اسلام

میرے دیس کا ملحد

میں ڈارون کی عزت کرتا ہوں۔ وہ ایک بہت بڑی تھیوری کا خالق ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اسکی تھیوری سے کچھ تکنیکی معاملات پر سخت اختلاف ہے لیکن بحیثیت ایک بایولوجسٹ، اسکا مقام اپنی جگہ پر۔ جانداروں میں، بشمول انسانوں کے، evolution ایک حقیقت ہے۔ اس سے انکار حماقت ہے۔ البتہ، evolution کے پراسس کے تحت، ایک specie سے کسی دوسری بلکل الگ species کے وجود میں آنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ اسی نکتے پر میرا اور بہت سے مغربی بائیولوجسٹ کا ڈارون سے سخت اختلاف ہے۔ بہرحال، ڈارون نے کوئی قانون نہیں، بلکہ اپنی ایک تھیوری بیان کی ہے۔ جو صحیح یا غلط ہوسکتی ہے یا اس پر سائینٹیفک بنیادوں پر اختلاف کیا جاسکتا ہے۔

یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، آگے بھی چلتا رہے گا لیکن، کہانی جب پاکستان پہنچتی ہے تو معاملہ الگ ہوجاتا ہے میرے دیس کے لبرل-کم-ملحد کے کیا کہنے۔۔ ان بچاروں کی ڈراون سے محبت اسکی خدمات کی وجہ سے ہرگز نہیں، بلکہ محض اس بناء پر ہے کہ اس کی مذکورہ بالا تھیوری انکے الحادی چورن بیچنے کے بہت کام آتی یے۔ انکے حساب سے، یہ تھیوری مولوی کے تن بدن میں آگ لگانے کے کام آتی ہے فقط اس لیے یہ ڈارون کے عشق میں مبتلا ہیں مجھے ملحد بمقابلہ مولوی معاملات سے خاص دلچسپی نہیں۔ یہ صریح وقت کی بربادی ہے پر، مجھے ایک پروفیشنل انجینئر ہونے کے ناطے سائنس سے بہت دلچسپی ہے۔ میں دل سے سمجھتا ہوں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے نابلد رہنے کی وجہ سے ہم بحیثیت قوم بہت پیچھے رہ گئے ہیں

اب ہوتا کیا ہے؟ دیسی ملحد نے سائنس کو زبردستی اپنا ٹول بنا لیا ہے۔ ایک ایسا ٹول جسکا مقصد محض اسلام اور مولوی پر تنقید کرنا ہے ری ایکشن میں آکر، ہمارے مولوی حضرات نے اپنی توپوں کا رخ ملحد اور سائنس، دونوں کی طرف کرلیا ہے معاملہ صرف ملحدوں تک رہتا تو خیر تھی، پر سائنس و ٹیکنالوجی بلاوجہ رگڑے میں آگئی اس لڑائی میں نقصان سائنس کا ہورہا ہے، قوم کا ہورہا ہے ہمیں اس انتہائی نقصان دہ لڑائی کو ہر صورت روکنا ہوگا۔ ہمیں اپنے دو نمبر دیسی ملحدوں کو سمجھانا ہوگا کہ اپنی گھٹیا انا کی تسکین کی خاطر سائنس کو ٹول بنانا بند کرے تمھیں مولوی سے لڑنا ہے تو مناظرے کرو، پر سائنس کا استعمال بند کردو

دنیا بھر میں سائنسدان تھیوری پر لڑتے ہیں، اپنے ہم عصر سائنسدانوں سے لڑتے ہیں۔ ان سے بحث مباحثہ کرتے ہیں، انھیں اور انکی تھیوریز کو سائینٹیفک انداز سے چیلنج کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کا ملحد سائنس کا نام لے کر مولوی سے لڑ رہا ہے۔۔۔ عجیب جہالت ہے یہ نوسر باز خود کو اس طرح پیش کرتے ہیں مانوں انھیں سائنس سے بہت محبت ہے۔ انکی سائنس سے کل محبت ف ب کا خلائی قسم کا cover, کسی مشہور سائنسدان کے قول پر مبنی ڈی پی، ڈارون کی تعریفوں اور مولوی کو گالیوں پر مبنی چند پوسٹس اور وقتاً فوقتاً کسی سائنسی بلاگ سے ترجمہ کی ہوئی کاپی پیسٹ پوسٹوں تک محدود ہے۔

انھوں نے اس حوالے سے دو پیسے کا کام نہ کیا ہوگا۔ انکی کوئی تحقیق، کوئی اوریجینل سوچ، کوئی مثبت اپروچ نام کو نہ ہوگی۔ کسی قسم کا کوئی تحقیقی مقالہ نہ لکھا ہوگا۔ انکو اس قوم کے چینلنجز کی خبر ہوگی اور نہ ہی انکے پاس اسکا کوئی سائنٹیفک حل ہوگا۔ میرا چونکہ اس فیلڈ سے براہ راست تعلق ہے تو سائنس اور ٹیکنالوجی پر عمدہ کام کرنے والے کئی پاکستانی احباب میرے پاس ایڈ ہیں یا انھیں فالو کر رکھا ہے

یقین کیجیے، ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں زبردست کام کرنے والوں کی اکثریت دین سے محبت کرنے والوں کی ہے۔ پاکستان کا سب سے بہترین ڈیٹا سائنٹسٹ، ذیشان الحسن عثمانی، جو دنیا کے کئی سربراہان مملکت سے ملاقات کا شرف حاصل کرچکا ہے، امریکہ کی ٹاپ یونیورسٹیوں کا فیلو، ریسرچ ایسوسی ایٹ رہ چکا ہے، وہ ایک practicing مسلم بندہ ہے۔ چہرے پر شرعی داڑھی سجائی ہوئی ہے۔

میں پوچھتا ہوں کہ ف ب پر لکھنے والے ان احمق دیسی ملحدین نے اب تک کیا اکھاڑ لیا؟ ان احمقوں کا یہی کام رہ گیا ہے کہ مولوی سے اس بات کا جواب مانگیں جو سرے سے اسکی زمہ داری ہی نہیں۔۔۔ مولوی کا کام دین کو دنیا تک پہنچانا ہے، بس۔ اس سے سوال کرنا ہے تو اس بات کا کرو اور ضرور کرو کہ وہاں بھی بہت خرابیاں ہیں پر، چاند پر نہ پہنچ پانا مولوی کا قصور ہے یا سائنسدانوں کا؟ مون مشن پر کام کرنے سے کون مولوی روک رہا ہے یا کون سائنسدان ہے جو مولوی صاحبان کی سن رہا ہے؟ اس قوم کو اتنے مسئلے درپیش ہیں۔ کبھی ان احمقوں نے اسکا کوئی حل پیش کیا؟

ہم سمندری پٹی کو کس طرح توانائی کے حصول کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، اس پر کام کیا؟ کسی قسم کی آگاہی دی؟ ایڈوانس کمپیوٹنگ میں، بے انتہا حرارت کا پیدا ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اسکی کولنگ کے حوالے سے کوئی تکنیک دریافت کی؟ یا کم سے کم اس پر گفتگو کی گئی؟ بلاک چین ٹیکنالوجی آنے والے وقتوں میں سائبر سیکورٹی کے لیے زبردست بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔ کبھی اس پر کوئی پوسٹ کی گئی؟ سمندری پانی کو میٹھا کرنا ایک مہنگا پراسس ہے اور پاکستان کو میٹھے پانی کی شدید قلت، اور سمندری پانی کی فراوانی ہے۔ اس اہم ترین opportunity پر کسی قسم کی پیش رفت کی گئی؟ کسی قسم کی آگاہی دی گئی؟

ہم سے کہیں پیچھے رہ جانے والا، امریکہ کی مسلط کی گئی جنگ کے ہاتھوں تباہ حال ملک، ویت نام! آج کمپیوٹر چپس اور پروسیسر بنانے میں دنیا میں تیزی سے آگے نکلتا جا رہا ہے۔ کیا یہ کام ہمارا سائنسدان نہیں کرسکتا؟ کیا ہمارا دیسی ملحد اس اہم ترین opportunity پر آواز نہیں اٹھا سکتا؟ اس طرح کے مسائل اور مواقعوں پر لکھنا شروع کروں تو صبح سے شام ہوجائے پر، اس دو نمبر مخلوق کو مولوی اور اسلام کے خلاف دشنام طرازی سے فرصت نہیں مانوں یہ سب کچھ مولوی نے کرنا تھا۔ میں اس طبقے سے شدید بیزار ہوں۔ اس لیے نہیں کہ یہ ملحد ہیں، بلکہ اس لیے ان کی کمینگی بھری اپروچ کی وجہ سے دین پسند طبقہ الٹا سائنس کے خلاف ہورہا ہے اور یہ اس قوم کا بہت بڑا نقصان ہے۔

ان فکری وائرسوں نے سائنس کو اپنی نفسیاتی تسکین کا ٹول بنا کر رکھ دیا ہے۔ ان میں اگر سائنس کی زرا سی بھی محبت ہوتی تو یہ پی ایچ ڈی کرتے، انجینئرنگ میں کمال دکھاتے، کوئی ایجاد کرتے یا کم سے کم سائنسی تحقیق کے لیے کوئی فنڈ قائم کرتے اور اپنے جیب خرچ سے اس فنڈ کو پروموٹ کرتے مگر اس میں تو محنت لگتی ہے۔ البتہ گوگل سے اسپیس کا وال پیپر اٹھا کر فیس بک کے cover پر لگا دینا بہت آسان ہے۔ یہ فوراً کرلیں گےان میں سے کوئی ناکام عاشق ہے، کسی کی مدرسے میں خوب ٹھکائی ہوئی ہے، کسی کے شوہر نے دوسری عورتوں سے چکر چلا لئیے تو کسی کی بیوی نے اسے مخصوص طعنوں سے نواز دیا۔ کچھ ایسے ہیں جن کے بچوں نے انھیں کھڈے لائن لگادیا۔ نتیجتاً یہ نفسیاتی مریض، جنھیں دماغی علاج کی ضرورت تھی، وہ سائنس کی آڑ لے کر، اسلام پر تبرہ کرنا شروع ہوگئے۔ انکے احمق قارئین سمجھ رہے ہیں کہ یہ تو سائنس سے محبت کرتا ہے، جبکہ درحقیقت اسے علاج کی ضرورت ہے۔

یہ طبقہ، سائنس کو اسلام دشمنی سے equate کرکے قوم سے بہت بڑی دشمنی کررہا ہے۔ ایسے مریضوں کے خلاف آواز اٹھانا انتہائی ضروری ہے کہ مولوی سے لڑنا ہے تو براہِ راست مناظرہ کرو۔ پھر تم جانو اور مولوی جانے۔ پر خدارا سائنس کی جھوٹی آڑ لینا چھوڑ دو میں بہت سے جینوئن ملحدوں کو بھی جانتا ہوں جو سائنس سے حقیقی محبت کرتے ہیں۔ انکی تحاریر میں آپکو صرف سائنس اور تحقیق ملے گی۔ نہ مولوی کا ذکر، نہ اسلام پر تنقید۔ یہ لوگوں میں ٹیکنالوجی سے لگاؤ پیدا کرنے کا سبب بن رہے۔ ایسے تمام احباب کی سائنس سے محبت اور اسکی ترویج کی کوششوں کو سلام۔۔۔۔!!!!