اسلام

معجزۂ شق القمر

شق القمر ایک ایسا معجزہ تھا جس کی گواہی خود قران کریم میں دی گئی ہے اور صحیح احادیث سے اس عظیم الشان معجزے کا ثبوت ملتا ہے، اس پر ایمان رکھنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔ شعب ابی طالب میں محصوری کے دن اسی طرح گزر رہے تھے، مقاطعہ کا دوسرا سال تھا اور حج کے دن تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض صحابہ کے ساتھ مِنیٰ میں تھے، آسمان پر بدر کامل تھا، ایسے میں کفّار نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو اس چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھائیے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے اس مطالبہ کو پورا کرنے کی دعا فرمائی اور چاند کی طرف انگلی سے اشارہ کیا تو چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے، ایک کوہ حرا کے اوپر اور دوسرا اس کے دامن میں تھا، جب سب لوگوں نے صاف طور پر یہ معجزہ دیکھ لیا تو یہ دونوں ٹکڑے پھر آپس میں مل گئے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوۓ تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے میدان میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لوگو! گواہ رہنا اور چاند کا ایک ٹکڑا دوسرے سے الگ ہو کر پہاڑ کی طرف چلا گیا تھا۔” (صحیح بخاری، حدیث: 3869)

چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا یہ معجزہ بہت صاف تھا، قریش نے اسے بڑی وضاحت سے کافی دیر تک دیکھا اور آنکھ مل مل کر اور صاف کر کرکے دیکھا اور ششدر رہ گئے، لیکن پھر بھی ایمان نہیں لائے بلکہ کہا کہ "یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور حقیقت یہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری آنکھوں پر جادو کردیا ہے۔” اس پر بحث و مباحثہ بھی کیا، کہنے والوں نے کہا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم پر جادو کیا ہے تو وہ سارے لوگوں پر تو جادو نہیں کر سکتے، باہر والوں کو آنے دو، دیکھو کیا خبر لے کر آتے ہیں، بعد میں کچھ لوگ سفر سے واپس آئے اور تصدیق کی کہ ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے ہوئے دیکھا ہے، لیکن پھر بھی کفار ایمان نہیں لائے اور اپنی ڈگر پر چلتے رہے، صحابہ کرام میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت حُذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اس کے عینی شاہد ہیں۔

قرآن مجید میں سورۂ قمر کی ابتدائی آیات میں شق القمر کا ذکر ہے: "قیامت قریب آپہنچی اور چاند شق ہوگیا اور اگر کافر کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک ہمیشہ کا جادو ہے۔” (سورہ قمر: 1,2)* اس عظیم الشان معجزے پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر ایسا ہوا بھی ہے تو اس کا مشاہدہ پوری دنیا میں ہونا چاہیے تھا اور تاریخ کی کتابوں میں اس کا تذکرہ ہونا چاہیے تھا، حالانکہ اس معجزے کے وقت کا اندازہ کیا جائے تو چاند کا پوری دنیا میں دیکھا جانا ناممکنات میں سے تھا، کیونکہ اس وقت چاند صرف عرب اور اس کے مشرقی ممالک میں نکلا ہوا تھا، پھر اس معجزے کا وقت بھی طویل نا تھا اور اس سے روایت کے مطابق کوئی دھماکہ یا تیز روشنی کا اخراج بھی نہیں ہوا اور نا ہی اس کے اثرات زمین پر کسی قسم کے پڑے، ظاہر ہے کہ یہ ایک متوقع معجزہ نہیں تھا کہ تمام دنیا کی نظریں چاند پر ہوتیں، اسی لئے یہ معجزہ صرف انہی لوگوں نے دیکھا جنہوں نے معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم ہندوستان کی مشہور مستند "تاریخ فرشتہ” ( مصنف محمد قاسم فرشتہ.. ۱۰۱۵ ہجری) میں اس کا ذکر موجود ہے، جو انہوں نے بحوالہ کتاب "تحفۃ المجاہدین” میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت عرب سے قدم گاہ حضرت آدم علیہ السلام کی زیارت کے لئے سراندیپ (سری لنکا) کو آتے ہوئے ساحلِ مالا بار (ہند) پر اتری، ان بزرگوں نے وہاں کے راجہ "چرآمن پیرومل” سے ملاقات کی اور معجزۂ شق القمر کا ذکر کیا، راجہ نے اپنے منجموں کو پرانے رجسٹرات کی جانچ پڑتال کا حکم دیا، چنانچہ منجموں نے بتلایا کہ فلاں تاریخ کو چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور پھر مل گیا، اس تحقیق کے بعد راجہ نے اسلام قبول کرلیا، ہندوستان کے بعض شہروں میں اس کی تاریخ محفوظ کی گئی اور ایک عمارت تعمیر کرکے اس کی تاریخ "شب انشقاق قمر” کے نام سے مقرر کی گئی۔

اس ضمن میں ایک دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ناسا کے خلانوردوں نے چاند کی ایک تصویر شایع کی جو چاند کی سطح پر ایک فالٹ لائن کو ظاہر کررہی ہے، جس کے بارے میں یہ نظریہ قائم کیا گیا ہے کہ یہ شاید لاوا کے بہنے سے لاکھوں سال پہلے بنی ہے، یہ صرف ایک نظریہ ہے اور اس کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ کسی وقت میں لاکھوں سال قبل چاند زمین یا مریخ کا حصّہ رہا ہوگا اور کسی فلکیاتی حادثہ کی وجہ سے ٹوٹ کر زمین کے قریب آگیا ہوگا، اس نظریہ کا صحیح یا غلط ہونا چاند کی سطح پر انسانی موجودگی اور مزید سائنسی تجربات سے مشروط ہے، اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ چاند کبھی بھی زمین یا مریخ کا حصّہ نہیں رہا تو اس فالٹ لائن کی اہمیت اس معجزے کے حوالے سے نہایت اہم رخ اختیار کر لے گی۔ شق قمر کی یہ نشانی شاید اس بات کی بھی تمہید رہی ہو کہ آئندہ اسراء اور معراج کا واقعہ پیش آئے تو ذہن اس کے امکان کو قبول کرسکیں۔ واللہ اعلم۔