ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

مہررسالتﷺ کے لازوال تئیس سالوں کی طرف رجوع

آج سے  تقریباً پندرہ سو برس قبل عرب وعجم، ہندو یورپ، ایران و روم ، یونان وفارس اورافریقہ الغرض تمام دنیا میں ظلمت وتاریکی کی سیاہ گھٹاچھائی ہوئی تھی۔ تمام اقوام عالم پستی، تنزلی کا شکار تھیں۔ لوگ حق و صداقت کا راستہ چھوڑ چکے تھے، جہالت اور ظلمت میں گرفتار تھے اورجہالت علم پر غالب آچکی تھی۔ لوگ بھیڑیوں کی مانند ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے(مشہورمثل ہے کہ جب بھوکے بھیڑیوں کوشکار نہ ملے تووہ آپس میں ہی حلقہ بناکربیٹھ جاتے ہیں اورجس بھیڑیئے کی آنکھیں سب سے پہلے بندہوں اس کو نوچ کرکھاجاتے ہیں )۔ جنگ و جدل کا دوردورہ تھا، جنگ و جدل، قتل وخون، انتہاپسندی اور عدم برداشت عام تھی۔

اقوام عالم کی تاریخ اس امرکی گواہی دیتی ہے کہ اس دور کے تمام کھیل کود بھی جنگ و جدل وقتل وغارت گری کے عکاس تھے۔ یہ تو عمومی رویہ تھا لیکن عرب قوم توبالخصوص بہت منتقم مزاج تھی ان کے دور جاہلیت میں جذبہ انتقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ عرب جن کی گھٹی میں ام الخبائث شراب نوشی رچی بسی تھی لیکن انتقام لینے سے قبل اپنے لئے شراب پینا حرام سمجھتے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں لڑپڑتے، کبھی پانی پینے پلانے پر، کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پراور اگرکبھی کوئی دو قبیلے آپس میں جنگ شروع کرلیتے تو یہ جنگ تمام عرب قبائل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی اوروہ لوگ سالہا سال، برس ہا برس برسرپیکار رہتے۔ مثلاًبکر اورتغلب کے قبائل کی لڑائی تقریباً چالیس برس تک چلتی رہی یعنی تقریباً نصف صدی اور ہزاروں نفوس کی جانیں انہوں نے اس جنگ میں ضائع کردیں۔

اخلاقی، معاشرتی، تہذیبی اورتمدنی اعتبار سے بھی عرب قوم اس وقت انتہائی زبوں حالی کا شکار تھی۔ لوگ جانوروں سے بھی زیادہ پستی کے عالم میں جی رہے تھے عورتیں، بچے اورغلام انتہائی کسمپرسی کی حالت میں تھے۔ اخلاقی قدریں بری طرح پامال اورمسخ ہوچکی تھیں۔ تمام اعلیٰ اقدار، اچھے اوصاف اوربلند کردار کی جگہ افعال رذیلہ، اعمال قبیحہ اور برائیوں نے لے لی تھی۔ ایمان کی جگہ کفر، احیاء نفس کی جگہ قتل و غارت گری، عدل وانصاف کی جگہ ظلم وناانصافی، اتحادواتفاق کی جگہ انتشاروافتراق، قیادت ورہبری کی جگہ قزاقی و راہزنی، عفت وپاکدامنی کی جگہ فحاشی وبے حیائی، کاروباروتجارت کی جگہ سودوجوا، حریت کی جگہ غلامی، شفقت ورحم کی جگہ غیظ و غضب، صلہ رحمی کی جگہ قطع تعلقی، وقار کی جگہ ذلت، حوصلہ افزائی کی جگہ تضحیک، رحم دلی کی جگہ شقاوتِ قلبی، خوش بختی کی جگہ بدبختی، محبت کی جگہ نفرت، سکون کی جگہ اضطراب، الفت کی جگہ عداوت، اخلاص کی جگہ نمود ونمائش، حرمت کی جگہ اہانت وتحقیر، ایثار وقربانی کی جگہ لوٹ مار، الغرض تمام اوصاف حمیدہ کی جگہ اخلاق رذیلہ، بلندی کردار کی جگہ پستی کردارنے لے لی تھی۔ عرب قوم نظم و قوانین کے بندھن سے آزاد ہوچکے تھے اورجس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج تھا۔

ماسوا چند افراد کے پوری دنیا کی عمومی کیفیت یہی تھی۔البتہ چند  ایک حق کے متلاشی افرادایسے بھی تھے جو حق کی تلاش میں سرگرداں تھے، ان تک اگرچہ حق کا پیغام نہ پہنچاتھا لیکن ان کے قلب و ذہن کے نہاں خانوں میں اپنے رب سے کیا گیا وعدہ ضرور موجودتھاکہ الست بربکم۔ وہ اسی عہد کی پاسداری کے لئے سرگرداں اورمتلاشی تھے آخرکار خود اس پیغامِ حق(وحی الٰہی) تک پہنچ گئے۔ تلاشِ حق کے دوران بھی ان کی زندگی لغوبیہودہ افعال، اعمال اوراقوال سے محفوظ رہتی ہے۔ جیسا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جنہوں نے تلاشِ حق کے لئے اپناگھر بار اورسابقہ دین چھوڑا اورکبھی ایک راہب کے پاس کبھی دوسرے راہب کے پاس الغرض اسی طرح وہ ایسے راستے کی تلاش میں اپنے گھر سے نکل کھڑے ہوئے جس سے گزر کر وہ امن وامان، سکون واطمینان حاصل کرسکیں، فلسفہ اچھائی اور برائی کو جان لیں، کائنات کے تمام رازوں سے پردہ اٹھا کرانہیں بے نقاب وبے حجاب دیکھ لیں اورجان لے کہ اچھائی کیا ہے اور برائی کیا ہے، نیکی کیا ہے اوربدی کیا ہے، حسن کیا ہے اور قبح کیا ہے، خوب کیا ہے اورزِشت (بری عادات)کیا ہے؟

ایسے میں اللہ رب العزت کو اشرف المخلوقات کی حالت پر رحم آگیا۔ اور اس کی رحمت کا سمندر متلاطم وموجزن ہوا اور جوش میں آیااور انبیاء ورسل کی مقبول دعا کے پورا ہونے کا وقت آن پہنچا: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ ”اے اللہ ان میں ایک رسول مبعوث فرما جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اوران کا تزکیہ کرے۔ بیشک تو غالب حکمت والا ہے۔ ”(البقرۃ :١٢٩)

یعنی کہ اللہ رب العزت نے حضور اکرم نورمجسم، رحمت عالم، ہادی اعظم، محسنِ انسانیت، سید الکونین والرسل، خاتم الانبیاء، شاہِ لولاک، شاہِ اُمم، وجہِ تخلیقِ کون ومکان، شافعِ محشر، ساقی کوثر، صاحبِ معراج، سراج منیر، اُمّی لقب ہاشمی، حبیبِ خدا، سرورِ کائنات، مجسم ہدایت، مکمل صداقت، دُرِّ یتیم، احمدِ مجتبیٰ، محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وبارک وسلم کودنیامیں حق کا پیغام پہنچانے کے لئے مبعوث فرمایا۔ جب آپ ﷺ کی ولادت ہوئی تورات کی تاریکی چھٹ رہی تھی صبح کا اجالا نمودار ہونے کوتھا۔ تاریخ عالم شاہد ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت کے وقت بہت سے انوکھے اورمنفرد واقعات رونماہوئے۔ مثلاً کسریٰ کے قصرِ شاہی کے کنگرے گرے، مجوس کاوہ آتشکدہ بجھ گیا جوایک ہزاربرس سے جل رہاتھااور صنم خانوں میں بت اوندھے منہ گرگئے۔ یہ اس بات کے آثار تھے کہ اب دنیا سے جہالت کااندھیرا، اعمالِ قبیحہ کی سیاہی چھٹنے کو ہے، علم اوراچھے اعمال کی روشنی جلوہ گر ہونے کو ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ نے صرف تئیس( ٢٣) برس کے مختصر دورانئے میں عرب کی کایا پلٹ دی۔کہا جاتا ہے کہ  Habits die very hard.”عادات بہت مشکل سے ختم ہوتی ہیں” اور پورے معاشرہ کے ہر ہر فرد کی ہر بری عادت کا ختم ہوجانا ناممکن ہے ۔لیکن یہاں یہ محاورہ خود ختم ہوتا ہوا نظرآیا۔ آپ ﷺ نے عرب کی خوابیدہ اورسوئی ہوئی قوم میں ایک ایسی کیفیت، لہر، تڑپ، لگن، امنگ، ترنگ، جذبہ، جنون اور مقصد پیدا کردیا جس نے ان کے دلوں کی گہرائی میں زلزلہ برپا کردیا اوران کے بحر کی موجوں میں اضطراب پیداکردیا کہ جس سے ان کے دلوں میں موجودصنم خانوں کے بت ٹوٹ کرپاش پاش اورچکنا چورہوگئے اوران کے اندرحُبِّ الہی اورحُبِّ نبی ﷺ کے سوتے وچشمے پھوٹنے لگے۔ آپ نے دنیا کی سب سے سخت ترین چیز یعنی سخت انسان کے سخت دل کو جھنجوڑ کررکھ دیا۔ دل کہنے کو توگوشت پوست کا ایک ٹکڑا ہے لیکن اگر یہ سخت اورسیاہ ہوجائے تو اس سے سخت چیز دنیا میں کوئی اورنہیں کیونکہ سخت سے سخت پہاڑ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے، ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوسکتا ہے اورجھک سکتا ہے لیکن اگرکہا جائے کہ کسی کی فطرت بدل گئی یا سخت وسیاہ اوراکڑاہوامغرور دل نرم ہوگیا، جھک گیا، یہ ناممکن ہے ! (یامصرف القلوب صرف قلبی علی طاعتک۔ آمین)”اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنی طاعت کی طرف پھیر دے۔ ”

آپ ﷺ نے ایسا کردکھایااور یہی سخت دل مسلمانوں کے لئے آپس میں ابریشم کی طرح بہت رقیق، لطیف اورنرم ہوگیا اور اس کی شدت و سختی صرف کفار کے لئے رہ گئی۔ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ۔ ”وہ کفار پر سخت، شدید اور آپس میں رحم دل ہیں۔ ”(سورۃ الفتح :٢٩)

آپ ﷺ کے اعجاز سے عرب کی زمین کے تمام گلشن وصحراء حق کے پیغام سے گونج اٹھے۔ اوروہ شریعت و حقیقت سے آشنا ہوگئے اوران کی آنکھوں سے حجاب ہٹ گئے، اور قدرت کے وہ راز ان پر عیاں ہوئے جو اس پہلے وہ نہ جانتے تھے۔ وہ جو عہدو پیماں اپنے رب سے باند چکے تھے انہیں وہ گم گشتہ پیغام یاد آیا اورانہوں نے اپنے ہاتھوں میں حق و صداقت کا جام تھام لیا۔

آپ ﷺ نے ظلم و ستم کے عادی جاہل اور وحشی چرواہوں اورخانہ بدوشوں کوانسان بنادیا اور ان کے اندر رحم و کرم، حلم وتواضع جیسی صفات پیداکردیں۔ جولوگ درندگی، سفاکی، بہیمیت کے نشان تھے وہ اپنی جان دوسروں پر نچھاور کرکے خوشی محسوس کرنے لگے، جودوسروں کا مال ناحق غصب کرکے اور رہزنی کے پیشہ سے وابستہ تھے وہ اپنا مال دوسروں پر لٹانے میں خوشی محسوس کرنے لگے، جو لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے وہ اپنے غلاموں اورباندیوں تک کا اپنی ذات سے بھی زیادہ خیال رکھنے لگے، جہاں سے ایک قافلہ صحیح سلامت نہ جاسکتا تھا وہاں ایک عورت انتہائی قیمتی مال و اسباب کے ساتھ تن تنہا بغیر کسی خوف وخطر کے جاسکتی تھی۔ عورت جو ماں بہن بیوی، بیٹی ہر روپ میں ذلت ومسکنت کی تصویر تھی اس کو بلند مرتبہ ملا، ماں کے روپ میں اس کے قدموں میں جنت قرار دی گئی، بیٹی کی شکل میں اچھی پرورش و تربیت کرنے پرجنت میں حضور ﷺ نے اپنی رفاقت کی خوشخبری سنائی۔ تاریخ کے سیاہ ترین دور، سخت ترین وقت میں انتہائی موثر دیر پااوروسیع ترتبدیلی واقع ہوئی۔ اور انتہائی مختصر عرصے میں ان لوگوں میں عہدکی پابندی، معاہدے کی پاسداری، محنت وجدوجہدسے لگن، غلاموں سے اچھا برتاؤ، صدق وصداقت، عفوو درگزر، احکام کی تعمیل، تنظیم سازی، حصولِ تعلیم، وغیرہ کی صفات پیدا کیں اورانہیں جامع عدالتی نظام یعنی وہ جنہیں قضاء وجزاء تک کا علم نہ تھا وہ بہترین عدالتی نظام کے حامل بن گئے، تشریع و قانون سازی سے آگاہ ہوگئے، دفاعی و عسکری اداروں کے چلانے والے بن گئے، جدید مالیات کے نظام کے ماہر بن گئے اورعلم تقویم (تعین اوقات کار، ماہ و سال وغیرہ ) سے بھی بہرہ ورہو گئے۔ مکمل جدید ریاستی ڈھانچہ کے نظم ونسق کی زمام اقتدارسنبھالنے والے بن گئے۔ جو لوگ جہالت وظلمت میں مبتلاء تھے وہ بحرالعلوم، ماہر فنون اور علم و عرفان کے مینارہ نور بن گئے، جو لوگ کردار کی انتہائی پستی اورزبوں حالی کے دور میں ستاروں سے سمت ودیگر امور میں رہنمائی لیتے تھے وہ خود ستارے بن گئے اور کردار کی اوج ثریا پر جامقیم ہوئے۔ اورایساکیوں نہ ہوتا کیونکہ خود سدرۃ المنتہیٰ ان کے قائدِ اعظم، ہادی اعظم ﷺ کے قدموں تلے ہے۔ ایسی چند ایک مثالیں نہیں بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صورت میں ستاروں کی انگنت کہکشائیں دیں جن میں سے ہر ایک یگانہ روزگار، لاثانی، منفرد ہر ایک کا طریقہ کارکامیابی کی ضمانت۔ اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم اھتدیتم۔ ”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے کسی ایک کی بھی پیروی کروگے تو ہدایت پاجاؤگے۔ ”الغرض آپ ﷺ نے عرب قوم میں وہ اوصاف پیدا کردیئے جن کی وجہ سے وہ اس دنیا کے امام پیشوا، حکمران بن گئے اور”وہ جو نہ تھے راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے” کا مصداق ہوگئے۔ اورتمام امتوں میں خیر الامم کے درجے پر فائز ہوگئے۔ آپ ﷺ نے ان لوگوں میں ایسی تبدیلی پیدا کی جو نہ اس سے پہلے کبھی مشاہدہ کی گئی اورنہ ہی کبھی دوبارہ ہوسکتی ہے۔

عرب کے خشک وبے آب و گیاہ ریگستان میں برائیوں ظلمتوں کے خاردار کردار کے حامل وحشی خانہ بدوش لوگوں میں حضور اکرم ﷺ نے کس طرح اتنی بڑی تبدیلی رونما کردی؟ کیا یہ تبدیلی اس وجہ سے تھی کہ ان پر کوہ طور یا کوہ احد اٹھایا گیا کہ وہ ایمان قبول کرلیں یایہ تبدیلی کسی مجبوری کا نتیجہ تھی یایہ صرف راحت وآرام سکون اور اچھے دنوں میں ساتھ دینے کی حد تک تھی یایہ عارضی تبدیلی تھی؟نہیں قطعاًنہیں، ہرگزنہیں ! بلکہ اگرغورکیاجائے تو یہ ابدی ودائمی تبدیلی ایسی تھی کہ انتہائی نامساعد حالات میں بھی وہ لوگ ظلم و تشدد سہنے اوراپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنے کے باوجود بھی آپ ﷺ کے لائے ہوئے پیغام کوچھوڑنے کے لئے تیارنہ تھے۔ محض دلائل سے قائل ہونے والاانسان اپنی جان جان آفرین کے سپر د کردینے پرہرگز تیار نہیں ہوسکتا۔ اورنہ ہی کمزور ایمان کا حامل شخص ایسے خطرات مول لے سکتا ہے۔ یہ صرف حضور اکرم ﷺ کی پرنورشخصیت تھی جس کی نورانیت سے منور ہونے والا شخص اس حد تک ظلم سہنے کے باوجود اسلام اور حق کے پیغام سے کبھی دستبردار نہ ہوا۔ مثلاًحضرت ابو یحییٰ صہیب رومی رضی اللہ عنہ جنہیں بہت سخت تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ جنہیں دہکتے انگاروں پرلٹادیاجاتا اورجب ان کی کمر کی چربی ان دہکتے انگاروں کو بجھادیتی تو کفار انہیں چھوڑدیتے تھے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کمر پر جلنے کے نشانات تاحیات رہے۔ ایک دفعہ آپ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کواپنی کمر دکھائی توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے کسی کی بھی اتنی جلی ہوئی کمر نہیں دیکھی۔ مؤذنِ رسول ﷺ حضرت بلال بن رباح حبشی رضی اللہ عنہ پر ان کا آقا امیہ بن خلف بے انتہا ظلم کیاکرتاتھا اور عرب کی جھلسادینے والی اورچلچلاتی سخت دھوپ میں صحرا کی تپتی ریت پر لٹاکر آپ پر بھاری پتھر رکھ دیتا لیکن اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ احد احد پکارتے رہتے۔ اسی طرح حضرت عماربن یاسر، ام عمارسیدہ سمیہ (اسلام کی خاطر سب سے پہلی شہید ہونے والی خاتون)، اورحضرت یاسررضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پورے گھرانے پر ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑے جاتے اور وہ مصائب وآلام پہنچائے جاتے جن کے تصورتک سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں، دشمنانِ اسلام مسلمانوں کو کھولتے ہوئے تیل میں زندہ جلادینے کے باوجودانہیں کلمہ حق سے دستبردار نہ کراسکے، اور اس طرح کے بےشمار واقعات وحکایات سے کتب تاریخ کے اوراق لبریز ہیں۔ جن میں مرد وزن، کباروصغار، پیروجوان الغرض تمام صحابہ و صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کاکردار اس بات کا غماز ہے کہ جنہوں نے ایک بار صدقِ دل، صمیم قلب، خلوصِ نیت سے آپ ﷺ کی دعوت قبول کرلی پھر وہ اس نعمت جاوداں وچاشنی جانفزا اورحلاوت ایماں کولحظۃً، لمحۃً کبھی خواب میں بھی چھوڑنے کے تصورکے لئے تیار نہیں ہوا۔ حالانکہ خود اسلام نے رخصت کے طور پر اس امر کی اجازت دی ہے کہ قلب اگر ایمان پر مطمئن ہو تو جان بچانے کے لئے زبان سے کلمہ کفرادا کیاجاسکتاہے، مَنْ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنْ بَعْدِ اِیْمَانِہٖ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَقَلْبُہ مُطْمَئِنّ بِالْاِیْمَانِ۔ ”جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکارکیا سوائے اسکے جسے کفرپر مجبورکیا گیالیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔ ”(النحل:٦)

کیا کوئی یقین کرسکتا ہے کہ  اس قدر پستی سے عروج کی انتہاؤں کوچھونے والی قوم کیا کبھی دوبارہ ذلت و پستی کا شکار ہوسکتی ہے؟جب کہ اس کے پاس وہی قرآن بالکل صحیح حالت میں موجود ہے جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں انقلاب برپاکردیا تھا۔ اور آپ ﷺ کا عالمگیر اور آفاقی پیغام اورتعلیمات نبوی ﷺ اورسیرت وحدیث کی صورت میں وہی اسوہ رسول ﷺ ہے جس نے پورے عرب کو صفات رذیلہ سے نکال کر صفاتِ حمیدہ سے آشنا کردیاتھا۔ اوریہ بھی نہیں کہ آپ ﷺ کا پیغام کسی خاص زمانے یا قوم کے لئے تھا بلکہ آپ ﷺ ان سے نہیں تھے کہ تاریخِ انسانی کے کسی خاص دور یا بعض مقامات واشخاص پر اپنے نقوش چھوڑتے بلکہ آپ ﷺ کے نقوش اوراثرات تو ماضی حال و استقبال تینوں زمانوں پر محیط اور پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ کے نقوش ابدی، دائمی اورلافانی ہیں۔ اور آپ ﷺ کا لایاہوا پیغام بھی ایسا نہیں کہ کبھی پرانا ہو، قدیم ہو، بیکارہو، رائیگاں ہویا اس کی حاجت ختم ہوجائے، بلکہ آپ ﷺ کی سیرت ہمیشہ کی طرح آج بھی زندہ ہے لیکن پھریہ کیا ہوا کہ اس سب کچھ کے باوجود  وہی امت زبوں حالی کا شکار ہے۔اگر ہے توآخرکیوں ؟ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس زبوں حالی کے اسباب جاننے کے لئے تاریخ کے اوراق کھنگالیں اور ماضی کے دریچوں میں جھانکیں تو ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ ماضی میں جب کبھی امت مسلمہ جزوی طور پر آپ ﷺ کی تعلیمات سے دور ہوئی ہے تومسلمانوں پر قیامت صغریٰ کبھی عراق و مصرمیں تاتاریت اورچنگیزیت کی صورت میں نازل ہوئی، توکبھی اندلس میں صلیب کی شکل میں طاری ہوئی اور کبھی سلطنت عثمانیہ اورہندمیں فرنگیت کی شکل میں واقع ہوئی۔ جس کی وجہ سے مسلمان ذلت ومسکنت کی تصویر بن گئے اوران کے خون سے دریااورندیاں رنگین ہوگئیں۔اورہاں اگرکبھی کُلی طور پرمن حیث الکل لوگوں کی زندگیوں سے آپ ﷺ کی تعلیمات کا اثر ختم ہوا توجان لو کہ وہی لمحہ تو قیامت کبریٰ کی تباہی، ہولناکی اوربربادی کا ہوگا کیونکہ جب تک روئے زمین پر کوئی ایک بھی مسلمان، رب کا نام لیوا اور آپ ﷺ کا ثناء خواں ہوگاتو اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی۔ قیامت کی ہولناکی وتباہی صرف اور صرف کفار کے لئے ہے

آج بھی جب ہم امت مسلمہ کی جانب دیکھتے ہیں تو وہ تعدادمیں تقریباً ڈیڑھ ارب ہیں، دنیا کی دوسری بڑی قوم ہے، اس دنیا کی کل آبادی کا کم از کم پانچواں حصہ ہے اورتقریباً چھوٹے بڑے ستاون ممالک میں ان کی حکومتیں قائم ہیں، اللہ رب العزت نے فراوانی سے انہیں قدرتی وسائل ومعدنیات کی دولت سے سرفرازفرمایا ہے لیکن اس کے باوجود ان کی اہمیت سیلابی پانی میں بہنے والے خس وخاشاک اور تنکے سے زیادہ نہیں، اوریہ قوم ایک قسم کے خلفشار، انتشار، افتراق، اضطراب اور اضمحلال کا شکار ہے، زبوں حالی، پستی اورابتری میں گرفتار ہے اوریہود و ہنود ونصاریٰ ومجوس یعنی کہ پوری دنیا ئے کفر(یہ حقیقت ہے کہ الکفر ملۃ واحدۃ) ہر طرف سے مسلمانوں پر یلغار کئے ہوئے ہیں یایہ ایسی بھیڑوں کا ریوڑہے جس کے گرد بھیڑیوں نے حصار بنارکھا ہے اور ان پر اس طرح ٹوٹے ہوئے ہیں جس طرح مردار جانور پر گدھ منڈلارہے ہوتے ہیں۔

وہ جو شاہین تھا وہ کرگس یا ممولے سے بھی زیادہ بے آبرو، ذلیل اوررسوا ہوچکا ہے اور مزید فلاکت، نحوست، جہالت، اس کے پس وپیش منڈلارہی ہے، ذلیل و رسوا ہونے کے باوجو د غرور و تکبر(درحقیقت احساس کمتری) میں گرفتار ہے اور اس سب کے باوجود بھی یہ شاہین خواب غفلت کے مزے لوٹنے میں مصروف ہے اور اپنے زوال پر بھی قانع ہے اس کے دل میں دوسری اقوام کے احوال وعزت پرنہ کوئی رشک ہے اورنہ ہی اپنے دوبارہ عروج کی خواہش ہے اوراپنی اس علمی وعملی، فکری ونظری، بے بسی وبے کسی، درماندگی وبے بضاعتی اوربے سروسامانی کی حالت پر کسی بھی قسم کی ندامت، ملامت اورپشیمانی بھی نہیں ہے۔

اگر ہم اس پستی اورذلت سے نکلنا چاہتے ہیں توہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمیں دوبارہ عروج نہ تو یونانی فلسفہ سے حاصل ہوگا، نہ سائنس و ٹیکنالوجی سے، نہ مغربی علوم، تہذیب وجمہوریت سے، اورنہ ہی ہمیں اس نام نہاد روشن خیالی کی مدد سے پستی وذلت سے چھٹکارا ملے گا۔ یہ تو سب ابلیسی جال اور مسلمان دشمنوں کی چالیں ہیں جو امت مسلمہ کو بہکانے اورراہِ حق سے ہٹانے کے لئے ہیں۔

آج بھی اگر ہم ان نقوش پر چلیں گے اوراسوہ رسول ﷺ کو اختیار کریں گے تو انشاء اللہ دوبارہ وہی عروج حاصل کرلیں گے، وگرنہ ذلت وخواری میں گرفتار رہیں گے۔ قرآن مجید اورسنت نبوی ﷺ کی طرف رجوع کرنا ہی اس پستی، ذلت اوررسوائی سے نکلنے کا واحدراستہ اور طریقہ ہے۔ Back to The Holy Quran & Back to Prophet Hadrat Muhammad ﷺ

قرآن مجید فرقان حمید اورحضور اکرم ﷺ کی سیرت ہمیشہ کی طرح آج بھی واحد ذریعہ ہدایت اور راستہ نجات ہے۔ اس لئے ہمیں پلٹنا ہوگا قرآن اورصاحبِ قرآن کی طرف۔  آئیے ہم دوبارہ عہد کریں کہ ہم توحید باری تعالیٰ اور حُبِّ رسول ﷺ کا عَلم لے کر حضور پرنور ﷺ کی سنت کا اس دنیا میں چرچا کریں گے، پھر سے وہ کھویا ہوا بلند مقام حاصل کرنے اوردنیا سے جہالت وظلمت کومٹانے کی کوشش کریں گے۔ (ان شاء اللہ)

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...