ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

محبوب کی کیا گارنٹی ہے – حفصہ نور

ہمارے سماج میں محبت زیادہ تر عیاشی اور بےشرم ہونے کی سند ہے ۔ جب کوئی لڑکی اپنے گھر میں اپنی پسند کا اظہار کردے تو یا تو اُسکو قتل کردیا جاتا ہے یا اُسکی پڑھائی چھڑوا کر گھر بیٹھا دیا جاتا ہے پھر بھی معاملہ نہ سنبھلے تو کسی بھی مرد کی کُھونٹی سے باندھ کر بوجھ اتار دیا جاتا ہے ۔
اگر ذرا سی برداشت،لوگوں کا ڈر اپنی جھوٹی عزت ، فطرت سے خوفزدہ ہوکر پسند کو قبول کر بھی لیا جائے تو بار بار لڑکی کو یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ یہ تمہارا فیصلہ ہے اگر غلط بھی ہوا تو تیری لاش اِس گھر میں واپس آنی چاھئے !!
معاشرے میں شدید گھٹن ہونے کی وجہ سے آجکل نوجوان جنسی اور فطری کشش کو محبت کے نام سے منسوب کرتے ہیں مگر جب حقیت اپنا افسانہ سناتی ہے تو دن میں تارے نظر آجاتے ہیں ۔
شادی سے قبل ملاقاتوں میں نہ تو روایات آڑے آتی ہے نہ پارسائی کی چھاچھ پلائی جاتی ہے ۔ دونوُں جوڑے بھرپور انداز میں اپنی پرفارمنس دے رہے ہوتی ہیں ۔
لڑکے فُل کٹ شڈ اور پرفیوم میں نہا کر تشریف لاتے ہیں جب کہ لڑکیاں سرخی پاوڈر سے خود کو لپیٹ لیتی ہے مگر حقیقی زندگی میں دونوں مسنوئی چیزوں سے اپنا کردار اور عادات چھپا رہے ہوتے ہیں ، بعد میں پرفیوم زہر کی طرح ناک کے نتھنوں میں گھستا تعفن لگ رہا ہوتا ہے اور سرخی لہو پینے والی ناگن کی کہانی سنارہی ہوتی ہے ۔
دو چار گھنٹے کی ملاقات اور پھر اپنے اپنے گھر کی چوکھٹ ۔۔۔۔
معاملات اور اصلیت کا اندازہ جب ہوتا ہے جب دو چوکھٹ ایک ہوجاتی ہیں، اور اپنی محبوبہ سے زیادہ عزیم اور سچے اپنے لگنے لگتے ہیں کیوں کہ جب ( محبوب )شوہر بن جاتا ہے اور بھید کھلتے ہیں تو زمین پاوں سے کھینچتی دکھائی دیتی ہے ۔
یہ سماج عشق کی چنگاری جلانے کی اجازت ایک مرد کو تو پھر دے دیتا ہے مگر جب کوئی عورت اس تپش کو محسوس کرتے ہوئے اُس احساس میں جلنا شروع کردے تو اس گناہ کی کوئی معافی نہیں ۔
گھر کی چوکھٹ پھلانگ کر شادی کرنے والی عورت کی عزت اپنے مرد کے سامنے مقدس باندھی سے بھی کمتر ہوتی ہے جسے وہ ساری زندگی بلیک میلنگ میں رکھتا ہے اور یہ طعنے سننے کو بھی ملتے ہیں کہ تو میرے ساتھ بھاگ گئی تجھے اپنے ماں باپ کی لاج رکھنا نہ آئی تو میری کیا رکھے گی مگر پسِ پردہ وہی مرد اپنی بیوی کی بہادری سے کہیں نہ کہیں خوفزدہ ضرور ہوتا ہے ، جب ہی ہر وقت شک کی عینک کا استعمال رکھتا ہے ۔
وہ لڑکی جسکے ماں باپ سے زیادہ محبوب ترین اُسکا محبو ہوتا ہے اور وہ یہی اقرار اپنے شوہر سے سننا چاھتی ہے تو اُسے بدلے میں تیسرا درجہ نصیب ہوتا ہے ۔
سماج کی باقی ساری عورتیں مقدس باندھی ہوتی ہیں مگر وہ باندھی جو رواج کے بندھن توڑتی ہے اُسکی عزت مقدس رکھیل سے بھی کم درجے کی ہوتی ہے ۔
دفعہ ہوجا۔۔۔ مرجا ۔۔۔جھوٹی ۔۔۔بدکردار اگر تجھ میں زرا سی غیرت ہے تو اب مت آیو !!!
ایسے القابات سنتی وہ باندھی جو یہ بندھن توڑ کر نیا بندھن جوڑنے کی کوشش بھی کرے تو بھی ماری جاتی ہے اگر جان سے نہیں تو اُن لفظوں سے جو اُسے پہلی بار باندھی بننے پر سننے کو ملتے ہیں ۔
مگر دوسرے مرد کی بھی کیا گارنٹی ہے کہ وہ پہلے عاشق شوہر کے طعنے نہیں دیگا ۔۔۔!!!
سچ تو یہ ہے نہ محبت اور اُسکے دوران گزارے گئے لمحوں میں قسمیں کھانے والے محبوب کی کوئی گارنٹی ہے اور نہ محبوبہ کی مقدس باندھی تک کے سفر کی کوئی پہچان ۔۔۔
اور اُس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ دُنیا کی کوئی بھی شے اُس وقت تک خوبصورت ہے جب تک آپکو حاصل نہیں ہوئی پھر کونسی کشش کیسی چاہت ، کیا محبت اور کس بات کی گارنٹی !!

تحریر : حفصہ نور

4

تبصرے
Loading...