بلاگ

مردم شناسی

مردم شناسی بہت ہی مشکل کام ہے۔ عموماً اساتذہ، پولیس والے اور عدلیہ کے ارکان اس علم میں مہارت حاصل کرلیتے ہیں۔ میرے والد مرحوم تقریباً 40سال ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر رہے اور انگریز کے دور میں CPمیں مختلف شہروں میں تعینات رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس علم میں مہارت دی تھی۔ ہمارا ایک دوست عبدالرزّاق بہت چالاک یا عیار تھا۔ میٹرک کر کے وہ پٹواری بن گیا اور تعیناتی کے فوراً بعد میرے والد کے پاس آیا اور خوشخبری سنائی۔ انہوں نے مُبارکباد دی اور کہا کہ تو ہیرا پھیری کرے گا تو یاد رکھ جیل جائے گا۔ میں پاکستان آگیا۔ 1961میں جرمنی جانے سے پیشتر میں بھوپال گیا تو عبدالرزّاق سے ملا۔ اس نے کہا کہ اس پیشہ میں رشوت لینے کے بڑے مواقع ہیں لیکن جب بھی میں غلط کام کرنے کا سوچتا ہوں تو اَبّا کا چہرہ سامنے آجاتا ہے اور مجھے ان کی تنبیہ یاد آجاتی ہے اور میں فوراً غلط کام کرنے کا ارادہ ترک کردیتا ہوں۔ اللہ پاک کا شکر ہے کہ حلال کی کمائی میں بہت برکت ہے، ہم آرام سے رہ رہے ہیں اور ہم بہت مطمئن اور اللہ کے شکر گزار ہیں۔

مختلف ممالک کے دانشوروں نے مردم شناسی کے بارے میں اپنی آراء سے آگاہ کیا ہے مگر ہمارے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نہایت مفید طریقہ کار کسی انسان کے کردار کے بارے میں بیان کیا ہے کہ کسی شخص کو زیادہ مال و دولت اور زیادہ اختیار دے کر دیکھو تمہیں چند دن میں اس کے کردار کے بارے میں پورا علم ہوجائے گا۔ آپؓ نے مزید فرمایا کہ کسی شخص کے ساتھ چند دن سفر کرکے دیکھو تمہیں اس کے کردار اور عادات سے پوری واقفیت ہوجائے گی۔ میں نے شروع میں عرض کیا ہے کہ اساتذہ، پولیس والے اور عدلیہ بہت جلد کسی بھی شخص کے بارے میں جان جاتے ہیں اگر عدلیہ کو قانون شہادت کا پابند نہ کیا جائے اور ان کو اپنی چھٹی حس کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی جائے تو لاتعداد مقدمے بہت جلد اور منصفانہ طریقہ سے ختم ہو سکتے ہیں۔ ہم نے خود ہی اپنے ہاتھ پیر باندھ لئے ہیں۔

ہمارے مشہور فلسفی اور دینی اسکالر مولانا جلال الدین رومیؒ نے اپنی مشہور مثنوی میں لوگوں کو جانچنے کا طریقہ کار بتلایا ہے آئیے دیکھئے وہ کیا فرماتے ہیں۔ ’’صاحب کمال اور عوام کی جانب سے کمال کے مدعی کےغلط دعوے کے پہچاننے کے بارے میں اشارہ عمل کے ذریعہ جھوٹا سچا ثابت ہو جاتا ہے۔ بدذاتی، کاہلی، حرص، لالچ کو مکر سے چھپایا نہیں جاسکتا۔ نقلی پروں سے آسمان پر اڑا نہیں جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ اگرچہ مخلوق سے قریب ہے لیکن اس کا خصوصیت والا قرب اولیاء کے ساتھ ہے۔ بزرگ لوگ اللہ سے عشق کی باتوں کا قرب رکھتے ہیں۔ قرب کی قسمیں ہیں ایک ہی درخت کی تر اور خشک شاخ پر سورج کے قرب کا اثر مختلف ہوگا۔ ایسے مست بنو کہ ہوش میں آئو تو شرمندگی نہ اٹھائو۔ مست وہ ہے جو عالم ملکوت اور عالم ناسوت دونوں میں مست ہو، فنا فی اللہ وہ ہے جو موت سے نہ گھبرائے۔

تو اپنے آپ کو سالکان راہ حق سے کمتر سمجھ۔ تو ڈاکوئوں کا ساتھی ہے، گھاس نہ کھا (فضول بات نہ کر) مکاری چھوڑ، عقل کی جانب دوڑ۔ نقلی پروں سے آسمان پر کب اڑ سکتے ہیں۔ تو نے اپنے آپ کو خدا کا عاشق بنایا ہے لیکن دوستی کالے شیطان سے کی ہے۔ (تو جان لے کہ) قیامت میں عاشق اور معشوق کو (اکٹھا باندھ کر فوراً پیش کریں گے) تو نے اپنے آپ کو (نشہ میں) دیوانہ اور مدہوش کیا ہے۔ یہ انگور کا خون (شراب) نہ پی بلکہ تو نے ہمارا خون پیا ہے۔ تو کہتا ہے کہ جا میں تجھے نہیں جانتا میرے پاس سے بھاگ۔ میں عارف باللہ ہوں۔ مدہوش ہوں اور اس گائوں کا بہلولؒ ہوں، تو اللہ تعالیٰ کے قرب کا گمان کرتا ہے کہ طبق(خلقت) بنانے والا طبق(خلقت) سے دور نہیں ہوتا۔ تو یہ نہیں دیکھتا کہ اولیاء کے قرب میں سینکڑوں کرامتیں اور شان و شوکت ہوتی ہے۔ حضرت دائود علیہ السلام کی مثال لے کہ ان کے ہاتھ سے لوہا (سخت دل) موم ہو جاتا ہے۔ تیرے ہاتھوں میں یہی لوہا کبھی موم ہوا ہے؟ (پھر دیکھ کہ) اللہ کا قرب اور رزق سب کے لئے عام ہے لیکن یہ بزرگ لوگ تو اللہ سے عشق کی باتوں کا قرب رکھتے ہیں۔ (محض مخلوقیت کا نہیں)۔

اے باپ! قرب کی قسمیں ہوتی ہیں۔ (مثلاً) سورج (پتھر) پہاڑ پر بھی چمکتا ہے اور سونے پر بھی لیکن سونے کے ساتھ سورج کا وہ قرب ہے کہ (دوسری مخلوق) جیسے بید کے درخت کو اس کی خبر بھی نہیں ہے۔ (پھر ایک ہی درخت میں) تر اور خشک شاخیں دونوں سورج سے یکساں قریب ہیں۔ سورج دونوں سے کب حجاب رکھتا ہے۔ لیکن کہاں وہ تر شاخ کی قربت کہ تو اس کے پکے پھل کھاتا ہے اور کہاں اس آفتاب کی قربت کہ خشک شاخ کو اس سے بھی زیادہ خشک ہونے کے علاوہ اور کیا ملتا ہے۔ خود ہی دیکھ کہ سورج کے قرب سے اس خشک شاخ نے سوائے خشکی کے اور کوئی چیز حاصل نہیں کی۔

اے بے عقل! تو ایسا مست نہ بن کہ ہوش میں آئے تو شرمندگی اٹھائے بلکہ تو ان مستوں میں سے بن کہ جب وہ شراب (شوق) پیتے ہیں تو پختہ عقلیں (ان کے ہوش پر) حسرت کرتی ہیں۔ اے وہ کہ جس نے بلی کی طرح بوڑھا چوہا (دنیوی ناقص دولت) پکڑا ہے۔ اگر تو اس شراب سے شیر (ذات حق) پکڑتا ہے تو شیر (مرد حق) پکڑ۔ اے وہ کہ جس نے جام حقیقت کے تصور تک سے کچھ نہ پیا۔ تو حقائق کے مستوں کی طرح مت اکڑ۔ تو مستوں کی طرح ادھر (عالم ملکوت) اور ادھر (عالم ناسوت) کی مستی دکھاتا ہے۔ جب تو ادھر (عالم ناسوت) میں نہیں ہے تو ادھر (عالم ملکوت) کی طرف تیرا گزر کیسے ہو سکتا ہے۔

اگر اس کے بعد تو اس (عالم ملکوت) کی جانب راہ پائے تب بھی پھر کبھی اِدھر کو کبھی اُدھر کو سر جھٹک (کہ واقعی مست ہے) جب تُو کُلی طور پر اس (دنیا کی) جانب کا ہے۔ تو اس جانب کی گپ نہ مار۔ جیسے (کہ تجھ پر) موت کا وقت نہیں ہے۔ تو خواہ مخواہ اپنے اوپر نزع طاری نہ کر۔ وہ خضر علیہ السلام کی جان والا (فنا فی اللہ) جو موت سے نہ گھبرائے۔ اگر وہ مخلوق کو نہ پہچانے تو اس کے لئے مناسب ہے تو اپنے ذوق و شوق کے وہم میں اپنے خلق کو (ہائو ہو سے) پر کررہا ہے۔ یہ جان لے کہ تو ایک سوئی (آزمائش) سے ہوا (اکڑ) سے خالی ہوجائے گا۔ اے کمزور بدن والے! اس طرح موٹا نہ بن۔ (تیری مثال ایسی ہے کہ) تو جاڑوں میں برس سے (وہم کے) پیالے بناتا ہے۔ جب وہ پیالہ گرمی (شمس حقیقت) دیکھے گا تو وفاداری کب کرے گا (اصلیت کھل جائے گی)‘‘۔ بشکریہ اسکواڈرن لیڈر (ر) ولی الدین صاحب، مصنف سُبک سیل یعنی مثنوی مولویِ معنوی (مثنوی رومؒ)