بلاگ

مرد سرہانے کا سانپ ہے تو عورت کیا ہے – الماس چیمہ

تیرا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے…کلاس میں بھی کھویا کھویا سا تھا…
احمد نے سموسہ کھاتے ہوے علی کو کہنی ماری جو چپس کی پلیٹ سامنے رکھے نہ جانے کن سوچوں میں گم تھا..
کچھ نی یار کل کلاس میں دو لڑکیوں کی گفتگو سنی مردوں کے بارے میں بہت برے تاثرات تھے..انکا ایک فقرہ مسلسل میرگ زیہن میں گھوم رہا ‘مرد سرہانے کا سانپ ہوتا ہے کبھی اعتبار نہ کرنا’
تو یار یہ انکا مسلہ تجھے کیا پریشانی ہے..
مجھے کیا پریشانی ہو گی لیکن دکھ بہت ہوا اُن کی باتیں سن کر….
یہ عورتیں ایک مرد سے دھوکہ وصول کرنے اُس سے بے وفائی کا تیر کھانے کے بعد سب مردوں کو ہی اُس کیٹیگری میں کیوں لا کھڑا کرتی ہیں..
علی کے لہجے میں بے بسی تھی..
احمد بھی سیریس ہوا تھا
عورت کے پیدا ہونے سے لے کر اس کے کانوں میں آذان دینے سے لے کر تدفین تک مرد کرتا ہے باپ کا دست شفقت اسے زمانے کی دوڑ دھوپ سے بچاتا ہے بھائی محافظ بنتے ہیں یہ ہی مرد شوہر کے روپ میں مزاجی خدا ہے یہ ہی مرد بیٹا بن کر عورت کے قدموں کی خاک میں جنت ڈھونڈتا ہے پھر یہ مرد سرہانے کا سانپ کیسے ہوا…
علی نے اس کی بات کو سراہا واہ یار تو بھی ایسی باتیں کر لیتا آج پتہ چلا ہے..
چلو چل تو گیا ہے نہ احمد نے ہنستے ہوے کہا..
یار شاید یہ بات غیر محرم کے بارے میں کہی گئی ہو کئی لڑکیاں برباد ہو جاتی کچھ تو شادی کے بعد محرم کی مار پیٹ سیہہ کر اسے پھر سے غیر محرم بنا دیتی…شاید یہ ہی رشتہ ہو…
علی نے الگ پوائینٹ کا سوچا تھا …
اگر ایسا ہے تو پھر عورتوں کو ایسے سرہانوں کے سانپوں سے بچ کر رہنا چاہیے..
احمد کی سوچ بھی کافی پختہ لگ رہی تھی..
ہماری کلاس میں ہی دیکھ لو کتنے افیر چل رہے…
شادی سے پہلے شادی والے معاملات ہو رہے تو لڑکوں کو کیا ضرورت ہے لاکھوں خرچ کر کے بیوی کے خرچے اٹھانے کی..
میرا تو خون کھولتا یہ سب دیکھ کر کاش میں سب لڑکیوں کس سمجھا سکتا اور وہ مستقبل میں ایسے فقرے بولنے سے بچ جاتی کہ مرد سرہانے کا سانپ ہوتا ہے..
علی نے ایک ہاتھ کا مکا بنا کر ٹیبل پر مارا تھا..
ایک بات مجھے سمجھ نی آتی ہر بار لڑکیوں کو ہی کیوں سمجھائیں سارا الزام ان پے ہی کیوں لڑکے کیوں نہیں سمجھ جاتے…
شاید اس لیے کہ یہ مردوں می فطرت ہے گوشت کھلا ہونے پے کتے بلے تو نوچیں گے ہی جب پیاسا خود کنویں کے پاس آئے تو وہ کیا کرے وہ بیچارا تو بے بس کو جاتا…
چل چھوڑ یہ باتیں ہمیں کیا بھابھی کی سنا کیا حال ہے..
احمد نے بحث ختم کرنا چاہی..
الحمدللہ ٹھیک ہے پر مجھ سے ناراض ہے…
اکیڈمی سے فری ہو گئی ہے تو بہت دن ہو گے ایک دوسرے کو دیکھے ہوے…ملنے کا کہہ رہی تھی..
تو مل لینا تھا اس میں کیا ہے تو بھی کھوتا ہے…لڑکے تو خود بہانے ڈھونڈتے اور ایک تو ہے..
نہیں یار وہ میری عزت ہے میں نی چاہتا اسے کوئی باہر میرے ساتھ دیکھے اور دوسرا جب ایک لڑکا لڑکی تنہائی میں ہوں تو تیسرا شیطان ہوتا بندا بہک بھی سکتا ہے تو انسان ہی نہ .
ویسے مجھے بھی آج ہی پتہ چلا ہے تو کتنا سمجھدار ہے…
میں اُس سے فلرٹ نی کر رہا شادی کرنا چاہتا ہوں جائز طریقے سے اپنانا چاہتا ہوں امی سے بات کر لی ہے بس فائنل اگزامز تک ویٹ ہے..
جناب اتنی سختیاں بھی اچھی نہیں ہوتی..احمد مسلسل کھا رہا تھا…
تو روز مجھے باتوں میں لگا کر سب خود کھا جاتا…
سالے اب دوست کا کھانا بھی چُبھ رہا تمیں..آج بل تو ہی دے گا سارا…
احمد نے شرارت سے آنکھ ماری..
عید آ رہی ہے گفٹ کے لیے پیسے جمع کر لیے ہیں میری والی کی تو مہنگی فرمائشیں کر رہی..
اسے عزت کا تحفہ دوں گا نکاح کروں گا چیزوں کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں..
اور پھر سب نے دیکھا تھا ایسے خیالات رکھنے والا عظیم مرد کانچ کے ٹکڑوں کی مانند بکھرا تھا جس کی زہانت کی مثال زمانہ دیتا تھا وہ جو لوگوں کے چہرے دیکھ کر ہی پہچان لیا کرتا تھا وہ جو کہتا تھا میں آنکھیں بھی پڑھ لیتا ہو اُڑتی چڑیا کے پر گن لیتا ہوں وہ ایک عورت سے مات کھا گیا تھا جس عورت نے معصومیت اور کمزوری کا راگ الاپا ہوا..
جس عورت کو اس نے عزت بنانا چاہا وہ ہی اس کی عزت دو کوڑی کی کر گئی تھی اس نے شہر کے پینتیس سالا سیٹھ سے شادی کر لی تھی اس کے نزدیک دولت محبت تھی پیسہ خوشی کا سبب تھا اسے آسائشات چاہیے تھی..اس کے پہلے بھی بہت سے افیر تھے
وہ محبت کی اوڑھنی لے کر جیبیں خالی کرواتی تھی جو شادی میں سیریس ہوتا اسے چھوڑ دیتی..
اسے بہت امیر بندے کی تلاش تھی جو اسے مل ہی گیا تھا..
اور یہ صرف ایک لڑکی کی بات نہیں آپ ارد گرد دیکھنا شروع کر دیں کافی کردار ملیں گے میں سیدھی بات کرتی ہوں گھما پھرا کر کرنے سے نفرت ہے…سچ کڑوا پینے کی عادی ہوں…
زیادہ لڑکیاں پیسے اور کھانے پینے کے لیے دوستیاں کرتی ہیں موبائل کا بیلنس تک لڑکا دلواتا مہنگے مہنگے ہوٹلوں کا بل وہ پے کرتا نت نے پہناوے گفٹس.شادی کے نام پے انکار کر دیتی…..یہ سب کیا ہے..
آپ ایسے دھوکے دینےوالیوں سے بچ کر رہیے گا اگر آپ بھی سیریس نہیں ہیں پیسہ لٹا کر اپنی لو سٹینگ پوری کرنا چاہتے تو لگیں رہیں جیسے آپ ویسی لڑکیاں..
اور اگر آپ سیریس ہیں شادی تک ایک پھوٹی کوڑی بھی مت دیں شادی سے پہلے عورت باپ کی زمہ داری کے جب آپکے نام لگ جائے پھر آپکا سب کچھ اس کا ہی ہے جی بھر کے اس کی فرمائشیں پوری کریں..
اب بستر سے لگا اُس ,,, کا وجود دن بدن نڈھال ہو رہا تھا اس کے ہونٹوں پے چپ تھی کیوں کہ وہ مرد تھا عورت کی طرح مظلومیت کا رونا رو کر سب کو ہی مورد الزام نہیں ٹہرا سکتا تھا پر اس کی نم آنکھیں چیخ چینخ کر کہہ رہی تھی…
“اگر مرد سرہانے کا سانپ ہے تو عورت بھی وہ بندری ہے جس کے پاؤں جلے تھے تو اس نے اپنے بچے نیچے رکھ لیے تھے اگر مرد سرہانے کا سانپ ہے تو عورت بھی آستین کا سانپ ہے جو جب مرضی ڈھنس لیتا ہے اگر مرد کا اعتبار نہیں تو عورت کونسا وفا کی مورتی ہے اگر مرد ٹھڑکی ہوتے تو عورتیں بھی اتنی گنگا نہائی ہوئی نہیں….

تحریر : الماس چیمہ