اسلام بلاگ

مولوی

اس معاشرہ میں سب سے آسان ہدف “ مولوی “ ہے ۔ جسے دیکھو مولوی پہ غصہ ہے یوں محسوس ہوتا ہے معاشرتی بگاڑ کا اصل ذمہ دار مولوی ہی کو سمجھ لیا گیا ہے ، سارا الزام ” مولوی ” ہی کے سر ہے اور کہنے والے تو یوں بھی کہہ دیتے ہیں کہ مولوی نہ ہو تو معاشرہ سیدھا ہو جائے۔ جی بالکل ! آپ نے ٹھیک کہا ایک لحظہ کے لئے مان لیتے ہیں ، مولوی کو ایک طرف کرتے ہیں ، ہم سامنے آجاتے ہیں، اپنے جیسے چند لوگوں کو جمع کرکے اسلام کا کام شروع کردیتے ہیں ۔۔

اور میرا دل چاہتا ہے کہ جن کو علماء پہ اعتراض ہے وہ خود سامنے آئیں۔۔ ہم خود ہی عالم بن جائیں لیکن کسی فرقے والے کے پاس نہیں جانا بلکہ ہمیں خود سے پڑھنا ہوگا تاکہ معاشرے سے جہالت دور ہو سکے ، پھر اپنے جیسے چند لوگ تیار کرکے صحیح معنوں میں دین کی دعوت دیں گے تاکہ فرقہ پرستی نہ ہو ۔ محترم ! علماء پہ بات کرنا آسان ہے ۔ اگر ہمت ہے تو ایک ایسا ادارہ بنائیے جس میں اسلامی تعلیمات کی پرچار ہو ، اپنے حصے کی ایسی شمع جلائیے جس سے لوگوں میں ہدایت کا نور پھیلے ، بغیر تنخواہ کے لوگوں کو قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھائیے ، اور ہاں ساتھ میں اسی مدرسہ سے قرآنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسے سائنسدان بھی بنائیے گا ، انجینئرنگ بھی سکھلائیے گا اور ڈاکٹریٹ بھی ۔۔۔

لیکن شاید یہ سب پڑھانے کے لئے آپ کو خود بھی یہی ڈگریاں حاصل کرنا ہوں گی یا پھر اپنے جیسا ذہن رکھنے والے انجینئر ، ڈاکٹرز ، پروفیسرز ، سائنسدان اور لیکچرار بھی ہائر کرنا ہوں گے جو مولوی کی طرح ” فدیہ یا حلوہ ” لے کر نہیں بلکہ مفت میں پڑھائیں ۔۔ جی ہاں اکثر ” غریب ” لوگوں کو بھی تو علم بانٹنا ہوگا اور ہاں اگر آپ نے فیس لی تو آپ بھی اس زمرے میں شامل ہوجائیں گے جو بقول کسے “ دین بیچتے ہیں “۔ جب آپ ایسے ادارہ میں علماء کی ایک کھیپ جمع کرلیں جن کے ایک ہاتھ میں انجینئرنگ کی ڈگری ہو اور دوسرے ہاتھ میں قرآن و سنت کی تعلیمات ۔ تو انہیں مساجد کے آئمہ بنا دینا تاکہ وہ لوگوں کو فرقوں سے نکال سکیں ، وہ اٹامک انرجی میں جاب بھی کریں اور آپ کے جیسے ادارے سے ملحقہ کسی جامعہ میں بخاری بھی پڑھائیں ، وہ اپنے کلینک پہ مریض بھی دیکھیں اور شام کی کلاسز میں قرآن کی تفسیر بھی پڑھائیں ۔ مولوی کو رہنے دیں آخر ملا نے دیا ہی کیا ہے دنیا کو ؟؟ اس لئے اب ایک ہی حل ہے ۔۔

خود مولوی بن جائیں اور خبردار ! کسی مولوی کے پاس نہیں جانا ۔ خود پڑھیں مولوی تو قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے سے منع کرے گا ۔ آپ سبھی کچھ خود سے پڑھئے گا جب ساری کتابیں یا کتابوں کے ترجمے ایک بار پڑھ لیں پھر آپ “ مولوی “ ہیں ، آپ فرقہ مت پڑھائیے گا ۔۔ اور اپنے جیسے لوگ تیار کیجئے گا ۔ جب آپ کے ساتھ کچھ لوگ مل جائیں تو لوگوں کو فرقہ بندی سے دور کرنے کے لئے ایک تحریک کا آغاز کریں۔کیونکہ جو آپ کی سمجھ ہے اس کے مطابق دین کا کام کرنا آپ کی ذمہ داری ہے ، اس سے عہدہ برآ ہوں اور پھر مثال دے کر یہ کہیں ” بھائی لوگو ! ہمارے ادارہ میں آکر دیکھو جہاں قال اللہ اور قال الرسول سکھلایا جاتا ہے وہیں ہمارا ادارہ آپ کے بچوں کو فری میں ڈاکٹر اور انجینئر بھی بناتا ہے "

دنیا دوڑتی چلی آئے گی ۔ لیکن یاد رکھئے گا کوئی بھی فیس نہ ہو ، کیونکہ آپ نے اگر ذرا سا بھی ہدیہ لیا تو پھر آپ میں اور مولوی میں فرق کیا رہ جائے گا ؟ آپ نے چندہ بھی نہیں لینا کیونکہ آپ کی نظر میں مولوی چندہ خور ہے آپ مت بنئے گا ۔ اس لئے آپ نے یہ سب فری کرنا ہے جب ایسا کر لیجئے تو مولوی کو خوب رگڑئے گا کہ تم نے کیا کیا ؟؟ آؤ آج ہم آپ کو دکھاتے ہیں ہم بے کیا کیا؟؟ ۔۔ جب آپ ایسا کرلو گے تو خدا کی قسم ! اس ملا سے دنیا دور ہو کر تمہارے قدموں کی کنیز بن جائے گی اور اگر ایسا ادارہ بنانے لگو تو مجھے ضرور بتائیے گا ، اس میں تعلیم حاصل کرکے فخر ہوگا کیونکہ بغیر فیس کے مجھے کھانا ، پینا ، بجلی ، دینی تعلیم اور دنیوی ڈگری بھی مل رہی ہوگی اور مجھے یہ اعزاز ہو گا کہ میں نیم ملا نہیں دور حاضر کا ” انجینئر ” بھی ہوں ۔۔

مجھے پچھلے سولہ سالوں میں ملا نے تو کچھ نہ دیا چلیں آپ ہی دے دیں ۔ یقین مانئے آپ جیسے انقلابی دماغوں کی قوم کو اشد ضرورت ہے ۔ ویسے آپ ایسا مجھے بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایسا ادارہ میں کیوں نہیں بنا لیتا ؟؟ جی برادر ! میں نہیں بنا سکتا ، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ مولوی اپنے حصے کاکام کر رہا ہے ۔ آپ کو لگتا ہے کہ مولوی درست نہیں کر رہا تو جس کو لگے کہ معاشرہ میں کچھ غلط ہو رہا ہے اور وہ غلط مولوی کر رہا ہے تو اسے میدان میں آنا چاہئے تاکہ فضا کو بد عملی کی آلودگیوں سے پاک کیا جا سکے ۔۔ میں نے بھی آپ کے ادارے میں پڑھنا ہے ان شاء اللہ

انقلابی کام کیجئے بندہ آپ کے ساتھ ہے ۔۔ اگر آپ نے دس مساجد کے لئے دس علماء بھی تیار کرلیے تو یہ ایک انقلاب کا نقطہ آغاز ہوگا اور دنیا پکار اٹھے گی کہ چلو یار اس ادارے کو وزٹ کرتے ہیں جس نے دور حاضر میں سائنسدان علماء ، انجینئرز امام مسجد اور ڈاکٹرز دین کے داعی پیدا کئے ہیں اور بغیر فیس کے ان کے اخراجات جیب سے ادا کئے ہیں ، مولوی کی طرح بھیک نہیں مانگی ، چندہ نہیں لیا ، فرقہ پرستی نہیں کی ، جھگڑے نہیں کروائے ، لوگوں کا قتل عام اس کے سر نہیں ہے واقعی ایسا ادارہ چاہئے اور پھر اس کی برانچز بھی ۔۔

مولوی کا کیا ہے کچھ بھی نہیں ۔ ڈیڑھ اینٹ کا ملا خود راستے سے ہٹ جائے گا ، اور ہاں یاد رکھئے اس مقابلہ کے لئے عمر کھپ جائے گی کیونکہ ملک اور دنیا بھر میں پھیلے لاکھوں اداروں کی طرح آپ کو بھی لاکھوں ادارے بنانا پڑیں گے ورنہ مولوی کا سحر ٹوٹنے سے رہا ۔۔ ویسے آپس کی بات ہے ڈاکٹر اپنے بچوں کو مولوی سے پڑھانا چھوڑ دے ، انجینئرز اپنے گھر میں مولوی بلانا چھوڑدے ، سائنسدان فرقہ پسندوں سے اپنے جنازے کا حق چھین لے آپ اور میں اپنے محلہ کی مسجد کے امام کوچھٹی دلوا کر خود اسی کی جگہ پہ کھڑے ہوجائیں اور فری میں پانچ نمازیں پڑھانا شروع کردیں تو یقین مانئے ہمارا کام شروع ہوگیا اور پھر ان شاء اللہ آہستہ آہستہ ادارہ بھی بنا لیں گے ۔۔ کیا خیال ہے ؟؟