کالمز

مایوسی در مایوسی

آج کل عجیب سی صورتحال بنی ہے۔ سیاست اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں سے باقاعدہ چڑ ہونے لگی ہے۔ نیوز چینلز لگائیں تو ہر طرف وہی گھسے پٹے سیاسی بیانیہ پر گفتگو ملے گی۔ آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ٹاک شوز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے کیوں بلائے جاتے ہیں؟ لوگ کسی رکن اسمبلی سے اس کی پارٹی کی پریس ریلیز کیوں سنیں؟ وہی دہرائی ہوئی پامال گفتگو۔ ایک دوسرے پر الزامات،اونچا بول کر اپنے آپ کو پارٹی کا زیادہ بڑا وفادار ثابت کرنا۔ ابکائی آنے لگتی ہے۔

نیوز چینلز سے ہٹ کر انٹرٹینمنٹ چینل لگائیں تو ایک سے بڑھ کر ایک فضول، غیر منطقی اور رونے دھونے پر مشتمل ڈرامہ دیکھنے کو ملے گا۔ آخر کسی انٹرٹینمنٹ چینل پر ہلکا پھلکا شگفتہ کہانی والا ڈرامہ کیوں نہیں چلایا جاتا؟ لوگ مزاح کے لئے اتنے ترسے ہوئے ہیں کہ بھانڈوں پر مبنی مخصوص ٹاک شوز بھی دیکھ لیتے ہیں جو سب ایک دوسرے کی بھونڈی نقل ہیں۔ ایک خاصا مشہور انٹرٹینمنٹ شو ہے ، جس کے میزبان مزے کی شگفتہ فلموں اور ڈراموں کے رائٹر ہیں، جن کے مکالموں میں بے ساختگی پائی جاتی ہے۔ اللہ کے بندے نے اپنے ٹی وی شو کے لئے معمولی سی محنت کی کوشش نہیں کی۔کئی برسوں سے ہر شو میں ایک جیسے چند سوال، ایک جیسی سیچوئشن۔ آپ کے پاس ایک لائف جیکٹ ہے، آپ فلاں فلاں فلاں میں سے کس کو دیں گے، آپ گاڑی میں جا رہے ہیں، صرف ایک فرد کو بٹھا سکتے ہیں، فلاں فلاں فلاں میں سے کسے بٹھائیں گے، وغیرہ وغیرہ۔مہمان سیاستدان ہیں تو فلاں فلاں فلاں میں سیاستدان ڈال دئیے، فنکار ہے تو اداکار یا ڈائریکٹر ڈال دئیے، اللہ اللہ خیر صلا۔ میزبان اور پروڈکشن والوں کا فرض ادا ہوگیا۔ اب آپ کو دیکھنا ہے تو دیکھیں، ورنہ جائیں بھاڑ میں۔ ایک دلچسپ بات نوٹ کی کہ چار پانچ سال پہلے بھی اس شو کے مہمانوں کو سائیڈ کے زاویے سے (Profile)دکھایا جاتا تھا، آج تک وہی معاملہ ہے۔ اتنے طویل عرصے میں کسی نے پروڈیوسر یا کیمرہ مین کو نہیں بتایا یا اس نے بھی غور کی زحمت نہیں کی کہ ایک کیمرہ دوسری سائیڈ پر لگا دے، آخر لوگ مہمانوں کو سامنے سے یا دونوں اینگل سے دیکھنا چاہیں گے۔

ایسے برے حالات میں ہم جیسوں کے حصے میں صرف سپورٹس چینل آتے ہیں یا پھر اکا دکا انگریزی فلموں والے چینل ، جہاں پر ہمیشہ فلمیں دہرائی جاتی ہیں، سال میں کوئی سو ڈیڑھ سو دن تو ممی، ممی ریٹرن ہی دیکھنے کو ملے گی۔ سپورٹس چینلز کا یہ حال ہے کہ سرکاری ٹی وی کا سپورٹس چینل نہایت پرانی گھسی ہوئی دھندلی میچوں کی جھلکیاں دکھائے گا ۔میچز پر تبصرے کے لئے شعیب اختر، راشد لطیف جیسے بولڈ کرکٹرز کی خدمات حاصل کرتے ہیں، مگر وائس کوالٹی کبھی کنٹرول نہیں ہوتی، کبھی بہت اونچی، کبھی دھیمی۔ آدمی کو ہاتھ میں ریموٹ لے کر چوکنا بیٹھنا پڑتا ہے ۔
نجی سپورٹس چینل پر ایک نوجوان اینکر ہیں جو اب خیر سے دنیا کے عظیم ترین تجزیہ نگار کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔ تاریخ انسانی میں اتنا زہر کبھی نہیں اگلا گیا، جتنا یہ صاحب اپنے گھنٹے کے پروگرام میں انڈیل دیتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے، آدمی سوچتا ہے کہ اتنا یک رخا، اتنا متعصب پروگرام آخر اتنے تواتر سے کیسے دکھایا جا سکتا ہے؟دلچسپ بات ہے کہ موصوف ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایسے کھلاڑی کو لاتے ہیں جسے کرکٹ بورڈ نے کوئی ملازمت نہیں دے رکھی اور وہ اس کا غصہ ٹی وی پر تند وتیز حملے کر کے نکالتے ہیں۔ عام طور پر کچھ عرصے بعد ایسے کرکٹرز کو کہیں نہ کہیں کسی کھاتے میں بورڈ کھپا دیتا ہے۔ پھر نئی تلاش شروع ہوتی ہے۔ آج کل عاقب جاوید اس دوڑ میں سرفہرست ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ عاقب جاویدنے ہی لاہور قلندر کی طرف سے حارث رﺅف کو دریافت کیا تھا۔ نیوزی لینڈ جانے سے پہلے انہوں نے باقاعدہ بیان دیا کہ حارث رﺅف کو اگر ٹیسٹ میں کھلایا گیا تو یہ اپنی جارحیت سے مخالف ٹیم کو حیران کر دے گا وغیرہ وغیرہ۔ اب نئے چیف سلیکٹر نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ ٹیم کے لئے حارث رﺅف کواسکواڈ میں شامل کر دیا تو یہی عاقب جاوید اس شو میں فرمانے لگے کہ حارث رﺅف ناتجربہ کار ہیں، انہیں ٹیسٹ میں موقعہ نہیں دینا چاہیے ۔اتنا جلدی رائے کیسے تبدیل کی جا سکتی ہے؟ یہی چینل ہے جہاں ہمارے ایک اوسط درجے کے میڈیم فاسٹ باﺅلر برسوں سے مقدر کا سکندر بنے تجزیہ فرماتے اور اپنے دھان پان وجود کے باوجودمخالفوں کے کشتوں کے پشتے لگاتے ہیں۔

صاحبو، روداد طویل ہوگئی ،مگر امید ہے کہ آپ نے ہمدردانہ نظر سے دیکھا ہوگا۔ عرض یہ کرنا تھی کہ ہم جیسوں کے لئے کہیں کوئی جائے اماں نہیں۔ سیاست سے چھٹکارا ممکن نہیں کہ بطور اخبار نویس سیاسی پیش رفت پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔ جیسی سیاست ہو رہی ہے، اس نے شدید بیزار کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی حکمران جماعت ہے، اس کے لئے ہم نرم گوشہ رکھتے تھے۔ پچھلے ڈھائی برسوں میں جو بیڈ گورننس اور بدترین کارکردگی دیکھنے کوملی، اس کے بعد وزیراعظم عمران خان سے کوئی حسن ظن نہیں رہا۔ان کی مردم شناسی خوفناک ، اہلیت بہت مشکوک اور مشاورت کرنے کی صلاحیت سے وہ مکمل بے بہرہ ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی ”مرد دانا“ نے خان صاحب کو ناکام اور نالائق حکمرانوں کے تمام گن اور گر سکھا دئیے ہیں،عمران خان نے اپنے استاد کو شرمندہ ہونے سے بچانے کے لئے وہ تمام خصوصیات بیک وقت اپنے اندر جمع کر لی ہیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ عمران خان حکومت کا دفاع کرنا اب ممکن ہی نہیں رہا۔ ان کے وزرا جیسے بیان دیتے ہیں ان کا کوئی جواز نہیں، دلیل اور منطق ان کو چھو کر نہیں گزری۔ جھوٹ در جھوٹ بولا جا رہا ۔اگلے روز بجلی مہنگا کرتے ہوئے وزیربجلی جو بے سروپا بیان جاری کر رہے تھے، اسے دیکھ کو سخت کوفت ہوئی۔ بے اختیار جی کیا کہ کوئی انہیں خاموش کرا دے۔ اپنی نااہلی، مس مینجمنٹ اور نکمے پن کی تمام تر ذمہ داری پچھلی حکومت پر ڈال کر کیا کوئی بچ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ لوگوں کو کچھ کہے سنے بغیر ہی اندازہ ہوجاتا ہے۔ جب بجلی ، گیس مہنگی، آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، انڈے بے تہاشا مہنگے ہوں گے تو رائے قائم کرنا کیا مشکل ہے؟

ایک طرف عمران خان کی یہ کارکردگی ہے تو دوسری طرف تاریخ کی نالائق ترین اپوزیشن سے واسطہ پڑا ہے۔ پیپلزپارٹی کے نوجوان قائد کی ہمت اور دیدہ دلیری پر رشک آتا ہے کہ وہ کس طرح اپنی صوبائی حکومت کی بدترین کارکردگی کے بعد بھی وفاقی حکومت پر تنقید کر سکتے ہیں؟ بطور پارٹی لیڈر انہوں نے اپنے صوبے میں اب تک کیا کیا؟ کچھ بھی نہیں۔ کوئی ان سے سوال کرے کہ آکسفورڈ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی صوبائی حکومت میں کہاں پر اسے اپلائی کیاتو جواب نہیں ملے گا۔ آصفہ بی بی جنہیں اب لانچ کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ ان سے بھی یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ بیٹا آپ سیاست ضرور کرو، مگر پہلے اپنے صوبے میں ،جہاں آپ کی تیرہ چودہ برس سے حکومت ہے، وہاں تھوڑا بہت تو فرق ڈالو، کچھ تو کر کے دکھاﺅ۔آصفہ نے ایک بھی ایسا کام نہیں کیا، جس کے بعد ان سے کوئی امید وابستہ کی جائے ۔

مسلم لیگ ن کا بھی یہی حال ہے۔ انہوں نے جو غلطیاں اور بلنڈر کئے، انہیں بھلا کر وہ یوں معصوم صورت بنائے نظر آتے ہیں جیسے ابھی مقدس پانی سے نہا کر آئے ہوں۔ ماڈل ٹاﺅن جیسے سانحہ کے بعد بھی مسلم لیگی لیڈروں میں اتنی ہمت ہے کہ وہ سر اٹھا کر حکومت پر تنقید کر سکیں؟ افسوس کہ اس سانحہ کے سب سے بڑے ذمہ دار اپنی مونچھوں پر تاﺅ دئیے بڑھ چڑھ کر بولتے ہیں۔ مریم نواز شریف جو اپنی حکومت اور پارٹی کی تباہی کی ذمہ دار ہیں، وہ اپنی کسی غلطی کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ میاں نواز شریف جنہوں نے اپنے سیاسی کیرئر میں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد لی، اپنے مخالفوں کو اسی قوت سے پچھاڑا، اب اچانک ہی انہوں نے خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ قرار دے دیا۔ جیسے کوئی کلاکار شو کے بعد چہرے سے ماسک اتار کر پھینک دے۔عوام کا حافظہ کمزور سہی، مگر اتنا بھی نہیں کہ سپریم کورٹ پر حملہ بھول جائیں، ماڈل ٹاﺅن بھول جائیں، بے نظیر بھٹو کے خلاف کردار کشی کی مہم نظرانداز کر ڈالیں۔ مولانا فضل الرحمن کے خلاف ایک لفظ بھی لکھا جائے تو انکے حامیوں کو تکلیف ہوتی ہے، وہ چیخ پکار پر اتر آتے ہیں۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ مولانا کی سیاست محض انتقامی ہے اور اس کا کوئی اخلاقی ، سیاسی جواز نہیں۔ سیاسی کارکنوں کو ساتھ لے کر یلغار کرنے سے اگر کوئی حکومت ختم ہوجائے تو پھر یہ سمجھ لیں کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ لانگ مارچ، دھرنے کی غلطی عمران خان نے بھی کی، انہیں ناکامی ہوئی اور شرمندگی اٹھانا پڑی۔ اب اپوزیشن والے ایسا کیوں کرنا چاہ رہے ہیں؟ ویسے بھی عمران خان کو اپنی مدت مکمل کرنی چاہیے تاکہ اس کے بچے کچھے حامیوں کی بھی آنکھیں کھل جائیں۔ پانچ سال مکمل کرنے کے بعد ان کی سیاسی ناکامی کا احتساب کرناممکن ہوگا۔ افسوس کہ جوش انتقام میں یہ بات مولانا اور ان کے اتحادیوں کو سمجھ نہیں آ رہی۔