بلاگ

“میرا پہلا روزہ اور عید کا چاند”

میری عمر کے باباجات کے ساتھ صحت کے کچھ مسائل کے علاوہ ایک اور ٹریجڈی یہ ہوتی ہے کہ لوگ ہمیں پتھر کے زمانے کا سمجھتے ہیں کہ اچھا آپ کے زمانے میں ہوائی جہاز ایجاد ہو گیا تھا۔ اچھا اگر آپ کے بچپن میں برگر اور پیزا نہیں ہوتا تھا تو آپ کھاتے کیا تھے۔ علاوہ ازیں ہر ایک آپ کی صحت کے بارے تشویش کا اظہار کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے۔ یعنی آپ کسی پارک میں ذرا دھیرے دھیرے احتیاط سے سیر کر رہے ہیں تو ایک نوجوان آپ کو پہچان کر سلام دعا سے فارغ ہو کر پہلا سوال یہ کرتا ہے کہ تارڑ صاحب آپ کی صحت کیسی ہے، ٹھیک تو ہیں ناں؟ اس پر میں نہایت تحمل سے جواب دیتا ہوں کہ جی اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے، شکر ہے اس ذات کا کہ ماشاء اللہ روزانہ تین چار کلو میٹر پیدل چل لیتا ہوں۔ بے شک آہستہ آہستہ لیکن چل لیتا ہوں۔

اس پر وہ نوجوان جو کہ خود بھی پچاس کے پیٹے میں ہے کہتا ہے کہ…آپ کو شوگر کا عارضہ تو نہیں، تو میں جواب دیتا ہوں کہ ابھی تک تو نہیں، بعد ازاں بلڈ پریشر، گھٹنوں کے درد اور عارضہ قلب کے بارے میں تشویش ظاہر کی جاتی ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ جی وہ بلڈ پریشر کے لیے چند گولیاں پھانک لیتا ہوں، ابھی تک تو قابو میں ہے، گھٹنے کبھی کبھار اٹھتے ہوئے کچھ کڑ کڑاتے ہیں ورنہ شکر ہے اور کوئی ایسا عارضہ لاحق نہیں جس کی تفصیل بیان کی جا سکے۔ وہ نوجوان بے حد مایوس ہوتے ہیں بلکہ رنجیدہ اور خفا سے لگتے ہیں اور رخصت ہوتے ہوئے کہتے ہیں، ویسے اس عمر میں اپنا خیال رکھنا چاہئے۔ یہ شاید ہماری نفسیات میں شامل ہے کہ ہم ادھیڑ عمر حضرات سے توقع رکھتے ہیں کہ انہیں کوئی نہ کوئی بیماری لاحق ہو…اگر دل کا عارضہ ہو تو سن کرکھل اٹھتے ہیں اور فوری طور پر امراض قلب کے چند ماہرین کے پاس فوری طور چیک اپ کے لیے جانے کا مشورہ دیتے ہیں کہ میرے والد صاحب بھی ان کے زیر علاج تھے، ابھی پچھلے برس ہی ان کا انتقال ہوا ہے۔

لیکن اس رمضان میں سب سے دلچسپ سوال ایک بچے نے کیا کہ انکل کیا آپ کے زمانے میں بھی عید ہوا کرتی تھی تو میں نے مسکراتے ہوئے اپنے بچپن کی عیدوں کا کچھ تذکرہ کیا لیکن بچے نے ایک اور عجیب سوال داغ دیا، تو انکل آپ کے زمانے میں بھی رویت ہلال کمیٹی ہوا کرتی تھی تو میں نے ذرا گڑ بڑا کر کہا کہ نہیں وہ تو نہیں ہوتی تھی تو بچہ ذرا پریشان ہو کر بولا، تو پھر آپ کو کیسے پتہ چلتا تھا کہ عید کب ہو گی۔ ایسے تمام پریشان بچوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہمارے زمانے میں کسی بھی نوعیت کی کمیٹی وغیرہ نہ ہونے کے باوجود عید ہو جاتی تھی اور ظاہر ہے رمضان کے چاند کے بارے میں بھی ہمیں خبر ہو جاتی تھی۔ ہے ناں حیرت انگیز بات۔

ان دنوں بھی دو عیدیں اکثر ہو جاتی ہیں اور ان دنوں بھی دو سے زیادہ عیدیں تو ہرگز نہ ہوتی تھیں حالانکہ ہمیں رویت ہلال کمیٹی کی سہولت بھی ہرگز حاصل نہ ہوتی تھی۔ مجھے اپنا آخری روزہ یاد ہو کہ نہ یاد ہو، پہلا روزہ خوب یاد ہے جیسے کل کی بات ہو…اور یہ پوری پون صدی پیشتر کا قصہ ہے۔ میں ننھیال میں ہوں اور منع کرنے کے باوجود روزہ رکھنے کا شوق ہے، سحری کے وقت نانی جان اپنے ہاتھوں سے مکھن کا پراٹھا تیار کر کے اس کے اوپر بھی چاٹی کے مکھن کا ایک پیڑہ رکھ کر جس پر چینی چھڑکی گئی ہے مجھے کھلاتی ہیں۔ لسی پلاتی ہیں اور جونہی مقامی مسجد سے اذان بلند ہوتی ہے، وہ دودھ کا ایک کٹورہ مجھے تقریباً زبردستی پلا دیتی ہیں۔ اگلے روز جو مجھ پر گزری وہ میں جانتا ہوں۔ شدید گرمیوں کے زمانے تھے، دس بجے تک پیاس سے برا حال ہو گیا، مجھے متعدد بار ہینڈ پمپ کے نیچے بٹھا کر نہلایا گیا اور جب اس سے بھی افاقہ نہ ہوا تو امی جان نے سمجھایا کہ بچوں کے لیے گنجائش ہے وہ بارہ بجے روزہ کھول سکتے ہیں لیکن میں اتنا نادان بھی نہ تھا کہ ’’چڑی روزے‘‘ پر اکتفا کر جاتا، ڈٹا رہا… پھر نانی جان نے میری حالت دیکھ کر بتایا کہ صرف پانی پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، تب بھی میں نہ مانا کہ میں خوب جانتا تھا کہ گھر والے شام تک بھوکے پیاسے بیٹھے رہتے ہیں، پانی نہیں پیتے۔

ہمارے صحن میں دھریک کا ایک گھنا درخت تھا، نانی جان جنہیں میں بے بے جی کہتا تھا انہوں نے میرا دھیان لگانے کی خاطر کہا کہ دیکھو اس دھریک کا ابھی کوئی سایہ نہیں، تھوڑی دیر بعد دوپہر ہو گی۔ سورج ڈھلنے لگے گا تو اس کا سایہ نمودار ہو گا۔ پہلے صحن میں پھیلے گا اور پھر گھر کی دیوار پر چڑھنے لگے گا۔ جب یہ سایہ دیوار کے نصف حصے پر چھا جائے گا تو روزہ کھولنے کی تیاری شروع ہو جائے گی۔ اب میں کبھی نیم اندھیارے پسار میں بچھے ہوئے پلنگ پر جا لیٹتا۔ کچھ دیر ناتوانی سے اونگھتا اور پھر اٹھ کر صحن میں جا کر دھریک کے سائے کا بغور جائزہ لیتا۔ مجھے لگتا کہ سایہ دیوار کی دوسری اینٹ سے اوپر جانے کا نام ہی نہیں لیتا۔ جان بوجھ کر ٹھہر گیا ہے۔ اس دوران بے بے جی نے رات کے پانی میں بھگوئے ہوئے باداموں کا کٹورہ میرے سامنے رکھ دیا کہ ایک ایک کر کے ان کے چھلکے اتارو، جب آخری بادام کا چھلکا اتار لو گے تو بس یوں سمجھو کہ افطاری کا وقت قریب آ گیا ہے اور اس ناتوانی اور پیاس میں باداموں کے چھلکے اتارنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اب میں ایک بادام کاچھلکا بمشکل اتارتا اور پھر دیوار پر دھریک کے سائے کو ایک نظر دیکھتا۔

مزید پڑھیں: موٹر سائیکل چلانے والی ڈولفن مچھلیاں

نہ بادام کم ہوتے اور نہ سایہ دیوار پر ذرہ بھر حرکت کرتا۔ اس دوران مجھے ایک بار پھر قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ صرف شربت کے دو گھونٹ پینے سے تو روزہ ہرگز نہیں ٹوٹتا اور شربت پھتوشیخ کی اماں کا بنایا ہوا جس کا نام شاید بزوری تھا۔ ویسے اب مجھ میں اتنی سکت بھی نہ رہی تھی کہ شربت کا گلاس تھام سکتا۔ قصہ مختصر بالآخر میں نے سارے باداموں کے چھلکے اتار دیئے اور وہ کٹورے میں سفید موتیوں کی مانند دمکنے لگے۔ بے بے جی نے ان باداموں کو کونڈی میں ڈال کر خوب گھوٹا اور پھر دودھ ملا کر خوب پھینٹا۔ اُدھر دیوار بھی آخر کار پورے سائے میں چلی گئی۔ مولوی صاحب نے اذان شروع کی تو وہ میری زندگی کی سب سے خوبصورت اور مترنم آواز تھی۔ باداموں والے دودھ کے دو تین کٹورے پینے کے بعد میرے حواس بحال ہوئے تو بے بے جی اور امی جان نے مجھے خوب خوب پیار کیا اور ایک ایک روپے کے دو سکے مجھ پر نچھاور کیے۔ اس رمضان کی انتیسویں کی شب روزہ کھولنے کے بعد، اور ہاں میرے لیے وہ ایک روزہ ہی کافی تھا۔ محلے کی چھتیں لوگوں سے بھر گئیں۔ کوئی میلے کا سا سماں تھا۔

سب لوگ آپس میں باتیں کر رہے تھے اور سب کی نظریں آسمان پر تھیں کہ دیکھیں آج چاند نظر آتا ہے کہ نہیں۔ بچے خاص طور پر یکدم غل مچا دیتے کہ وہ مسجد کے مینار کے اوپر ابھی ابھی دکھائی دیا تھا۔ جانے کہاں چلا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب شام کی تاریکی کچھ بڑھ گئی اور چاند نظر نہ آیا تو بیشتر لوگ اگلے روزے کی تیاری کے لیے چھتوں سے اتر گئے۔ کچھ دیربعد پھر شور اٹھا کہ چاند نظر آ گیا ہے اور پھر بھگدڑ مچ گئی اور سب لوگ واپس اپنی اپنی چھتوں پر۔ اس دوران مسجد کے صحن میں رکھی نوبت کی آواز آنے لگی جو اگلے روز عید ہو جانے کی نوید تھی۔ چھتوں پر لڑکیاں بالیاں چڑیوں کی مانند چہکنے لگیں۔ چوڑیاں کھنکنے لگیں، مہندی گھولی جانے لگی، گائوں کے واحد حلوائی نے کڑھائی چڑھا کر جب جلیبیاں تلنی شروع کیں تو ان کی گرم میٹھی خوشبو ہر گھر کے اندر داخل ہو کر گویا عید مبارک کہنے لگی۔ امی جان دہکے ہوئے کوئلوں کی بھاری استری سے میرا عید کا نیا جوڑا استری کرنے لگیں اور وہ کتنی خوبصورت لگ رہی تھیں مجھے یاد ہے ذرا ذرا…اور بے بے جی نے لالٹین کے شیشے لشکا کر اسے روشن کیا اور اب اندھیرے میں اترتی صحن کی دیوار پر رکھ دیا…پون صدی پہلے کی عید مبارک!

About the author

مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفر نامے اور ناول نگاری ہے۔

Loading...