے، غیر اللہ کی محبت دل سے نکلے، نماز اولادوں میں جاری رہے، بیوی نیک و تہجد گزار بنے۔ہم ایسے نالائق کہ مانگنا تک نہیں آتا۔ جاہل کو اگر اپنے جہل کا پتا ہو تو یہ بھی ایک علم ہے، ہم میں یہ بھی نہیں۔ اس نالائقی سے نکلنے کا آسان ترین راستہ یہ ہے کہ دین و دنیا میں سے کوئی ایک ایک چیز پکڑ لیجیے۔

مثلاً آپ کہیے کہ میں اپنی نماز ٹھیک کروں گا اور انگریزی سیکھوں گا۔ اب دنیا ایک طرف اور آپ کی لگن ایک طرف۔ جب یہ کام ہوجائے تو ایک ایک اور پکڑ لیجیے۔ مثلاً قرآن سیکھوں گا اور کمپیوٹر پروگرامنگ۔ اب لگے رہیے، سال ہا سال لگے رہیے، کون منع کرتا ہے۔یاد رکھنے کی بات ہے کہ قابلیت برسوں میں آتی ہے، بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ آئیے! قابل بننے کےلیے ہماری سب سے بڑی موٹی ویشن ’’نالائقی‘‘ کا سہارا لیتے ہیں۔ جب بندہ ہمت کرے تو اللہ تقدیر بدل دیتا ہے اور توفیق بھی ہمیشہ ہمت والوں ہی کو ملتی ہے۔اللہ کے نبیﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو نصیحت کی تھی کہ ہمیشہ اللہ کا خیال رکھنا، اسے ہمیشہ اپنے ساتھ پاؤ گے۔یاد رکھیے! گناہ کی لذت چند منٹوں کی ہوتی ہے، اللہ کی ناراضگی قائم رہتی ہے۔آئیے! اس ناراضگی کو اپنی محنت سے بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔