اسلام کالمز

خواتین کی غلط فہمی!

mistake-of-womens

اکثر خواتین مجھ سے یہ سوال کرتی ہیں کہ عورتوں کے حقوق انہیں تو معلوم ہیں لیکن پاکستان کے مردوں کوکون بتائے گا کہ خواتین کے حقوق کیا ہیں ؟ میرے خیال میں یہ سوال بالکل بے کار ہے کیونکہ خواتین کو پتا ہی نہیں کہ ان کے حقوق کیا ہیں؟ کوئی خاتون مجھے اپنے پانچ حقوق بتا دے؟ یہ خواتین کی غلط فہمی ہے کہ ان کو عورتوں کے حقوق کا علم ہے۔ایسی خواتین کا خیال جو بھی ہے ،میں تو انکو کھلا چیلنج دے رہا ہوں کہ وہ مجھے اپنے پانچ حق بتا دیں۔ کیا حق ہیں جو اللہ نے عورت کودیئے ہیں؟

ایسی خواتین کو نہایت ادب سے مشورہ دوں گا کہ غلط فہمیوں میں زندگی مت گزاریں۔ آپ مستقبل کی مائیں ہیں اس لیے خدا کے واسطے دو باتیں ذہن میں رکھیں۔ یہ باتیں بڑی شدت سے، بڑے ادب سے کہہ رہا ہوں کہ حضرت عمر خطابؓ بڑے زبردست انسان ہیں لیکن اگر اُن کی بہن سورہ طٰہٰ کی تلاوت نہ کر رہی ہوتیں تو حضرت عمرؓ اسلام قبول نہ کر پاتے۔ جن گھروں میں بیٹیاں تلاوت نہیں کریں گی وہاں کے بیٹے عمر خطابؓ نہیں بن سکتے۔ آپ کو اپنے حقوق کا علم نہیں ہے، اگر آپ کوامام ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ پیدا کرنا ہے تو آپ اپنے پیٹ میں جب بچے کو پال رہی ہوں تو وہ تلاوت سن رہا ہو تاکہ وہ بچہ قرآن کی تلاوت سن کے حافظ بن کے باہر اس دنیا میں آئے۔ آپ کو اپنے حقوق کا اندازہ ہی نہیں ، آپ اس اُمت کا وہ حصہ ہیں جس کا احسان مند خود خدا کی ذات ہے اور خدا احسان رکھتا نہیں ہے۔

دیکھئے! خدا کے پاس سب سے بڑی شے کیا ہے؟ جنت ناں۔ جنت سے بڑی شے کا لالچ توانسان کے لیے ہے ہی نہیں اور اللہ نے اس کا مقام کہاں رکھا؟ تمھارے پاوں کے نیچے کیوں رکھا؟ جب تم ماں بن جاو،یہ ماں تومغربی عورت بھی تو بنتی ہے ناں! یہ ماں تو وہ عورت بھی بنتی ہے جو نکاح میں نہیں ہوتی۔ کوئی مقام تو ہو گا ماں کا کہ جنت اُس کے پاوں کے نیچے آ جائے۔ کیاخواتین اس مقام کو پہچانتی ہیں؟ میرا جواب ہے کہ قطعاً نہیں!!! ان کو اپنے حقوق کا بالکل نہیں پتا۔ صرف ایک جملہ کہتا ہوں کہ حقوق کوئی شے نہیں ہوتے، فرائض ہوتے ہیں۔

نماز میرا حق ہے؟ ہر گز نہیں! نماز میرافرض ہے، حق کون سا دیا اللہ نے ؟ اللہ نے کوئی حق نہیں دیا۔ حق by product ہوتا ہے فرض کا۔ جب آپ فرض ادا کرتے ہیں تو حق کمیٹی کی طرح آپ کی investment بن جاتا ہے اور سود کی طرح آپ کو ملتا ہے۔ جب آپ اپنے فرائض کو پہچانیں گی پھر حقوق آپ تک پہنچا ہی دئیے جائیں گے۔ دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہو سکتا جو کہے کہ میرے یہ حقوق ہیں مجھے دیئے جائیں! جب کچھ مانگنا پڑے تو آپ فقیر ہیں، فقیر کا کون سا حق ہوتا ہے؟ یہ آپ کو جو لوکل NGOsہیں نا انھوں نے غلط فہمیاں پیدا کر دی ہیں کہ عورتوں کے حقوق ہوتے ہیں ، عورتوں کے فرائض ہوتے ہیں ۔ حقوق برابری پہ ملتے ہیں پھر بڑھتے ہیں، آپ کا فرض کیا ہے؟ کوئی ایک بیٹی مجھے اس بات کا جواب دے دے ۔ مجھے مقصد ِ نکاح بتا دو؟ مقصد ِ نکاح، نکاح کا مقصد کیا ہے؟

خطبہ نکاح کیا پڑھتے ہیں؟ اللہ کے رسولﷺ کہتے ہیں کہ مقصد ِ نکاح یہ جملہ ہے کہ یہ عورت تمھارے حوالے کی جاتی ہے۔ تمھارے نفس کی تسکین کی خاطر۔ ہمیں مولویوں نے کیا بتایا؟۔ تسکین کا مطلب ہے، جبلت جسمانی۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عبداللہ ابن عباسؓ، حضرت عبداللہ ابنِ عمرؓ ، یہ کیا تفسیر کہتے ہیں؟کہتے ہیں! تسکینِ نفس سے مراد رسولﷺ نے یہ کہی کہ جس طرح ایک نمازی مسجد سے نکلتا ہے تو دل مسجد میں چھوڑ جاتا ہے، اسی طرح شوہر جب گھر سے نکلے تو دل گھر پہ چھوڑ کے جائے، یہ مقصد نکاح ہے۔ جب آپ مقصدِ نکاح پورا کریں گی تو آپ کو حقوق مانگنے نہیں پڑیں گے۔ ا سی ایک کام کے لیے کیونکہ یہ کام جو ہے دل کی تسکین، نفس کی تسکین ، یہ مشکل کام ہے، یہ intellectual paradigm ہے، یہ ذہنی کام ہے اس لیے اللہ نے عورت پر سے کمانے کا بوجھ اُٹھا لیا، کیونکہ یہ بڑا کام تھا۔ کما تو گدھا بھی لیتا ہے، یہ کون سی کوئی بڑی بات ہے، لیکن جذبات کو balanceرکھنا اور گھر میں peaceful ماحول ایسا رکھنا کہ دس بجے ہی دل کرے کہ گھر واپس جاوں۔ یہ تسکین ہے نفس کی۔ یہ حدیث ہے (مفہوم حدیث) کہ یہ خطبہ نکاح کا نچوڑ ہے۔ nucleus ہے۔میری پیاری بیٹیو! خدا کے واسطے اپنے آپ کو undermine اس طرح سے مت کرنا کبھی کہ آپ میڈیا سے، NGOs سے تعلیم لو، آپ کو تعلیم لینی ہے تو حدیث کی کتاب سے لو۔

تحریر: سید بلال قطب