کالمز

"میرا بیٹا ان شاءاللہ پاک آرمی آفیسر بنےگا”۔

یہ اس باپ کی خواہش تھی جو ماورائے عدالت مارا گیا۔ یہ نقیب محسود کا خواب تھا کہ اس کا بیٹا بڑا ہو کر لیفٹیننٹ بنے گا … باپ تو ناحق مار دیا گیا , کیا کسی نے سوچا ہے اب بیٹا بڑا ہو کر کیا بنےگا؟

اے میرے خدایا … زمین پھٹ کیوں نہیں جاتی , آسمان دو لخت کیوں نہیں ہو جاتا .. کہ جب انصاف کی چکی میں پستے جواں لاشے چیخ چیخ کر ماتم کناں ہوں اور منصفین سے انصاف کے طلبگار ہوں کہ خدارا میرا کیا قصور تھا .. یہ ظلم مجھ پہ ہی آخر کیوں .. یہ تصویر نقیب کی ہے .. جواں سال محنت کش کپڑے کا تاجر تھا اور وزیرستان سے کچھ ہی عرصے قبل کراچی شفٹ ہوا تھا .. اس کا جرم محض اتنا تھا کہ وہ بدامن علاقے سے دور کسی بڑے شہر میں امن اور پیار کی زندگی گزارنے کا خواہش مند تھا .. لیکن گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے ملیر میں راو انوار کے مبینہ پولیس مقابلے کی نظر ہوا اور مارا گیا .. ماورائے عدالت قتل کی یہ کوئی پہلی واردات نہیں ہے .. اس طرح کے واقعات ایس ایس پی راو انوار کے علاقے میں عام ہیں .. لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسران ہی جب بھیڑئیے بن جائیں تو سوال کس سے کیا جائے .. پرامن رہنے کی دعوت دینے والے ملک کے پر امن شہری کو دہشت گرد بنا کر گولیوں سے چھلنی کرنے کے بعد نقیب کے بیٹے سے پر امن رہنے کی توقع کیسے کر سکتے ہیں .. کیا آپ دہشت گردی ختم کر رہے ہیں یا دہشت گردی کی نرسریاں پروان چڑھا رہے ہیں .. ایسے ملک کا چیف جسٹس اگر اتوار کو بھی عدالتیں لگاتا پھرے تو کیا فائدہ جس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران خود اپنی مرضی کی عدالت لگاتے ہوں .. اپنی مرضی کے فیصلے کرتے ہوں اور دن دہاڑے نہتے لوگوں کو پولیس مقابلے میں اڑا دیتے ہوں .. نقیب کا کوئی جرم تھا بھی تو اسے ٹرائل کیا جاتا .. عدالتوں کے سامنے پیش کیا جاتا لیکن اس طرح لاوارثوں کی طرح گولیوں سے بھون دینا اس دلیل کو تقویت نہیں دیتا کہ اندر کی کہانی کچھ اور ہے ..

گذشتہ ہفتے کی شام کراچی میں ایک نوجوان انتظار حسین گاڑی نہ روکنے پر اینٹی کار لفٹنگ سیل (اے سی ایل سی) اہلکاروں کی فائرنگ کا نشانہ بن گیا، لیکن جوں جوں کیس کھلا، معاملہ رُخ بدلتا چلا گیا۔سانحات کی کہانی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتی ..انتظار کے والدین کو انصاف کا تاحال انتظار ہے ..انتظار حسین کے قتل کے الزام میں کئی پولیس اہلکار گرفتار ہیں اور تفتیش تیزی سے گرفتار پولیس اہلکاروں کے لیے مشکلات بڑھاتی چلی جارہی ہیں۔

ابھی 19 سالہ انتظار احمد کے قتل کی بازگشت ہی نہ تھمی تھی کہ کراچی پولیس کو ایک اور مشکل نے آن گھیرا ہے اور ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کا معاملہ کافی گرم ہے۔ابھی تک تو یہ معاملہ صرف سوشل میڈیا پر ہی سر اٹھا رہا ہے اور ‘جسٹس فار نقیب’ #JusticeForNaqeeb کا ٹرینڈ توجہ حاصل کرتا جارہا ہے، لیکن اب مرکزی میڈیا بھی سندھ پولیس کے لیے مزید کئی سوالات کھڑے کرچکا ہے ۔ اور اس مد میں ایڈیشنل آئی جی سندھ ثناءاللہ نے راو انوار کو طلب کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے

آپ کو بتاتے ہیں کہ نقیب کون ہے؟ ایک خوش شکل، کسی ماڈل جیسی شخصیت کا مالک 27 سالہ نوجوان نقیب محسود، جس کا اصل نام نسیم اللہ محسود اور تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا، ہفتہ (13 جنوری)کے روز کراچی کے نواحی علاقے شاہ لطیف ٹاؤن کے قریب واقع عثمان خاصخیلی گوٹھ میں ایک ‘پولیس مقابلے’ میں مار دیا گیا۔

اس پولیس مقابلہ ٹیم کی سربراہی کرنے والے آفیسر ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اس طرح کے مقابلوں کے لیے شہرت رکھتے ہیں اور انہیں ‘انکاؤنٹر اسپیشلسٹ’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور لوگ مارکیٹ میں انہیں جانور کے نام سے جانتے ہیں
13 جنوری کو ہونے والے پولیس مقابلے کے بعد راؤ انوار نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد تنظیم سے وابستہ دہشت گردوں کو پکڑنے کے لیے چھاپا مارا گیا اور جوابی فائرنگ میں 4 دہشت گرد مارے گئے۔

لیکن ایک دو روز گذرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ہینڈسم نوجوان کی گردش کرتی تصویر دیکھ کر مجھ سمیت کئی لوگ حیران رہ گئے۔پھر جب اس معاملے پر تحقیق کی تو پتہ چلا کہ نقیب کے دوست اس کے غم میں ہلکان ہیں۔ اس کے قریبی رشتے داروں کا الزام ہے کہ نقیب کو 3 جنوری کو کراچی کے علاقے چیپل سٹی کے قریب واقع شیر آغا ہوٹل سے سادہ لباس اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا اور پھر 13 جنوری کو ‘مقابلہ’ ہوگیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نقیب کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا، ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی جرم کا شبہ تھا تو اسے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا۔

13 جنوری سے 17 جنوری کی صبح تک اس نوجوان کی لاش وصول کرنے کوئی نہ آیا،کسی کو علم ہی نہ تھا۔ پھر جب علم ہوا تو رشتہ داروں کو یہ خوف ہوا کہ کہیں انھیں بھی دہشت گردی کے الزام میں دھر نہ لیا جائے۔ نقیب کے والدین، بیوی اور بچے (دو بیٹیاں اور ایک 2 سالہ بیٹا عاطف) جنوبی وزیرستان میں ہیں۔ستم یہ ہے کہ جب ایک قریبی عزیز لاش وصول کرنے پہنچا تو اسے بھی صبح سے شام ہوگئی۔

اب سوشل میڈیا پر یہ معاملہ اٹھنے کے بعد کراچی سمیت کئی پریس کلبوں پر احتجاج کا اعلان بھی ہوا ہے اور ٹی وی اخبارات میں بھی نقیب کی ہلاکت کے تذکرے ہونا شروع ہوگئے ہیں۔یہ کوئی پہلا پولیس مقابلہ نہیں، جس پر شکوک و شبہات جنم لے رہے ہوں۔ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ اس قسم کے پولیس مقابلوں پر سوالات اٹھائے گئے، ایسے پولیس مقابلے بھی ہوئے، جن میں کئی وارداتوں کا ملبہ ڈال کر فائلوں کا پیٹ بھی بھر دیا جاتا ہے اور پروموشن کی سفارش بھی حاصل کرلی جاتی ہے۔

یہ سچ ہے کہ مجرموں اور دہشت گردوں کے لیے کسی پاکستانی کے دل میں کوئی جگہ نہیں، لیکن اگر نقیب واقعی مجرم تھا تو اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جاتا اور سزا دلوائی جاتی، مگر اب کیسے پتہ چلے گا کہ اصل معاملہ کیا تھا۔انتظار اور نقیب جیسے نوجوانوں کی ہلاکت کراچی پولیس کی کارکردگی پر ہزاروں سوالات اٹھارہی ہیں۔کئی ایسے کیسز بھی ہیں جو میڈیا یا سوشل میڈیا کی توجہ حاصل نہیں کرپاتے، کیا ان ‘پولیس مقابلوں’ کے لیے کبھی کوئی چیک اینڈ بیلنس نظام بن پائے گا؟

ہم صرف امید ہی کرسکتے ہیں کہ ایسا ہو اور جلد از جلد ہو، تاکہ پھر کسی انتظار یا نقیب کے لواحقین انصاف کی تلاش میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر اپیل کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ ورنہ ہم یہ سوچتے رہ جا ئیں گے کہ کوئی کہتا تھا کہ "میرا بیٹا ان شاءاللہ پاک آرمی آفیسر بنےگا”۔ یہ اس باپ کی خواہش تھی جو ماورائے عدالت مارا گیا۔ یہ نقیب محسود کا خواب تھا کہ اس کا بیٹا بڑا ہو کر لیفٹیننٹ بنے گا … باپ تو ناحق مار دیا گیا , کیا کسی نے سوچا ہےاب بیٹا بڑا ہو کر کیا بنےگا؟

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment