ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

میرا محبوب میرے حواس پر چھایا ہے، علاج کیا ہے؟

کئی ایک دوست سوال کرتے ہیں کہ انہیں اپنی کلاس فیلو یا کولیگ وغیرہ سے محبت ہو گئی کہ اب وہ ہر وقت ان کے حواس پر چھائی رہتی ہے، جھٹکنے سے بھی خیال نہیں جاتا، ہر وقت اسی کے بارے سوچتے رہنا، ایک ایسی آزمائش کہ جس سے نکنا چاہتے ہیں لیکن نکل نہیں پا رہے۔ تو اس کا کیا حل ہے؟ جواب: دیکھیں، سب سے پہلے تو اپنے آپ کو انسان سمجھیں، فرشتہ نہیں۔ لہذا محبت کا ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے، یہ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ حسن جمال کی طرف اٹریکٹ ہو، چاہے وہ حسن وجمال مادی ہو یعنی شکل صورت یا غیر مادی ہو یعنی اخلاق وغیرہ۔

تو محبت ہو جانے میں کوئی ایشو نہیں ہے کہ وہ آپ نے کی نہیں ہے بلکہ ہو گئی ہے لہذا پریشانی کس بات کی۔ البتہ یہ عین ممکن ہے کہ اس کے ہو جانے میں آپ کی کوئی کمی کوتاہی شامل ہو لیکن اس کو بھی چھوڑیں، اسلام یہ کہتا ہے کہ آپ کی محبت میچور ہونی چاہیے۔ میچور محبت یہ ہے کہ اگر کسی سے محبت ہو گئی ہے تو شادی کر لیں تو آپ کی محبت میچور ہو جائے گی جیسا کہ سنن ابن ماجہ کی ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ دو محبت کرنے والوں کے لیے نکاح سے بہتر چیز کوئی نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ اپنی محبت کو میچور نہیں کر سکتے تو یہ محبت برائے محبت نہ صرف ایک گناہ ہے بلکہ ایک آزمائش اور ذہنی عذاب بھی ہے۔ تو اپنے دین اور دنیا کی خاطر اس سے نکلنے کی کوشش کریں۔

تو محبت ہو جانے پر گھبرانا نہیں ہے اگر تو مقصد نکاح ہے۔ اور اگر نکاح مقصد نہیں ہے تو یہ گناہ ہے۔ اور گناہ کا ہو جانا بھی بڑی بات نہیں ہے لیکن گناہ میں پڑے رہنا یہ پریشانی کی بات ہے۔ تو محبت ہو گئی، کوئی پریشانی نہیں جب تک کہ اس سے نکنے کا ارادہ اور کوشش موجود ہو۔ دیکھیں، گر جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے بشرطیکہ آپ ایک تو فورا اٹھ کھڑے ہوں اور دوسرا اس گرنے سے آپ کی لرننگ ہو کہ آئندہ گرنے سے بچ جائیں تو بس یہی توبہ ہے اور اسی کے بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدم کا ہر بیٹا بہت زیادہ گناہ گار ہے لیکن بہترین گناہ گار وہ ہے جو توبہ کرنے والا ہے یعنی گر کر اٹھنے والا ہے۔

تو جب آپ نے اس محبت کو میچور کرنے یا اس سے نکلنے میں سے کسی ایک کا عزم کر لیا تو اب اس پر عمل کر لیں۔ پہلی کوشش محبت کو میچور بنانے کی کریں کہ نکاح کر لیں اور اس میں دیر نہ لگائیں۔ اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس سے نکلنے کی کوشش کریں۔ اور اس سے نکلنے کا طریقہ سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں اپنے نفس کی ورکنگ پر کچھ غور کرنا ہو گا۔ سائیکالوجی میں سائکو اینالیسس کے اسکول آف تھاٹ کے ماہرین نفسیات کا کہنا یہ ہے کہ نفس انسانی کی تین سطحیں (levels) ہیں۔ اِڈ (id)، ایغو (ego) اور سپر ایغو (super ego)۔ اِڈ جو کہ اس (it) کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے، اس سے مراد آسان الفاظ میں انسان کی وہ لاشعوری خواہشات ہیں جو اپنی تسکین چاہتی ہیں۔ اور ایغو سے مراد میں (I) اور سپر ایغو سے مراد مجھ سے اوپر (Above I) ہے۔ تو اس سب میں اصل حقیقت تو "میں” ہی ہو۔

تو گویا انسان کے نفس میں اِڈ کی سطح وہ ہے جہاں اصول لذت کار فرما ہوتا ہے یعنی انسان بس یہ چاہتا ہے کہ اس کی خواہش پوری ہو جائے، پیٹ کی آگ بجھ جائے، چاہے کسی طرح سے بھی، حلال ہو یا حرام۔ نفس کی اس قسم کو قرآن مجید میں نفس امارہ یعنی گناہ کا حکم دینے والا نفس کہا گیا ہے۔ اگر اِڈ نفس کی گھٹیا ترین سطح ہے تو سپر ایغو نفس کی اعلی ترین سطح ہے جو آپ کے آئیڈیلز پر مشتمل ہوتی ہے۔ یعنی آپ جب جب یہ سوچتے ہیں کہ انسان کو ایسا ایسا ہونا چاہیے یا مجھے ایسا ایسا ہونا چاہیے تو یہ آپ کی سپر ایغو ہے۔ اِڈ اگر لذت کے اصول پر کھڑی ہے تو سپر ایغو اعلی اخلاق کے اصول پر کھڑی ہوتی ہے۔ اب انسان کی اِڈ اسے اپنے طرف کھینچتی ہے اور سپر اِیغو اپنی طرف تو انسان میں ایک نفسانی کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید میں سپر ایغو کی سطح کے نفس کے لیے نفس مطمئنہ کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی وہ نفس جو اپنے رب کی رضا پر راضی ہے، ہر حال میں، آزمائش میں ہو یا نعمت میں۔

اِڈ اور سپر ایغو کی اس کشمکش میں ایغو دونوں کے مابین صلح کرواتی ہے۔ وہ سپر ایغو کو یہ سمجھاتی ہے کہ جن اعلی اخلاق کی تم بات کر رہی ہو، وہ ہوائی باتیں ہیں یعنی وہ حقیقی ایپروچ (realistic approach) نہیں ہے یعنی کسی سے محبت ہی نہ ہونے پائے تو یہ ہوائی بات ہے۔ عورت کا خیال ذہن میں ہی نہ آئے تو یہ بھی ہوائی بات ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ دیکھیں خود قرآن مجید میں ہے کہ جن عورتوں کے شوہر فوت ہو جائیں تو اللہ عزوجل نے کہا کہ تمہارے دل میں ان سے شادی کا خیال پیدا ہو گا لیکن تم نے ان سے دوران عدت شادی کی کوئی بات نہیں کرنی۔ تو قرآن مجید نے اس کو کتنا نارمل لیا ہے۔ اب شادی کا خیال تو غیر محرم عورت کے خیال کے بغیر تو پیدا نہیں ہو سکتا نا۔ دوسری طرف ایغو، اِڈ کو بھی سمجھاتی ہے کہ دیکھو صرف خواہش پوری کرلینا اچھا نہیں ہے بلکہ ایک طریقے سے خواہش کو پورا ہونا چاہیے۔

اب یہ ایغو کیا ہے اور کیسے تشکیل پاتی ہے۔ تو ایغو نفس کی ایک سطح ہے جو ہمارے لیے زندگی گزارنا آسان بناتی ہے۔ ایغو یہ کوشش کرتی ہے کہ ہم نہ تو حیوانی سطح پر زندگی گزاریں کہ ہر وقت اِڈ ہی کے غلام بنے رہیں یعنی اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں لگے رہیں اور نہ ہی سپر ایغو کے مشوروں پر عمل کر کے سپر ہیومن بننے کی کوشش کریں اور اس کے نتیجے میں کچھ بھی نہ بن پائیں بلکہ عین ممکن ہے کہ اِڈ کے غلام بن جائیں۔ ایغو اصل میں والدین، سوسائٹی اور مذہب وغیرہ کے اصولوں سے تشکیل پاتی ہے۔ مثال کے طور کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کرے اور آپ کو اس پر شدید غصہ آئے تو آپ کی اِڈ یعنی انتقام کی خواہش یہ کہتی ہے کہ آپ اس کا منہ توڑ دیں یا اسے قتل ہی کر دیں۔ لیکن ایغو، اِڈ کو یہ سمجھاتی ہے کہ انتقام کی خواہش کو یوں نہیں پورا کرنا۔ اگر ایسا کرو گے تو تمہیں ہی یعنی نفس کو ہی نقصان ہو گا کہ جیل چلے جاؤ گے بلکہ قانونی کاروائی کرو یا اس طرح بدلہ لو کہ جس طرح قانون یا معاشرہ یا مذہب اجازت دیتا ہے۔ تو جس شخص کی ایغو مضبوط ہو گی، اس کی شخصیت میں توازن ہو گا۔

تو اب آپ نے اس مسئلے سے نکلنے کے لیے کرنا کیا ہے؟ اپنی ایغو کو مضبوط کرنا ہے۔ ایغو دراصل آپ کی سفلی خواہشات اور آپ کے آئیڈیلز کے مابین مفاہمت کا رول ادا کرتی ہے۔ تو ایک طرف تو آپ نے اپنی اِڈ کو یہ سمجھانا ہے کہ مجھے اس محبت سے نکلنا ہے کیونکہ محبت کی خواہش کو بغیر نکاح کے پورا کرنا نقصان دہ ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دوسرا آپ نے سپر ایغو کو سمجھانا ہے کہ میں ایک انسان ہو، بہت کمزور، فرشتہ نہیں ہوں لہذا مجھے اس پرمجبور نہ کرو کہ میں اس لیول کو پہنچ جاؤں کہ مجھے فلاں عورت کا خیال بھی نہ آئے اور اگر آئے تو میں اسے دبا دوں کیونکہ آپ جتنا کسی خواہش کو بے رحمی سے دبائیں گے، اتنا ہی وہ اور ابھر آئے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اِڈ کے موجود خواہشات کے پاس انرجی بہت زیادہ ہے، اتنی کہ آپ کے سپر ایغو میں اس کا دسواں بھی شاید نہ ہو گی۔

تو آپ کو کسی سے محبت مادی صفات مثلا شکل و صورت کی وجہ سے ہے تو اس میں اِڈ اصلا کارفرما ہے اور اگر کسی سے محبت اخلاقی صفات کی وجہ سے ہے تو اس میں آپ کا سپر ایغو اس شخص سے متعلق ہو جاتا ہے کہ آپ کو اس میں اپنے آئیڈیلز نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں لہذا آپ کا نفس اس کو اپنا مرکز بنا لیتا ہے۔ محبت کی پہلی صورت کا علاج نسبتا آسان ہے، دوسری کا تھوڑا مشکل ہے۔ پہلی صورت میں تو اگر آپ کی کہیں بھی شادی ہو جائے تو آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا کہ آپ کی اِڈ کی تسکین ہو گئی ہے اور محبت کی وجہ بھی اِڈ ہی تھی۔ جن لوگوں کا محبوب بدلتا رہتا ہو تو ان کی محبت اِڈ کی محبت ہوتی ہے لہذا مناسب شکل وصورت کی لڑکی سے نکاح کی صورت میں محبت کا بخار جاتا رہے گا۔

لیکن اگر آپ کسی کی شکل وصورت کی بجائے اس کے مذہب، تقوی، دینداری، آرٹ، فن، ذہانت، دانش یا اخلاق وغیرہ کی وجہ سے اس کی طرف اٹریکٹ ہیں تو ایسی صورت میں محض شادی آپ کو فائدہ تو دے گی لیکن اتنا نہیں۔ بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر ایسے شخص کی شادی ہو جائے تو وہ اپنی بیوی کے قریب بھی نہیں جا سکتا کیونکہ اس کا اصل مسئلہ اِڈ کی تسکین نہیں بلکہ اس کے ساتھ سپر ایغو کی تسکین بھی ہے۔ اب یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی سپر ایغو کی تشکیل ہی نہ ہو پائی ہو اور وہ اتنی چھوٹی رہ گئی ہو کہ کسی عام سے انسان کو ہی اپنا آئیڈیل بنا لیا ہو۔ تو ایسی سپر ایغو کی محبت کی صورت میں آپ اپنے محبوب کو شادی کے بعد بھی کسی قدر نہ بھلا پائیں گے یعنی کبھی کبھی وہ آپ کے حواسوں پر چھایا رہے گا۔ اس کا ایک حل تو یہ ہے آپ کی شادی کسی ایسے سے ہو جائے کہ جس میں آپ کے خیال میں وہ صفات پائی جاتی ہوں جو آپ کے محبوب میں ہیں۔ یا پھر اصلا اس کا حل یہ ہے کہ آپ اپنے محبوب کے قریب ہوں اور آپ پر اس کی کمزوریاں کھلیں اور آپ کی سپر ایغو کو معلوم ہو سکے کہ وہ آپ کا آئیڈیل نہیں تھا کہ وہ تو خود اتنا کمزور ہے۔

انتہائی عشق اور محبت کی بہت سی شادیوں میں شادی کے بعد یہ بخار بہت جلد اتر جاتا ہے کہ اگر تو وہ اِڈ کی محبت تھی تو خواہش پوری ہو جانے سے کمزور پڑ گئی اور اگر شعور کی محبت تھی تو انتہائی قربت کی وجہ سے محبوب کی کمزوریاں سامنے آ جاتی ہیں لہذا وہ آئیڈیل نہیں رہ جاتا اور سپر ایغو ایک نئے آئیڈیل کی تلاش میں مصروف ہو جاتی ہے۔ اصل میں ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنا آئیڈیل تقوی، اخلاق، آرٹ، ذہانت اور دانش وغیرہ کسی دوسرے میں دیکھنا چاہتے ہیں، اپنے آپ میں نہیں کہ اس پر یا تو محنت لگتی ہے یا پھر ہم اپنے آپ سے اس قدر واقف ہوتے ہیں کہ جتنا دوسرے سے نہیں لہذا دوسرے میں سپر ایغو کا آئیڈیل تلاش کرنا نفس کو آسان لگتا ہے۔ اور اگر آپ کا سپر ایغو مضبوط ہو تو پھر وہ ہر ایرے غیرے سے متعلق نہیں ہوتا لہذا آپ کا محبوب اتنی جلدی نہیں بدلتا کہ اس کا معیار ہی ہائی ہے۔ ایسے محبوب سے قربت کے بعد بعض اوقات نفس کو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسرے سے محبت بھی دراصل اپنے آپ سے ہی محبت کا ایک دوسرا رخ تھا۔

ایسی شعوری محبت کو ختم کرنے کا حل یہی معلوم پڑتا ہے کہ اسلامی حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے محبوب سے تعلق اور بات چیت کو کچھ عرصہ جاری رکھیں یہاں تک کہ آپ پر اس کی کمزوریاں واضح ہو جائیں اور وہ آپ کا آئیڈیل نہ رہے۔ مثال کے طور ایسے محبوب سے بات چیت میں حرج نہیں ہے بلکہ ضرور کریں لیکن تنہائی میں نہیں، کبھی نہیں، بلکہ مجلس میں۔ تو کچھ ہی عرصے میں یہ محبت جاتی رہے گی۔ یہ دراصل آپ کے شعور کی محبت تھی جبکہ اِڈ کی محبت لاشعور کی محبت ہے۔ خلاصہ کلام یہی ہے کہ ان محبتوں کو حکمت سے ڈیل کریں کہ انہیں مذہبی پہلوانوں کی طرح ڈیل کرنے سے نقصان ہو سکتا تھا، واللہ اعلم۔ اور مزید نقصان سے مراد کیریئر کا تباہ ہو جانا اور نفسیاتی مریض بن جانا وغیرہ ہے۔ اور سب سے اہم اور آخری بات کہ تدبیر کے ساتھ اب اللہ سے دعا بھی کریں کہ اللہ عزوجل اُس دعا کو بہت جلد قبول کرتے ہیں کہ جس کے ساتھ تدبیر ہو۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...