بلاگ

جدید عورت: آبجیکٹ سے سیکس ٹوائے تک

کل ماڈرن لونڈیوں کے عنوان سے ایک پوسٹ لگائی تھی تو دوستوں نے مختلف قسم کے ریسپانسز دیے۔ تو سوچا اپنے موقف کو مزید نکھار کر بیان کر دوں۔ بعض دوستوں نے طعنہ دیا کہ اب مولانا صاحب یہ چاہتے ہیں کہ لڑکیاں یونیورسٹی کی تعلیم بھی حاصل نہ کریں۔ تو بھئی ہم نے یہ نہیں کہا کہ لڑکیاں ہائر ایجوکیشن حاصل نہ کریں اور لڑکیوں کے یونیورسٹی جانے کے خلاف نہیں ہیں البتہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ لڑکیوں کو کو۔ایجوکیشن والی یونیورسٹیز میں نہیں بلکہ لڑکیوں والی یونیورسٹی میں جانا چاہیے۔ تو ایسی سوچ میں حرج ہی کیا ہے؟ لڑکیوں کی یونیورسٹیز، لڑکیوں کے لیے ہی تو بنائی گئی ہیں، یا لڑکوں کے لیے ہیں تو بتلا دیں؟ اور اکثر وبیشتر پوسٹ گریجویٹ گرلز کالجز، یونیورسٹیز کا درجہ پا چکے اور جو نہیں بھی پا سکے، وہ بھی بی۔ایس اور ماسٹرز وغیرہ تو کروا ہی رہے ہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کو۔ایجوکیشن میں بچوں کا سی۔جی۔پی۔اے (CGPA) نسبتا زیادہ گرتا ہے تو پھر اس کی طرف دوڑ کیوں؟

بعض دوستوں نے کہا کہ آپ عورت کے باہر جا کر ملازمت کرنے کے خلاف ہیں تو ایسا بھی نہیں ہے۔ عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے، ضرورت کے تحت بھی اور ملازمت کے لیے بھی لیکن ملازمت ملازمت میں فرق ہے۔ ایک عورت لڑکیوں کے کسی اسکول میں بچیوں کو تعلیم دے رہی ہے، یہ ہر گز آبجیکٹ نہیں ہے لیکن جو سیلز گرل کے طور پر شاپنگ مال میں بن سنور کر کھڑی ہے اور مخصوص انداز کی ٹائٹس پہنے شیمپو بیچ رہی ہے، تو وہ ایک آبجیکٹ ہی ہے۔ اس پر پڑنے والی مردوں کی نظریں بتلا رہی ہیں کہ وہ آبجیکٹ ہے۔ باقی وہ مجبوری کے تحت ایسا کر رہی ہے، اس کے گھر کے حالات ایسے ہیں، اللہ نے اسے گناہ دینا ہے یا ثواب دینا ہے، یہ میرا موضوع نہیں ہے۔

میرا موضوع تو صرف اتنا ہے کہ کون سی عورت مرد کے لیے آبجیکٹ ہوتی ہے اور کون سی ہیومن بیئنگ۔ اور بعض جابز ایسی ہیں کہ ان میں عورت آبجیکٹ ہی بنتی ہے اور آبجیکٹ ہی رہتی ہے، اسے ہیومن بیئنگ بننا نصیب نہیں ہوتا۔ قندیل بلوچ نے روڈ ہوسٹس کی جاب کی تھی، تو کیا نتیجہ نکلا؟ اب مردوں کو گالیاں دیں، وہ تو دو میری طرف سے بھی دے دیں لیکن روڈ ہوسٹس ایک آبجیکٹ ہے، مرد نے تو اسے دیکھنا ہی ہے۔ بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ وہ مردوں کو دکھلانے کے لیے ہی تو رکھی گئی ہے۔ تو مرد اسے دیکھے گا نہیں تو کیا کرے گا؟ آپ کا کیا خیال ہے کہ حسب حال، مذاق رات اور خبر زار جیسے ٹاک شوز میں بھی جو عورت ہنسانے کے لیے، سوال کرنے کے لیے، خبریں پڑھنے کے لیے بٹھائی جاتی ہے تو وہ ایک آبجیکٹ نہیں ہے کیا؟ اگر آبجیکٹ نہیں ہے تو اس کی جگہ مرد بھرتی کر لیں، پھر دیکھیں، شو کتنا کامیاب رہتا ہے۔

اسی طرح ہم نے گھر سے بے پردہ نکلنے والی ہر عورت کو ماڈرن لونڈی نہیں کہا۔ البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ گھر سے نکلنے والی ہر بے پردہ عورت، مرد کے لیے ایک "آبجیکٹ” ہے نہ کہ ہیومن بیئنگ یعنی مرد کے لیے وہ دیکھنے کی ایک شے ہے جیسا کہ دوسری چیزیں نہ کہ کوئی انسان۔ یعنی بے پردہ عورت سے مرد کو پہلی فیلنگ، آبجیکٹ والی محسوس ہوتی ہے نہ کہ ہیومن بیئنگ والی۔ دوسرا وہ عورتیں جو ماڈلز اور اداکارائیں ہیں اور نیم برہنہ لباس میں (revealing clothes) میں ملبوس ہوتی ہیں تو انہیں ہم نے ماڈرن لونڈیوں سے تشبیہ دی تھی۔ بعض دوستوں نے کہا کہ زمانہ قدیم کی لونڈیاں تو مجبور تھیں اور یہ اپنی آزاد مرضی سے یہ پیشہ اختیار کرتی ہیں تو لونڈی کیسے ہو گئیں وغیرہ وغیرہ؟ تو اس کا علمی جواب تو یہی ہے کہ تشبیہ "من وجہ” ہوتی ہے یعنی ایک پہلو سے ہوتی ہے۔ جب آپ کسی نشی کو مجازا "جہاز” کہہ دیتے ہیں تو کوئی یہ اعتراض کرے کہ جہاز تو اڑتا ہے، یہ تو اڑتا نہیں ہے تو ایسے شخص کو نہ زبان کی سمجھ ہے اور نہ ہی اس کے استعمال کا ڈھنگ آتا ہے۔

تو میڈیا کی عورت کو ماڈرن لونڈی کہنے میں "وجہ تشبیہ” یہ تھی کہ زمانہ قدیم میں لونڈی بھی ایک آبجیکٹ تھی اور آج میڈیا کی عورت بھی آیک ابجیکٹ ہی ہے۔ بیوی اور لونڈی میں یہی بنیادی فرق ہی یہی ہے کہ بیوی ہیومن بیئنگ کی طرح نکاح میں آ کر مرد کی جنسی خواہش پوری کرتی ہے اور لونڈی سے خواہش ایک آبجیکٹ کی طرح بغیر نکاح کے پوری کی جاتی ہے۔ باقی میڈیا کی یہ لونڈیاں کام یہی کر رہی ہیں لیکن انہیں تاک جھانک کر مردوں کا ان سے اپنی خواہش پوری کرنا جائز نہیں ہے۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ حافظ صاحب تکبر میں مبتلا ہیں تو میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ اگر قندیل بلوچ سے بھی اپنے آپ کو بہتر سمجھوں۔ میرا موضوع یہ نہیں ہے کہ میڈیا کی عورت جنت میں جائے گی یا جہنم میں، گناہ گار ہے یا نیکوکار، مجھے اس سے کیا لینا دینا بھائی۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک کتے کو پانی پلانے کی وجہ سے ایک طوائف کو معاف کر دیا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک نیکوکار عورت ایک بلی کو باندھنے کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی۔ تو آخرت کا معاملہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔

میں تو معروضی حقیقت بیان کر رہا ہوں کہ میڈیا کی عورت، آبجیکٹ بن کر مفت میں مردوں کی خواہشات پوری کر کے ماڈرن لونڈی کا کردار ادا کر رہی ہے اور بیوی بنانے کو اسے کوئی تیار نہیں ہے، اگر ہے بھی تو اسی کے قبیلے کا غلام، اور وہ بھی زیادہ دیر بیوی بنا کر نہیں رکھتا، جلد ہی طلاق دے دیتا ہے کیونکہ وہ بیوی بننے کے اہل ہی نہیں ہے۔ وہ آبجیکٹ سے ایک سیکس ٹوائے بن چکی ہے لہذا شادی کے بعد بھی اگر وہ اپنا مقصد پورا کرتی رہے تو شادی باقی رہے گی، ورنہ علیحدگی ہو جائے گی۔ اگر اس کی شادی ہو بھی جائے گی تو شوہر کو اس سے بچے اور نسل نہیں، بس صرف سیکس چاہیے ہو گا کہ وہ گھر میں ہیومین بیئنگ نہیں، ایک آبجیکٹ لے کر آیا ہے۔ اور وہ اسے ایک آبجیکٹ کی طرح ڈیل کرے گا نہ کہ ہیومن بیئنگ کی طرح۔ اور اس طرح یہ رشتہ زیادہ عرصہ چل نہیں پائے گا۔ عورت میں حیاء کا وصف جس قدر ہو گا، اسی نسبت سے ہیومن بیئنگ کی فیلنگ دے گی اور جس قدر بے پردہ ہو گی، اسی قدر اپنے آبجیکٹ ہونے کا اظہار کرے گی۔ اب اس پر ریسرچ کر لو۔