بلاگ

مردوں کا نفسیاتی جنسی استحصال

Mardon-ka-jinsi-ahtisaal

یہ جملہ پڑھتے ہوئے ہی بڑا عجیب لگتا ہے کہ بھلا مردوں کا جنسی استحصال کیسے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ ہمارا معاشرہ جس میں مردانگی کا عنصر پوری طرح سے حاوی ہو وہاں مردوں کے ساتھ جنسی استحصال کیسے ممکن ہے؟ میں نے "مردانگی کا عنصر” لفظ اِس لیے استعمال کیا کیونکہ ہمارے ہاں مرد کو کچھ بھی کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن عورت کیلئے کافی لیمٹیشن اور حدود بنا دی گئی ہیں، میں اِس بحث میں زیادہ نہیں جاؤں گا، آپ ماشاء اللہ خود بہت سمجھدار ہیں۔مردوں کے جنسی استحصال کچھ یوں ہوتے ہیں۔۔۔!

1۔ جذبات کا اظہار: ہمارے ہاں جب کوئی لڑکا، خواہ وہ چھوٹا بچہ ہو یا بڑا ہو اگر وہ رو کر اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہے تو اُسے یہ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ، "تم تو لڑکیوں کی طرح رو رہے، ایسے تو لڑکیاں کرتی ہیں” وغیرہ وغیرہ۔ اور اُس کے ساتھ ایسا رویہ رکھا جاتا ہے کہ نہ تو وہ اپنی بات کہہ پاتا ہے اور نہ اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کر سکتا ہے۔

2۔ جنسی بدفعلی: ہمارے ہاں اگر خدانخواستہ کسی لڑکے کے ساتھ کسی قسم کی جنسی بدفعلی کا واقعہ ہو جائے تو ماں باپ اُسے دبانے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ پولیس رپورٹ تک نہیں کرواتے کہ اِس سے شرمندگی ہوگی، لوگ کیا کہیں گے۔ قصور میں 250 لڑکوں کے ساتھ جنسی بدفعلی کا بڑا واقعہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ اگر میڈیا یا دوسرے لوگ اِس بات کو سامنے نہ لاتے تو اُن متاثر لڑکوں کے ماں باپ اپنے ساتھ ہوئے ظلم کو کبھی سامنے نہ لا پاتے۔

3۔ بے وفائی: ایک عام خیال جو ہماری سوسائٹی کی خواتین میں پایا جاتا ہے وہ ہے مرد کی بے وفائی۔ آپ کو ہر دوسری عورت اپنے مرد کی بے وفائی کے شکوئے کرتی نظر آئے گی، گویا کہ مرد ہونا ہی بے وفائی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ میں یہاں پر صرف شادی شدہ مردوں کا ذکر کر رہا ہوں، اگر وہ ایک شادی کے بعد دوسری شادی کا سوچتے ہیں تو بھئی اسلام نے مرد کو 4 شادیوں کی اجازت دی ہے، ایسے میں ہماری خواتین اِسے بے وفائی کہیں تو یہ اُن کی اسلام اور شریعت سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اور سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اگر مرد اپنی بیوی سے پیار کرے تو ہمارا معاشرہ اُسے "رن مرید” کہتا ہے اور اگر وہ دوسری شادی کا سوچے تو اُسے "بے وفائی” کا ٹیگ دیا جاتا ہے۔

4۔ دوغلا پن: ہمارے ہاں اگر کوئی لڑکی کم پڑھی لکھی ہو اور اُسے گھر داری میں بھی کوئی خاص مہارت نہ ہو تو بھی اُسکی شادی کی بات چل پڑتی ہے۔ لیکن اگر کوئی لڑکا بھلے ہی اُسکی شادی کی عمر ہو جائے لیکن وہ کماتا نہ ہو، اُسکے پاس کوئی ہنر نہ ہو تو اُسکے ماں باپ اُسے یہی طعنے دیتے نظر آتے ہیں کہ، "تجھ جیسے نکمے کو کوئی اپنی بیٹی کیوں دے گا، جو اپنا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا وہ کسی دوسرے کی کیا فکر کرے گا” وغیرہ وغیرہ۔ معاشرے کا یہ دوغلا پن بھی مردوں کے جنسی استحصال میں بہت کردار ادا کرتا ہے، اور وہ کہیں نہ کہیں احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

5۔ عدم مساوات: چاہے جانے انجانے میں ہی سہی لیکن اب ہمارے ہاں مردوں اور عورتوں کیساتھ ایک ہی ڈیپارٹمنٹ میں الگ الگ سلوک کیا جاتا ہے، آپ کسی بس اسٹینڈ میں چلے جائیں وہاں خواتین کیلئے تو ایک مکمل انتظار گاہ بنائی جاتی ہے، لیکن مرد بیچاروں کیلئے کوئی خاص جگہ مختص نہیں کی جاتی۔ آپ بینک میں بل جمع کروانے جاؤ تو وہاں خواتین کو تو اندر جا کر بل جمع کروانے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن مرد بیچارے باہر تپتی دھوپ میں یا سخت سردی میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اِسی طرح متعدد جگہوں پر سکیورٹی گارڈز خواتین کی تو تلاشی نہیں لیتے لیکن مردوں کی جامع تلاشی کی جاتی ہے، اور اِس طرح کی دیگر عدم مساوات کی بے شمار نشانیاں ہمارے ہاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔

6۔ غیر محفوظ: ایک مرد کو دوسری عورتوں کیلئے ہمیشہ ہی غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جب کوئی اکیلی لڑکی کہیں جانے لگے تو اُسے یہی کہا جاتا ہے کہ "لڑکوں سے بچ کے رہنا” اور مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ اکثر یہ نصیحت ایک مرد ہی اپنی بیٹی، بہن یا بیوی کو دے رہا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں پر قابل غور بات یہ ہے کہ جب تک لڑکی ریسپونس نہ دے کسی لڑکے کی ہمت نہیں ہے کہ وہ اُسے چھیڑ جائے، لیکن عموماً لڑکیاں پہلی بار مذاق میں مسکراتی ہیں اور جب لڑکا سنجیدہ ہو جاتا ہے تو پھر بچتی اور ڈرتی پھرتی ہیں۔

پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، میں یہاں پر قطعاً قطعاً مردوں کو کلین چِٹ نہیں دے رہا کہ وہ بالکل دودھ کے دھلے، فرشتہ صفت انسان ہوتے ہیں، لیکن ضروری نہیں ہے کہ سب ایک جیسے ہوں۔ میرا بات کرنے کا مقصد تھا کہ معاشرے میں مرد و زن کے بیچ ایک توازن برقرار ہونا چاہیے۔ اگر مرد کماتا ہے تو عورت کو بھی کمانے کا پورا پورا حق ہونا چاہیے۔ اور اگر عورت کے کچھ رومانوی جذبات ہوتے ہیں تو مرد کے جذبات کی قدر کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔