ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

میں ہوں قادری سنی ٹن ٹن ٹنا ٹن

نعت اصطلاحی معنوں میں نبی کریمﷺ کی تعریف و توصیف کرنے کو کہا جاتا ہے- نعت گوئی کی تاریخ شاید اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ دین اسلام خود۔ قدیم صحف اور اساطیر میں نبی کریم ﷺ کے لیے ستائشی کلمات استعمال ہوئے ہیں، خود قران شریف میں اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کی تعریف فرمائی ہے۔ سورہ الانبیاء میں ارشاد ہوتا ہے:
وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً الِّلْعَالَمِیْن ترجمہ (اور ہم نے تم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا)

مدینہ تشریف آوری کے موقع پر دخترانِ اںصار سے جو مدح سرائی منسوب ہے، اس سے کون ناواقف ہے:
’’ طلع البدر علینا من ثنیات الوداع ‘‘ خزرجی صحابی حضرت حسانؓ بن ثابت ایک نعت گو شاعر تھے۔ اسکے بعد مسلمانوں میں نعت گوئی کا ایک ایسا لا متنائی سلسلہ شروع ہوا، کہ جو انشاءاللہ قیامت تک جاری رہے گا- عربی، فارسی اور اردو میں لا تعداد نعتیہ کلام موجود ہے جس سے ہمارے کان اور نگاہیں بچپن سے ہی مانوس ہیں۔ اردو زبان میں نعت گوئی میں ایک نیا پہلو یہ ہے کہ بیشمار ہندو اور سکھ شعراء نے بھی نبی کریم ﷺ سے اپنی محبت کا بے لوث اظہار اپنے شاعرانہ کلام میں کیا ہے، مثلاً ایک سکھ شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی نے بارگاہ نبویؐ میں اپنا ہدیہ تبریک ان الفاظ میں پہنچایا ہے:

عشق ہوجائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں۔
صرف مسلم کا محمدﷺ پہ اجارہ تو نہیں۔

اگرچہ مسلمانوں میں مذہبی رجحان رکھنے والے شعراء نے اپنے اپنے انداز میں نعتیہ کلام کہا ہے، تاہم مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی نے جتنی بڑی تعداد میں نعتیہ اشعار کہے ہیں، شاید ہی کسی اور نے کہے ہوں، تاہم یہ بات یقینی ہے کہ ان کے نعتیہ کلام کو اردو دان طبقہ میں جتنی پزیرائی ملی ہے، اتنی کسی اور کے کلام کو نہیں ملی ہے- ان کے بعض اشعار سے یقیناً اختلاف رکھا جاسکتا ہے، لیکن یہ بات بھی ماننے کی ہے، کہ جس کلام سے اختلاف نہیں ہے، وہ اپنی شاعرانہ اسلوب، اور بیان میں اپنی مثال آپ ہے۔ مولینا احمد رضا خان بریلوی صاحب کی ایک نعت شاید جدید نعت گوئی کی تاریخ کا عجوبہ قرار دی جاسکتی ہے کہ جس میں شاعرانہ رموز و اشعار کے مضمون میں کوئی مسجھوتہ کیے بغیر چار زبانوں میں کلام کیا گیا ہے۔ عربی، فارسی، اردو اور اودھی زبانوں میں لکھی گئی یہ نعت اپنی مثال آپ ہے-

لم یات نظیرک فی نظر (عربی) مثل تو نہ شد پیدا جانا (فارسی)۔
جگ راج کو تاج تورے سرسوہے (اودھی) تجھ کو شہ دوسرا جانا (اردو)۔
ترجمہ: آپ کی مثل کسی آنکھ نے نہیں دیکھا نہ ہی آپ جیسا کوئی پیدا ہوا۔
سارے جہان کا تاج آپ کے سر پر سجا ہے اور آپ ہی دونوں جہانوں کے سردار ہیں۔

مولانا کے اس کلام کو اگرچہ صرف اسی زاویہ سے دیکھا جاتا ہے کہ اس میں چار زبانوں کا استعمال کیا گیا ہے لیکن درحقیقت یہ اس زمانے میں برج اور اودھی میں ہونے والی نعتیہ شاعری کی اصلاح کے لئے بھی ایک داعیہ تھی. کیونکہ بھجنوں اور ٹھمریوں سے متاثر ہو کر ان دونوں زبانوں میں شعراء خالصتاً ہندوانی تشبیہات اور استعارات کی مدد سے نعتیہ کلام پیش کر رہے تھے کہ بعض اشعار سے تو یہ فرق ہی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ یہ نعتیہ کلام ہے کہ کوئی بھجن۔

دور جدید میں میڈیا کے پھیلاؤ کے بعد جو نعتیں آ رہی ہیں ان میں اور بھارتی فلمی گانوں میں شاید کوئی فرق نہیں بلکہ پوری جھنکار اور سازوں کے ساتھ بھارتی گانوں کی طرزوں پر تک بندی بٹھا کر اس کو نعت کا نام دے دیا جاتا ہے. جس کے اندر بالعموم نبی کریمؐ کی توصیف سے زیادہ مخالف مسالک کے افراد کی تضحیک اور تذلیل کی جاتی ہے۔

دور جدید کی نظموں کو شاید نعت کہنا بھی نعت کی توہین ہو. تاہم یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ فلمی گانوں پر نعتوں کی طرزیں بٹھانے کا سلسلہ اتنا نیا بھی نہیں ہے. ذیل میں پیش کی جاتی ہیں چند نعتیں جو کہ مشہور گانوں کی طرزیں چرا کر بنائی گئی ہیں.
١. کبھی دیکھوں میں مدینہ: یہ نعت مشہور گیت “یونہی کوئی مل گیا تھا” کی طرز پر پڑھی گئی ہے. اس کے موسیقار غلام محمد ہیں۔
٢. در پر بلاؤ مکی مدنی: یہ نعت مشھور گیت “گھر آیا میرا پردیسی” کی طرز پر ہے جس کے موسیقار شنکر جے کشن ہیں.
٣. روشن میری تربت کو: یہ نعت مشھور گیت “بچپن کی محبت کو” کی طرز پر ہے جس کے موسیقار نوشاد ہیں.
٤. ہو تمنا اور کیا: یہ طرز نثار بزمی کی ہے یہ دراصل ایک گیت ہی ہے جس کو نعت کا روپ بنا کر پیش کیا گیا ہے. اس گیت کے شاعر فضل کریم فاضلی ہیں۔

یہ تمام نعتیں اس دور میں فلمی طرز پر ترتیب دی گئی تھیں کہ جب میلاد کی محفلوں اور نعتوں پر سرمایہ دارانہ نظام کا تسلط نہیں آیا تھا، اور جب دور جدید میں سرمایہ داری نظام نے نعت گوئی جیسے مقدس کام کو کمرشل کردیا ہے تو انہی طرزوں نے جدید نعتوں کو مکمل طور پر دھوم دھڑکہ کے ساتھ فلمی بنادیا ہے، کہ نعت گوئی کا تقدس بالکل ناپید ہوگیا ہے۔ جس طرح مولینا احمد رضا خان سے اس وقت ٹھمریوں کی طرز پر ہونے والی برج اور اودھی نعتوں کے سیلاب کے آگے لم یات نظیر جیسی نعت لکھ کر بتایا تھا، کہ نعت گوئی کا اسلوب کیا ہونا چاہیے، آج بھی اس فن کو کسی اور مسیحا کی ضرورت ہے، ورنہ خدا نہ کرے سنجیدہ حلقوں کے لیے نعت گوئی قصہ پارینہ نہ بن جائے۔۔

تحریر : ابن آدم

تبصرے
Loading...