ادب اسلام

میں نے اسم محمد ﷺ کو لکھا بہت اور چوما بہت

سلیم کوثر سے میری آج تک ملاقات نہیں ہوئی لیکن اُس کی شاعری کے حسن اظہار اور اوج کمال سے میری بہت یاریاں ہیں۔ بے شمار قربتیں ہیں کہ میں جو عرف عام میں ایک شاعر بیزار شخص ہوں، سلیم بیزار اس لئے نہیں ہوں کہ وہ ایک میکانکی، قافیے ردیف کے اُکتا دینے والے شعبدے دکھانے والا شاعر نہیں ہے۔ اُس کے بیشتر شعر میرے دل کی سرزمینوں میں سے پھوٹتے میرے بدن کے گلزار کو نوبہار کرتے ہیں۔۔۔ بے شک ’میں خیال ہوں کسی اور کا‘۔۔۔ نے اُسے جعلی شہرت کی چکاچوند سے آشنا کیا ہے لیکن اس غزل کی وجہ سے اُس کی بقیہ شاعری پس منظر میں چلی گئی ہے۔۔۔ اور اُس کا قصور صرف یہ ہے کہ اُسے کسی بڑے گلوکار نے نہیں گایا۔۔۔

اگر منیر نیازی نے یہ نہیں کہا تو اُسے کہنا چاہئے تھا کہ اس دور میں جس طور شاعری کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہو رہی ہے، بیشتر شعراء کو تلف کر دینا چاہئے۔ مجھے جتنے بھی ادبی رسائل موصول ہوتے ہیں وہ شاعری سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، بے روح اور پھیکی شاعری سے بھرے ہوئے۔۔۔ البتہ میں اس شاعری کے کارزار میں سے جن شاعروں کا کلام تلاش کر کے پڑھتا ہوں اُن میں ظفر اقبال، انور شعور، رسا چغتائی، اظہارالحق، وحید احمد، روحی کنجاہی اور کچھ دوسروں کے علاوہ یہ سلیم کوثر ہے جو مجھے شاعری کے طلسم سے باندھ کے رکھ دیتا ہے۔۔۔ میں عام طور پر کتابوں پر اپنی رائے دینے سے گریز کرتا ہوں لیکن سلیم کوثر کے تازہ کلام نے مجھے مجبور کر دیا ہے کہ میں اس کا تذکرہ بے حد احترام اور شکرگزاری سے کروں، آپ ہی انصاف کیجئے کہ اگر ایک مجموعے کا عنوان’’میں نے اسمِ محمدؐ کو لکھا بہت‘‘ ہو تو کیا میں گریز کر سکتا ہوں۔۔۔ یہ عنوان ہی میری مجبوری ہے کہ اسم محمدؐ ہی تو میرے بدن کی تختی پر ازل سے بہت لکھا ہوا ہے۔۔۔

میں نے ’’غارِ حرا میں ایک رات‘‘ اور ’’منہ وَل کعبے شریف‘‘ میں اسی اسم کی ہی تو تسبیح کی ہے۔ مجھے یکے بعد دیگرے تیسرے آپریشن کے لئے سٹریچر پر ڈال کر جب آپریشن تھیٹر لے جایا جا رہا ہے تو یہ اسمِ محمدؐ ہے جس کا میں ورد کر رہا ہوں، اپنے آقا کے جوتوں کی گانٹھوں کے صدقے جا رہا ہوں، اُس کے کھدّر کے پیراہن کو تھام کر اُس کی شفاعت کا طلب گار ہوتا ہوں۔۔۔ اُس کی اونٹنی قصویٰ کی جھانجھروں کی چھن چھن میرے کانوں میں گونجتی ہے تو پھر میں سلیم کوثر کے مجموعے ’’میں نے اسم محمدؐ کو لکھا بہت‘‘ کو کیسے اپنی جان سے زیادہ عزیز نہ رکھتا۔
میں یہاں نعت گوئی کی صنف پر کچھ بحث نہیں کرنا چاہتا کہ کیسے محض نعت لکھنے کی خاطر نعتوں کے انبار لگائے جا رہے ہیں اور مجال ہے کسی ایک شعر میں دل سے اٹھنے والے عشق کی کوئی ہوک ہو، کوئی پکار ہو۔۔۔ مجھے صنعت گری اور لفظوں کی جادوگری سے کچھ سروکار نہیں، جب تک عشق رسولؐ کا لہو آنکھ سے نہ ٹپکے، یہ سب محض زبان و کلام کی ورزشیں ہیں۔۔۔

مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں شاعر ہفت زبان عبدالعزیزخالد کے حوالے سے خصوصی نمبر نکالنے کا بہت رواج تھا، اس لئے بھی کہ وہ ان دنوں انکم ٹیکس کمشنر تھے۔۔۔ عزیزم ڈاکٹر تحسین فراقی نے بھی اُن کے حوالے سے ایک خصوصی نمبر ترتیب دینے کا فیصلہ کیا۔ تحسین کے علم و فضل اور تحقیق کی ایک دنیا تحسین کرتی ہے تو ایک روز وہ میری بیجوں کی دکان ’’کسان اینڈ کمپنی‘‘ پر آیا اور کہنے لگا ’’تارڑ صاحب آپ عبدالعزیز خالد صاحب کی شاعری کے بارے میں کچھ لکھ دیں تاکہ خصوصی نمبر میں آپ کی رائے شامل کی جا سکے‘‘۔۔۔ میں نے جب معذرت کی تو وہ کہنے لگا، خالد صاحب نے نہایت شاندار نعتیں بھی تو تحریر کی ہیں، اُن کے بارے میں کیا خیال ہے، تو میں نے کہا کہ میرے نزدیک گجرات کے امام دین نعت کا سب سے بڑا شعر کہہ گئے ہیں تو تحسین کو یہ موازنہ اچھا نہ لگا کہ کہاں خالد صاحب اور کہاں امام دین گجراتی۔۔۔ تو میں نے وہ شعر پیش کیا:نبیؐ کا جس جگہ پہ آستاں ہے۔۔۔زمین کا اتنا ٹکڑا آسماں ہے

تحسین دنگ رہ گیا کہ واقعی یہ نعت کا بہت بڑا شعر ہے۔۔۔ میرے نزدیک اگر چناؤ کرنا ہو تو امام دین گجراتی کے اس شعر کے علاوہ صرف ’’کِتھّے مہر علی کِتھّے تیری ثناء‘‘ ہی نعت کے دو سب سے بڑے اور پُراثر شعر ہیں، باقی پسند اپنی اپنی۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ جب میں پہلی بار روضۂ رسولؐ کی جانب بڑھ رہا تھا تو یہ ’’کِتھّے مہر علی کِتھّے تیری ثناء‘‘ ہی مجھے پار لے گیا۔ میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبوئیں جاتی نہیں۔۔۔۔میں نے اسم محمدؐ کو لکھا بہت اور چوما بہت

سلیم کوثر نے اگر نعت لکھی ہے تو وہ اُس کے عشق محمدؐ کی کیسر کیاری سے پھوٹی ہے۔
طواف یوں سَر شہر رسول ہو جائے۔۔۔ میں خود سفر پہ رہوں جسم دُھول ہو جائے
اُس کی خوشبو سے مہکتا ہے مرا گھر آقا۔۔۔ آپؐ کے شہر سے اِک آدمی آیا ہوا ہے

سلیم کوثر کی حوض کوثر پر حاضری پکّی ہو گئی، اُس کے شعروں کا دامن تھام کر اگر میں بھی وہاں تک چلا جاؤں تو بات بن جائے۔ اور آخر میں آپ کو اپنے ایک راز میں شریک کرتا ہوں۔۔۔ شاید میں اس مجموعے کے حوالے سے غفلت اختیار کر جاتا لیکن اس کے آغاز میں ’’اے ربّ جہاں‘‘ کے عنوان سے جو اظہار ہے، یہی تو میرے دل میں تھا، سلیم کوثر نے کیسے میرے دل میں جھانک لیا کہ یہی تو میری آرزو تھی، تمنا تھی تو بس یہی تھی۔

میں جاؤں مدینے اور وہاں۔۔۔کوئی ایسا کام نکل آئے۔۔۔جو صرف مجھے ہی آتا ہو۔۔۔جو صرف مجھے ہی کرنا ہو۔۔۔ جسے کرتے کرتے جینا ہو۔۔۔۔جسے کرتے کرتے مرنا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لکھاری کے بارے میں

مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفر نامے اور ناول نگاری ہے۔

Loading...