بلاگ کالمز

ڈاکٹر سے رجوع کیجئے جناب!

ایک دانا کا قول ہے، علاج کبھی کبھی بیماری سے زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے۔ ایسا اُس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے معالج خود ہی بن جاتے ہیں، جب ہم کسی بیماری یا تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں تو اس سے چھٹکارے کے لئے گھریلو ٹوٹکوں سے لے کر اینٹی بائیوٹِکس اور دوست احباب سے لے کر میڈیکل اسٹور والے کے مشوروں پر عمل تک ہر جتن کرلیتے ہیں لیکن سب سے اہم کام ڈاکٹر کے پاس جانا بھول جاتے ہیں۔ سیلف میڈیکیشن کا یہ طرزِ عمل ضرر رساں ہے، جو نہ صرف مرض میں اضافہ کرسکتا ہے بلکہ جسم میں مزید تکالیف اور پیچیدہ مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔اپنا کام خود کرنا ایک بہت اچھی اور مفید عادت ہے لیکن اپنا علاج خود کرنا دراصل مرض میں پیچیدگیاں پیدا کرنے اور خدانخواستہ اپنے آپ کو موت کے منہ میں لے جانے کے مترادف بھی ہوسکتا ہے۔ آج کل کی دوائیں کسی ایٹمی توانائی کی مانند ہیں۔ چھوٹی سی ایک گولی میں بے پناہ طاقت ہوتی ہے، جس کا غلط استعمال انسان کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے

جب کہ وہی گولی اگر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کرلی جائے تو شفاء کا خزانہ ثابت ہوتی ہے۔عام طور پر دوائیں دیکھ کر زیادہ تر بچے اور بعض بڑے بھی ایسے بُرے منہ بناتے ہیں جیسے نِیم چڑھا کریلا کھالیا ہو، لیکن ہماری ایک سہیلی ایسی بھی ہیں جنہیں یہ کڑوی کسیلی گولیاں ٹافیوں کی مانند پسند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے بیگ میں ’’اہم ٹیبلیٹس‘‘ ہمیشہ موجود ہوتی ہیں، جانے کہاں اُن کو یا کسی اور کو ضرورت پڑجائے۔ اُنہی کی طرح ہم میں سے اکثر ’’عقلمند‘‘ افراد سر درد، فلو، نزلہ، زکام، حلق خراب ہونے جیسی ’’معمولی‘‘ بیماریوں کا علاج خود ہی کرلیتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ خود سے کیا جانے والا یہ علاج خود ہمارے ہی لئے کئی مصیبتوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ نزلہ، زکام، سر درد سے لے کر موٹاپا کم کرنے، رنگ گورا کرنے کے لئے بغیر ڈاکٹر کے تجویز کئے دوائیں اور کریمیں استعمال کرنا خطرناک ثابت ہوتا ہے، لیکن اس خطرے کا اندازہ بہت بعد میں ہوتا ہے جب مرض شدت اختیار کرلیتا ہے۔

ہمارے یہاں مفت مشورے دینے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ آپ صرف کسی کے سامنے اپنی تکلیف کا ذکر کردیں۔ کوئی نہ کوئی ٹوٹکا، دوا کا نام یا گھریلو علاج کا مُفت مشورہ مل جائے گا۔ کم ہی لوگ ہوں گے جو کہیں گے، ’’ڈاکٹر کو دکھائیے جناب!‘‘۔ بہت سے لوگ میڈیکل اسٹور پر تکلیف بتا کر بھی میڈیسن لے لیتے ہیں، حالانکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ میڈیکل اسٹور والا ادویہ تجویز کرنے کے لئے کوالیفائیڈ شخص نہیں ہے۔ اس لئے اپنی صحت کی قیمت پر وقت اور پیسہ نہ بچائیں۔اپنا علاج خود کرنے والے لوگوں کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ پچھلی بار ڈاکٹر نے جو دوا لکھی تھی، اب بھی وہی لے کر ٹھیک ہوجائیں گے۔ درحقیقت ایک جیسی علامات والی بیماریاں مختلف ہوسکتی ہیں، اور اُن کے علاج کے لئے کون سی دوا کس وقت استعمال کرنا ہے

، یہ آپ کی میڈیکل ہسٹری کو دیکھ کر صرف ڈاکٹر ہی بتاسکتا ہے۔ بہت سے لوگ ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں سستی اور لاپرواہی بھی کرتے ہیں۔ اشتہارات میں دواؤں، کریموں وغیرہ کے فائدے اتنے مبالغہ آمیز انداز میں بتائے جاتے ہیں کہ بہت سے لوگ اُن پر بھروسہ کرکے ماہر سے مشورہ کیے بغیر ہی خرید کر استعمال کرلیتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ بغیر ڈاکٹری نسخوں کے بھی ہر قسم کی دوائیں باآسانی میڈیکل اسٹور پر مل بھی جاتی ہیں۔ اِس حوالے سے مغرب میں نظام کتنا زبردست ہے کہ میڈیکل اسٹور پر آپ کو اُس وقت تک ادویات نہیں مل سکتی جب تک آپ کے پاس ڈاکٹر کی پرچی موجود نہ ہو۔لوگوں میں صحت اور سیلف میڈیکیشن کے حوالے سے آگاہی بھی نہیں، ساتھ ہی پیسے اور وقت کی کمی، دواؤں کی آسان دستیابی اور دیگر عوامل لوگوں کو خود علاجی کی ترغیب دیتے ہیں۔

بظاہر انہیں اپنے نقصان کا اندازہ نہیں ہوپاتا، مگر ایک وقت آتا ہے جب بے احتیاطی سے استعمال کی جانے والی دواؤں کے اثرات انہیں شدید تکلیف میں مبتلا کردیتے ہیں۔ سیلف میڈیکیشن سے صرف مرض کی علامات کو دور کیا جاسکتا ہے، اُس کی جڑ کو نہیں۔ اپنا علاج خود کرکے عارضی طور پر تو آپ بہتر محسوس کرتے ہیں کیونکہ نظر آنے والی علامات دب جاتی ہیں لیکن مرض آپ کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹتا رہتا ہے اور اچانک ایک خطرناک صورتحال سامنے آجاتی ہے۔فلو ہو یا گلا خراب ہوجائے، لوگ اینٹی بائیوٹِکس کا آزادنہ استعمال کرتے پائے جاتے ہیں لیکن اِس مسلسل غیر ضروری استعمال سے مرض کے جراثیم میں دوا کے خلاف مزاحمت بڑھتی جاتی ہے اور یہ اینٹی بائیوٹِکس بتدریج اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔

اِس کی ایک مثال ٹائیفائیڈ کا جرثومہ ہے۔ عام بیماریوں میں اگر دیر کئے بغیر معالج کے مشورے پر عمل کرلیا جائے تو بہت جلدی ٹھیک ہوجاتی ہیں لیکن اپنی ہی صحت پر اپنی کاریگری دکھانے سے مرض بگڑ جاتا ہے اور بیماری طویل ہوجاتی ہے۔ہومیوپیتھی اور یونانی ادویہ کو کہا جاتا ہے کہ سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہوتے لیکن ان ادویات کو بھی معالج کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔ ہمارے اسپتالوں میں کئی مریض ایسے داخل ہوتے ہیں جن کے جگر، گردے، بون میرو اور دیگر اعضاء غیر مستند حکیمی دواؤں سے شدید متاثر ہوچکے ہوتے ہیں۔ آج کل انسومینیا یا بے خوابی (نیند نہ آنا) بہت عام ہوگئی ہے اور خود علاجی اِس کی بڑی وجہ ہے۔

ڈپریشن کے مریض بغیر ڈاکٹر سے رجوع کئے سکون آور ادویہ خود ہی لے لینے کے اتنے عادی ہوجاتے ہیں کہ اُس کے بغیر رہ نہیں پاتے اور یہ دوا اُن کے لئے ایک طرح کا نشہ بن جاتی ہے۔ بہت سی کریمیں، لوشن بھی بغیر ڈاکٹر کی تجویز کے استعمال کرنا سیلف میڈیکیشن کی ذیل میں آجاتا ہے۔ گھریلو ٹوٹکوں اور بیرونی استعمال والی ادویات جلدی امراض کا باعث بن سکتی ہیں۔ لہذا خود دوا لینا کسی طور مناسب نہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں دواؤں کی خرید و فروخت کے قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں تو خطرناک امراض اور نیند کی دوائیں بھی باآسانی کوئی بھی خرید سکتا ہے، متعلقہ محکمہ کو اِس کے تدارک کے لئے اقدامات کرنا چاہیئے۔ایسا انتظام ہو جس میں ڈاکٹری نسخہ کے بغیر دوائیں فروخت نہ کی جاسکیں۔وہ ادویہ جن کی رجسٹریشن ترقی یافتہ ممالک میں سختی سے کنٹرول کی جاتی ہے،

پاکستان میں بھی کی جانی چاہیئے۔میڈیا اور مختلف ذرائع سے لوگوں میں خود علاجی کے بارے میں آگہی پیدا کی جائے۔اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اشتہارات میں کوئی جھوٹا دعویٰ نہ ہو۔صحت عوام کا بنیادی حق ہے۔ اگر عوام تک طبی سہولیات کی آسان اور سستی رسائی کو یقینی بنا لیا جائے تو خود علاجی میں کمی آسکتی ہے۔ ڈاکٹرز صحت سے متعلق مریضوں میں آگہی پیدا کریں، میڈیکل اسٹور والے لوگوں کو یہ ’’مفت مشورہ‘‘ دیں کہ علاج کے لئے ڈاکٹر سے ہی رجوع کریں۔ سب سے زیادہ ذمہ داری خود ہماری ہے، لہذا اپنی صحت کی فکر سب سے زیادہ ہمیں خود ہی ہونی چاہیے، اِس لئے کبھی بھی مستند ڈاکٹر کے مشورے کے بغیرکوئی بھی دوا ہرگز استعمال نہ کریں۔