افسانے بلاگ

نامحرم کا موبائل، انٹرنیٹ اور فیس بُک کے ذریعہ دوستیاں گانٹھنا ۔۔۔ شیطانی خطرات کا حامل

سوال:آج کل بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو منہ بولا بھائی بہن وغیرہ جتلا کر فون پر گھنٹوں باتیں کرتے ہیں ۔ کیا اس طرح سے کوئی کسی کا بھائی یا بہن بن جاتا ہے اور پھر کیا بھائی بہن کی طرح اپنی نجی زندگی کے مسائل شیئر کرنا صحیح ہے ۔ کیا اس طرح سے فون کے ذریعہ یا پھر انٹرنیٹ کے فیس بُک وغیرہ کے ذریعہ غیر محرموں کا آپس میں دوستیاں گانٹھنا شریعت کی رو سے جائز ہے ۔ براہ کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب: نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا اس طرح باتیں کرنا سراسر حرام ہے ۔ چاہے موبائل فون کے ذریعہ یا انٹرنیٹ کے ذریعہ یا فیس بُک کے ذریعہ ہو۔ پھر اس پر یہ کہنا کہ یہ میرا منہ بولا بھائی یا بہن ہے ۔ یہ دراصل اپنے جرم پر پردہ ڈالنے اور ایک حرام کو حلال بنانے کی غیر شرعی شیطانی کوشش ہے۔

نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اولاً اس طرح کی گفتگو سے آغاز کرتے ہیں اور پھر عشق بازی اور آگے بدکاری کے جال میں پھنس جاتے ہیں ۔اس وقت جو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بے حیائی اور بدکاری کے دلدل میں لت پت ہیں اور پھر اُس کے نتیجے میں صورتحال اُس طرف جارہی ہے کہ کسی پاکدامن لڑکے یا لڑکی کا ملنا خواب بن جائے گا۔ یہ سب اسی شیطانی سلسلہ کا تلخ نتیجہ ہے۔

اس وقت جنسی جذبات کے بے قابو ہونے کا حال یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ حقیقی بھائی بہن اگر جوان ہوں، فحش فلمیں دیکھتے ہوں اور ناچ گانے کے ماحول میں ہوں توحقیقی بھائی بہن ہونے کے باوجود شیطانی حملوں کا شکار ہوسکتے ہیں اور اس طرح کے حادثہ ہوسکتے ہیں جو سوچنا بھی مشکل ہے۔ جب حقیقی بھائی بہن کو خطرے ہیں تو کسی بھی نامحرم چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار کیوں نہ ہو اُس سے فون پر رابطہ قائم کرنا ہی حرام ہے اور زیادہ ہی خطرہ ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ: اے نبی کی بیویو! اگر تم سے کوئی نامحرم بات کرے تو کرخت اور تلخ لہجے میں جواب دو ۔ تاکہ اُس کے نفس میں تمہارے متعلق غلط خیال پیدا نہ ہوں۔ (سورہ احزاب)

اسی لئے عورتوں کو حکم ہے کہ وہ کسی بھی نامحرم سے بات ہی نہ کریں اور اگر مجبوراً بات کرنی پڑے تو بہت پھیکے اور ناگوار انداز میں کریں تاکہ یہ آگے غیرشرعی تعلقات کا ذریعہ نہ بنے۔

جب مسلمان اس حکم کو چھوڑ دیتے ہیں تو اس سے کیسے کیسے جرائم وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ ہمارے معاشرے میں چاروں طرف سے نمایاں ہیں ۔ لڑکوں کے لڑکیوں سے غلط تعلقات، مردوں کے دوسروں کی بیویوں کے ساتھ اور عورتوں کے دوسرے مردوں کے ساتھ روابط اور پھر کتنوں کی زندگیاں تباہ وبرباد ہورہی ہیں ۔ اس لئے کسی مسلمان لڑکے یا مرد کے لئے اور کسی مسلمان عورت یا لڑکی کے لئے ہرگز یہ رابطے اور بات چیت کاسلسلہ جائز نہیں ہے۔

حق یہ ہے کہ کامیاب لڑکا وہ ہے جو نکاح کے بعد اپنی زوجہ سے ڈنکے کی چوٹ پر یہ کہہ سکے کہ میرے روابط کسی نامحرم کے ساتھ نہیں ۔میرادل بھی پاک ، جسم بھی پاک اور نگاہ بھی پاک ہے ۔ میری عفت بھی محفوظ اور میری حیاء بھی برقرار ہے۔ اور کامیاب بیٹی وہ ہے جو اپنے ہونے والے شوہر کو رخصتی کے بعد پہلی ہی ملاقات میں یہی سب کچھ کہے اور اس میں وہ سچی بھی ہو اور یہ اسی صورت میں ہوگا جب موبائل، فیس بک اور انٹرنیٹ وغیرہ کے اس جال میں اپنے آپ کو پھنسانے سے بچاکر اپنی جوانی کے نازک دن گذاریں۔

شیخ الحدیث مفتی نذیر احمد قاسمی حفظہ اللہ