اسلام بلاگ معلومات

مذہبی صحائف پر کمزور اعتراضات سے بچنا لازم ہے!

تالمود (یہودی مذھب کی فقہ کی بنیاد) میں ایسے قرض دار کا مسئلہ درج ہے جس کے اثاثوں کی کل قدر اس پر واجب الاداء رقم سے کم ہو تو ہر قرض خواہ کو کس قدر رقم لوٹائی جائے گی۔ فرض کریں تین قرض خواہوں کی میت پر واجب الاداء رقم کی مقدار 100، 200 اور 300 ہے (یعنی کل ملا کر 600)۔ اگر میت کے ترکے کی قدر 100، 200 اور 300 ہو تو تینوں قرض خواہوں کو اس میں سے کتنا کتنا حصہ واپس دینا چاہئے؟ تالمود میں درج جواب کچھ یوں ہے:

الف) اگر ترکے کی قدر 100 ہے تو تینوں کو 1/3 حصہ دیا جائے۔ گویا اس صورت میں سب کو مساوی تقسیم (equal division) کی بنیاد پر حصہ دیا جائے گا (ب) اگر ترکہ 300 ہو تو 100 والے قرض خواہ کو 50، 200 والے کو 100 جبکہ 300 والے کو 150 دیا جائے گا۔ اس تقسیم کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ہر قرض خواہ کو اس کی رقم کی مقدار کے تناسب (proportionate division) کے حساب سے ترکے میں سے رقم ملنی چاہئے۔ یہ اصول بھی اگرچہ معقول ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر 300 والے کیس کو 100 والے کیس سے مختلف اصول پر کیوں کر حل کیا گیا؟ (ج) دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ترکہ 200 ہو تو تالمود کے مطابق 100 والے قرض خواہ کو 50، جبکہ 200 اور 300 والے دونوں کو 75 دئیے جائیں گے۔ یہ تقسیم اول الذکر دونوں اصولوں میں سے کسی پر بھی پوری نہیں اترتی، یعنی نہ یہ مساوی تقسیم پر مبنی ہے اور نہ ہی متناسب تقسیم کے اصول پر۔

تالمود کے اس مسئلے کو لے کر یہودی لٹریچر میں بحث و مباحثے کی ایک روایت ہے کہ آیا تالمود میں موجود اس مسئلے کی بنیاد کیا ہے، بعضوں نے اس خیال کا اظہار بھی کیا کہ کتاب میں اعداد لکھتے ہوئے راویوں سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔ سن 1980 میں دو پروفیسرز نے اپنے مقالے میں ثابت کیا کہ تالمود کے اس مسئلے میں کوئی غیر ھم آھنگی نہیں ہے بلکہ یہ "کل ترکے میں متنازع دعوے کی تقسیم” (equal division of the contested sum) کے اصول پر مبنی ہے۔ جواب کو سمجھنے کے لئے چند سادہ مثالوں پر غور کیجئے۔ فرض کریں دو لوگوں کے مابین 100 پر جھگڑا ہے، زید کہتا ہے کہ اس کا آدھا اس کا ہے جبکہ صہیب کہتا ہے کہ اس میں 2/3 اس کا ہے۔ اس 100 کو ان دونوں میں کیسے تقسیم کیا جائے؟ مساوی تقسیم کے مطابق دونوں کو آدھا آدھا جبکہ متناسب کے مطابق شاید 1/3 اور 2/3۔ لیکن equal division of the contested sum کے مطابق تقسیم یوں ہونی چاہئے:

– پہلے یہ دیکھا جائے کہ دونوں کے مابین متنازع حصے کی مقدار کیا ہے؟ اس کا جواب ہے آدھا (جو کہ سب سے کم حصے کے دعوے دار کے برابر ہے)۔ – اس آدھے کو دونوں کے مابین مساوی تقسیم کردیا جائے گا، یعنی دونوں کو 1/4 دے دیا جائے گا۔ – باقی کا آدھا حصہ غیر متنازع ہے لہذا وہ اسے دیا جائے گا جو 2/3 کا دعوے دار ہے۔ لہذا تالمود کے مطابق تقسیم 1/4 اور 3/4 ہوگی۔

دوسری مثال یہ فرض کریں کہ دو لوگ 100 اور 300 کے دعوے دار ہیں جبکہ کل رقم 125 ہے۔ equal division of the contested sum اصول کے مطابق دونوں کے مابین 100 نزاعی ہے لہذا پہلے انہیں یہ آدھی آدھی (50) دے دی جائے گی۔ باقی کے 25 دوسرے کو دئیے جائیں گے، یوں یہ تقسیم 50 اور 75 بنی۔ اسی طرح اگر کل رقم 200 ہے تو اسی اصول کی رو سے 100 والے دعوے دار کو 50 جبکہ بقایا تمام 300 والے دعوے دار کو دی جائے گی اور تقسیم ہوگی 50 اور 150۔ چنانچہ ان محققین نے ثابت کیا کہ تالمود کے درج بالا مسئلے کے پس پشت یہی اصول کارفرما ہے۔ انہوں نے اس کے لے ایک تفصیلی الگورتھم بھی ترتیب دے کر دکھایا کہ چاہے کتنے ہی قرض خواہ ہوں اور ترکے کی مقدار کچھ بھی ہو، اس کلیے کے تحت انہیں ھم آھنگی کے ساتھ تقسیم کیا جاسکتا ہے (اس ٹیکنیکل تفصیل کا یہ موقع نہیں)۔

مزید پڑھیں: کرونا وائیرس اور اسکا سدباب

غور طلب بات یہ ہے کہ تالمود کا جو مسئلہ ایک عرصے تک نزاعی رہا اور بعض اسے "نقل میں ہیر پھیر” بھی سمجھتے رہے طویل عرصے بعد اس کے پس پشت عقلی اصول دریافت کرلیا گیا۔ دوسری بات یہ کہ الہامی کتب کو تحریف شدہ ثابت کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے، نتیجتا کمزور دلائل پر مبنی استدلال وضع ہوتے ہیں جنہیں کوئی ذھین محقق باآسانی رد کرسکتا ہے۔ ہمارے یہاں دیگر مذاھب کی بعض متناقض معلوم ہونے والی آیات و عبارات پر حرفیت پسندانہ نقد کا رویہ پایا جاتا ہے، یعنی پہلے یہ دیکھنے کے بجائے کہ اس مذھب کے ماھرین و مفسرین خود ان آیات و عبارات کی کیا تفسیر و تاویل کرتے ہیں ان کے خلاف ظاہری عبارت کو دیکھ کر اعتراض وضع کرکے سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے میدان مار لیا۔

ان میں سے بہت سے اعتراضات قریب قریب اتنے ہی کمزور ہوتے ہیں جتنے مثلا ملحدین بعض ظاہری نصوص کی بنا پر قران و حدیث پر کرتے ہیں۔ تیسری بات یہ کہ ہر قانونی نظام کی ایک داخلی ھم آھنگی ہوتی ہے، اسے سمجھے بغیر اس پر ھاتھ ڈالنے کا مطلب کمزور دلیل کھڑی کرنا ہوتا ہے۔ نوٹ: کسی کل رقم کو فریقین کے مابین کس تناسب سے تقسیم کیا جانا چاہئے اس کا تعلق عقل سے نہیں بلکہ معاشرتی روایات وغیرہ سے ہوتا ہے لہذا یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ تالمود کا یہ اصول "غیر منطقی” ہے۔