معلومات

مریخ اور ہماری امیدیں

مریخ ہماری توجہ کا مرکز اس لئے بنا ہوا ہے کیونکہ اس میں بہت سارے راز چھپے ہوئے ہیں تب ہی تو ہم اس کوشش میں ہیں کہ اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرے کہ مریخ اپنے اندر کیا کیا راز چھپائے ہوئی ہے۔مریخ ہماری نظام شمسی کا چوتا سیارہ ہے اور یہ عطارد کے بعد دوسرا چھوٹا سیارہ بھی ہے۔ اسکا سورج سے فاصلہ دوسو تیس میلین کلومیٹر ہے ہے۔ اس سیارے پر ائرن اکسائڈ زیادہ مقدار میں موجود ہے اسلئے یہ سیارا سرخ رنگ کا دکھائی دیتا ہے اسی وجہ سے مریخ کا ایک اور نام بھی ہے جسے سرخ سیارا یا ریڈ پلینیٹ کہتے ہیں۔

اس سیارے کا ڈایا میٹر زمین سے لگ بھگ آدھا ہے لکن اگر ہم اس سیارے کی سرفس ایریا کی بات کرے تو یہ زمین کی ڈرائی سرفس ایریا کے لگ بھگ برابر ہے۔ بلکل زمین کی طرح ہی اس سیارے کا مرکز بھی ڈینس میٹالک کا بنا ہوا ہے جسکا ریڈیس لگ بھگ سترہ سو کلو میٹر ہے۔ اس سیارے میں اکسیجن نا کے برابر ہے اور مانا جاتا ہے کہ آج سے کروڑوں اربو سال پہلے مریخ سیارے پر زندگی رہی ہوگی لیکن دھیرے دھیرے کلائمیٹ چینج کی وجہ سے اس سیارے سے زندگی ختم ہوتی گئی۔ ایک خیال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ آج سے چار بیلین سال پہلے مریخ سیارے کا میگنیٹو سپیر اچانک سے غائب ہوگیا جسکی وجہ سے سورج کی خطرناک شعاعیں اس کے اٹماسپیر میں گھس گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ زندگی اس سیارے سے ختم ہوگئی تو یہاں پر ایک سوال یہ اٹھا کہ میگنیٹو سپیر اچانک کیسے غائب ہوگیا؟

اس کے پیچے وجہ یہ بتائی گئی کہ پلوٹو کی سائز کا ایک سیارہ اس سیارے سے ٹکرایا ہوگا اور اسی بھیانک ٹکر سے اس سیارے کا میگنیٹو سپیر غائب ہوگیا ہوگا اور اس کی وجہ سے اس سیارے کا اٹموسپیر اور ایکو سسٹم خلاء میں اڑ گیا۔ اس کے ثبوت ہمیں مارس گلوبل سروییر اور مارس ایکسپریس سے ملے جنہوں نے مریخ سیارے کی اٹماسپیر سے خلاء کی طرف جارہے آیونائزڈ پارٹیلز کو ڈیٹیکٹ کیا لکن باوجود اسکے بھی اس سیارے کے پاس ایک بہت ہی پتلی فضاء ہے جو زمین کے مقابلے میں صرف ایک فی صد ہے۔

مریخ سیارے پر کشش ثقل زمین کے مقابلے میں صرف اڑتھیس فی صد ہے اس وجہ سے مریخ کی فضاء زمین کی نسبت زیادہ انچائی تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ سیارہ اپنے محور پہ پچیس ڈکری تک جھکی ہوئی ہے جو زمین کے قریب قریب برابر ہے اور یہی وجہ ہے کہ پوری نظام شمسی میں مریخ ہی وہ واحد سیارہ ہے جہاں زمین کی طرح ہی موسم بنتے ہیں لکن یہ موسم زمین کے مقابلے دگنے بڑے ہوتے ہیں کیونکہ سورج سے زیادہ دوری کی وجہ سے یہاں ایک سال چھے سو ستاسی 687 دنوں کا ہوتا ہے۔ یہاں پر سورج کی روشنی زمین کی نسبت کم پڑھتی ہے۔

مریخ سیارے سے سورج بہت ہی چھوٹا دکھائی دیتا ہے اور اسی دوری کے چلتے یہ بہت ہی سرد ہے۔ یہاں کا ایوریج درجہ حرارت منفی پینتالیس تک رہتا ہے۔ یہ سیارہ جب گردش کرتے وقت سورج کے قریب سے گزرتا ہے تو یہاں بڑے بڑے طوفان بننے لگتے ہیں جو بہت زیادہ طاقتور ہوتے ہیں اور یہ پوری نظام شمسی کا سب سے بڑا ڈسٹ کا طوفان مانا جاتا ہے لکن یہاں پر اس سیارے میں زندگی کی تلاش کیلئے اس طوفان کو زیادہ اہم نہیں مانا جاتا۔ یہاں پر ایک سوال ہر کسی کے زہن میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہاں پر پانی موجود ہے ؟

اگر اس سیارے کی بناوٹ کو دیکھا جائے تو یہاں پانی مائع حالت میں موجود نہیں ہے لکن ہاں کچھ ایسا ہوسکتا ہے کہ کچھ وقت کیلئے پانی کو مائع حالت میں رکھا جائے کیونکہ جب تک اس سیارے کا درجہ حرارت گرم نہیں ہوتا تب تک پانی کا مائع حالت میں ہونا لگ بھگ ناممکن ہے۔ اس سیارے پر برف کی جمی ہوئی سطح موجود ہے جس کے بارے میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس کے نیچے پانی موجود ہوسکتا ہے اور اسکی مقدار اتنی زیادہ ہوسکتی ہے کہ اس سے مریخ سیارہ چتیس فٹ پانی کی گہرائی میں ڈوب سکتا ہے۔ فلکیات دانوں کا خیال ہے کہ مریخ پر موجود میدانوں میں کھبی سینکڑوں میٹر گہرا سمندر ہوا کرتا تھا۔ حال ہی میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ پانی اس سیارے کی سطح کے نیچے بھی موجود ہوسکتا ہے جو کیوریوسٹی رو ورز کی پہنچ سے دور ہو اس کیلئے ایک انسایڈ نامی مشین کو اس سیارے پر اتارنے کی تیاریا کی جارہی ہے جو اس سیارے کی گہرائیوں میں جاکر کھوج کریں گا۔

مریخ پر ایک ایسی کھاٹی بھی موجود ہے جو چار ہزار کلومیٹر چوڑی اور سات سو کلومیٹر لمبی اور سات کلو میٹر گہری ہے جو سائنسدانوں کیلئے حیرت کا باعث بنی ہوئی ہے اسکو ہم ویلس میرینریس کی نام سے جانتے ہیں اور خیال یہ کیا جاتا ہے کہ کسی بڑے شہابیے کے ٹکر سے یہ گھاٹی وجود میں آئی ہوگی۔ مریخ سیارے پر ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا جوالا مکی بھی ہے جسے اولمپس کہتے ہیں جسکی انچائی تقریبا پچیس کلو میٹر ہے جو کہ چھ سو کلو میٹر کی ایک بڑے دائرے میں پھیلا ہوا ہے۔ اسکی انچائی زمین کی سب سے انچے پہاڑ ماونٹ ایوریسٹ سے تین گناہ زیادہ ہے۔ یہ جوالا مکی ابھی اکٹیوں نہیں ہے لکن کیا مریخ پر اکٹیوں جوالا مکی بھی موجود ہے؟مریخ سیارے پر ایسی علاقے بھی دیکھی گئئ ہے جہاں پر کچھ ایسے نشانات موجود ہیں جیسے کسی ندی نے وہاں راستہ بنایا ہو جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں کہ شاید ہم یہ غلط فیصلہ لے رہیں ہے کہ مریخ پر کھبی پانی ہی نہیں تھا۔

1970 کے وقتوں میں وائکنگ ون نے سب سے پہلے اس سیارے پر زندگی کے ہونے پیشن گوئی کی تھی۔ وائخنگ ون نے اس سیارے پر کچھ تجربات کئے تھے اور کچھ خوردبینی جاندار ہونے کی پیشن گوئی کی تھی لکن بعد میں ایک بحث میں یہ بتایا گیا کہ وائکنگ ون کے تجربات ٹھیک طرح سے نہیں ہوئے تھے اور یہ کہہ کر اسکو رد کردیا گیا۔لکن وائکنگ ون نے سائنسدانوں کو ایک نئی امید دی تھی اور بعد میں سائنسدانوں نے بہت سارے مشن اس سیارے پر بھیجے اور ان سے موصول ہوئے ڈیٹا سے یہ پتا چلا کہ ماضی میں اس سیارے پر رہنے کیلئے بہت ہی بہترین موحول تھا۔

2003 میں مارس ایکسپریس نے مریخ سیارے پر بھاری مقدار میں میتھین گیس کے ہونے کے ثبوت پیش کئے تھے اور اس گیس کا ملنا اس سیارے پر ایک بڑی کامیابی تھی کہ یہاں پر مائکرو سکوپک لائف ہوسکتی ہے کیونکہ اس گیس کا زندگی کیلئے ہونا لازم ہے اسلئے کچھ لوگ آج بھی یہ مانتے ہیں کہ اس سیارے پر آج بھی زندگی ہے۔ لکن بعد میں یہ بتایا گیا کہ اس گیس کا بننا اس سیارے کے انٹرنل پراسیس سے بھی ممکن ہوسکتا ہے یا اس سیارے پر سپیس ڈسٹ پر الٹرا وائلٹ ریڈی ایشن کا پڑنا بھی اس گیس کے بننے کا سبب ہوسکتی ہے۔

اس سیارے کے دو چاند ہے ایک کا نام پھوبوس ہے جسکا ڈایا میٹر لگ بھگ بایس کلو میٹر ہے اور دوسرا ڈیموس ہے جو بارا کلو میٹر کا حامل ہے۔ یہ دونوں چاند بہت ہی قریب سے مریخ کا چکر لگاتے ہیں۔ پھوبوس گیارہ گھنٹے میں مریخ کا چکر لگاتا ہے اور ڈیموس تیس گھنٹے میں اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ پھوبوس لگاتار مریخ سیارے کے نزدیک ہوتا جارہا ہے اور کروڑوں سال بعد یہ مریخ سے ٹکرا جائے گا اور اسکے بھکرے ہوئے ٹکڑے مریخ سیارے کے گرد ایک رنگ بنا لے گے اس وقت مریخ سیارے کی خوبصورتی دیکھنے لائق ہوگی۔مریخ سیارے پر ابھی تک چالیس پچاس سے بھی زیادہ میشنز بھیجے گئے ہیں جن میں اربٹر اور لینڈرز سمیت رو ورز بھی شامل ہیں لکن ان تمام میں سے صرف سولا یا اس سے کچھ زیادہ میشنز ہی کامیاب رہیں ہیں۔۔ زندگی مریخ سے زمین پر آئی بہت سے لوگ اس بات کو بھی مانتے ہیں کیونکہ ہمیں زمین پر کچھ ایسے ٹکڑے ملے ہیں جو مریخ سیارے کے ہیں۔

مریخ سیارے پر بسنے کیلئے پوری دنیا بے چین ہے اور مستقبل قریب میں اس سیارے پر انسانوں کو بھیجنے کی تیاریاں کی جارہی ہے اور 2030 تک سپیس ایکس اور ناسا یہ کارنامہ کرسکتے ہیں جس سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مستقبل میں مریخ پر زندگی کی کھوج اس طرح سے ہی جاری رہے گی کیونکہ ہماری سوچ، تجسس اور خواہشات کی کوئی حد نہیں۔۔۔۔