ادب

مرد برقع اوڑھیں

چند ماہ کی بات ہے کہ "صدر ایوب کے نام ایک کھلا خط” کے عنوان سے انشا مین میرا مضمون شائع ہوا جس میں محترم صدرِ مملکت کی توجہ جہالت ، رجعت پرستی اور عورتوں کے حقوق کی طرف مبذول کرائی گئی تھی ۔ قوم کی بھیانک غربت، خستہ حالی اور مولویوں کی عقل دشمنی کا رونا رویا گیا تھا۔ اس کے بعد میرا ایک مضمون ” کیا پاکستان میں صرف مرد رہتے ہیں ” انشا ہی میں اشاعت پذیر ہوا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ افلاس ، جہالت ، رجعت پسندی اور مولویوں کی بے حسی اور بے ضمیری کا گلہ کرنا ایسا جرم ہے کہ جس کے مجرم کو بخشا نہیں جاسکتا اور عجیب ترین بات یہ کہ میری چند بہنیں ہی مجھ سے اس سلسلے میں سب سے زیادہ ناراض اور برہم ہیں ، میں نے جہالت اور بے شعوری کا ہی خاص طور پہ گلا کیا تھا۔ کیا یہ جہالت اور بے شعوری کی انتہا نہٰں کہ خود عورتیں ہی عورتوں کے حقوق کی مخالفت کرنا اپنا مقدس فرض خیال کرتی ہیں ۔ کیا یہ ذہنی دیوالیہ پن کی انتہا نہٰن ہے کہ آدمی خود اپنے ہی مطالبات اور جذبات کے خلاف زہر اگلنے لگے اور یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ وہ کہہ کیا رہا ہے ۔؟ کاش تحریر کا یہ زور اور خلوص اور دماغ کی یہ قابلِ رشک صلاحیتیں کسی معقول کام میں صرف ہوتیں ، کیا لے دے کر اب صرف یہی کام ری گیا ہے کہ ہماری بہنیں بے پرسدگی و بے باکی کے خلاف واویلا کریں اور جن با شعور خواتین نے پردے جیسی دقیانوسی اور احمقانہ رسم کے خلاف آواز بلند کی ہے ان کے لیے کفر کے فتوے صادر کریں۔ان لوگوں پر کبھی آپ کا عتاب نازل نہیں ہوتا جو عوام کو لوٹ رہے ہٰں ۔ جب قوم کی ناموس سڑکوں پر بھیک مانگتی ہے تو آپ کی رگِ حمیت ذرا نہیں پھڑکتی۔ آپ کو غصہ آتا ہےتو صرف اس بات پر کہ فلاں بے پردہ ہے ، فلاں بے باک ہے۔ آپ سوچیے کہ آپ کس دور اور کس ماحول میں زندگی گزار رہی ہیں؟ دینا کے تقاضے کیا ہیں اور آپ نے انہیں کہاں تک پورا کیا ہے؟

میری ایک بہن نے مراسلے میں لکھا ہے کہ ” ہماری پردہ نشین بوڑھیاں اور باعصمت لڑکیاں اب بھی بے پردگی و بے باکی کو لعنت سمجھتی ہیں۔ وہ مرد کے دباؤ کے تحت یا کسی چال اور کسی مکر کے باعث پردہ نہیں کرتیں نلکہ خلوصِ نیت کے ساتھ اس کو اپنے عورت پن کا اچھوتا پن سمجھتی ہیں” میرے لیے مناسب تو نہیں ہے کہ اس سلسلے میں کچھ کہنے کی جرآت کروں لیکن پھر بھی میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتی کہ ہماری پردہ دار بہنیں پردے کے نام سے سماج کو دھوکا دینے کی پرانی عادت اب ترک کر دیں۔ اب اس کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ جب ہماری صنف کی طرف سے اس قسم کی باتیں سننے میں آتی ہیں اس وقت ہم میں سے ہر معقولیت پسند فرد اس بات کا اعتار کرنے پہ مجبور ہو جاتی ہے کہ صنفِ نازک مین جہالت کے علاوہ دوغلا پن ، ریا کاری اور فریب دہی جیسے اخلاقی اور انسانی عیوب بھی مردوں سے کبھ زیادہ ہی پائے جاتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ ان باتوں کا دعوی کرتی ہیں جن سے دور کا بھی واسطہ نہیں رکھتیں فقط یہی نہیں بلکہ دردل ان باتوں کی سخت مخالفت ہوتی ہے۔ لیکن اس کے بجائے کہ ان عیوب کو دور کرنے کی کوشش کریں جب سچی بات کہی جاتہ ہے، اس وقت الٹی سیدھی باتیں کرنا شروع کر دیتی ہیں جو حق گوئی کی جرات کرتا ہے اس کے پیچھے پڑ جاتی ہیں۔ شاید صرف اس لیے کہ یہ جرات ان میں کیوں نہیں ۔ چلیے میں اپنا مطالبہ چھوڑ دیتی ہوں ۔ آپ شوق سے پردہ کیجیے لیکن خدارا پردے کے نام پہ دھوکہ تو نہ دیجیئے۔ پردہ کرنے کا ایسا ہی شوق ہے تو سچ مچ کا پردہ کیجیے۔ واقعی اگر آپ نے پردہ کرنا چھوڑ دیا تو ہماری قوم دینا کو کس طرح مننہ دکھا سکے گی۔ یہ پردہ ہی تو ہے جس کی برکت سے آج آپ کی قوم دنیا کی سب سے زیادہ "تعلیم یافتہ”، دولت مند” ، اور ترقی یافتہ” قوم سمجھی جاتی ہے۔ آپ نے علوم و فنون کے ہر شعبے میں دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر پردہ نہ ہوتا تو یہ معجزے بھلا کس طرح ظاہر ہوتے۔ اگر ناگوارِ خاطر نہ ہو تو میں اپنی پردہ دار اور با حیا بہنوں سے بہ صدِ احترام یہ پوچھنا چاہتہ ہوں کہ ۔ ۔ ۔

کیا آپ سچ مچ پردہ کرتی ہیں؟کیا آپ نے آج تک کسی نامحرم پر نظر نہیں ڈالی؟جھوٹ زندگی کی بہت بڑی ضرورت ہے مگر کبھی کبھی سچ بھی بول لیا جائے تو کوئی نری بات نہیں۔ میں پوچھتی ہوں جب ہماری با حیا، با عصمت اور باحجاب بیبیاں پیدل یا سواری میں بازاروں سے گزرتی ہیں ، دوکانوں میں جاتی ہیں ، سینما دیکھتی ہیں، قوالی اور میلاد خوانی کی محفلوں اور مجلسوں میں شریک ہوتی ہیں ، میلوں اور نمائشوں میں گھومتی ہیں ، جلسوں اور جلوسوں کا نظارہ کرتی ہیں تو کای اس ساری مدت مٰن ان کی آنکھیں بند رہتی ہیں؟ آخر وہ بات کیوں کہی جائے جس کو سن کر لوگ مذاق اُڑائیں۔ سچ پوچھیں تو پردہ بھی مرد ہی کر سکتے ہیں آپ نہیں کرتیں۔، کر ہی نہیں سکتیں، یہ کہیں آپ کے بس کی بات ہے؟ یہ پردہ خوب ہے کہ آپ تو نقاب کی جالیوں سے بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی شوم و حیا کی شعاع افگنی کرتی رہیں اور مرد کی پلک بھی جھپک جائے تو دیدہ دلیر کہلائے۔ سیدھی سی بات ہے کہ آپ پردے کو بالک لاس طرح استعمال کرتی ہیں جس طرح مرد گہرے رنگین چشمے کو، مقصد دونوں کا "نظر بازی” اور "چشم پوشی ” ہے۔ میں قوم کی اربابِ حل و عقد سے گزارش کروں گی کہ پردے کو اس کی اصل شکل میں نافذ کیا جائے ۔ ثواب ہی کمانا ہے تو پھر جی کھول کر کمایا جائے، پردے کے حامیوں کو چاہیے کہ وہ پردوں سے بھی برقعہ اوڑھنے کی تلقین کریں تاکہ پردے کی غائیت پوری ہو اور ” پردہ دار، ناعصمت اور با عفت نینیوں کو پورا پورا لطف آ جائے اور ان کی مغفرت میں کسی شک اور شبہے کی گنجائش باقی نہ رہے”

حقیقت تو یہ ہے کہ اس زمین پر کوئی ایسی عورت پیدا نہیں ہوئی جس نے پردہ کیا ہو۔ صرف ظاہرہ پردہ رہ جاتا ہے۔ تو میں کہوں گی کہ اس رسم کو شروع ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں اور یہ رسم بھی ان قبیلوں تک محدود رہی ہے جہاں مرد عورت کو ایک جیتی جاگتی غلاظت اور زندہ نجاست سمجھ کر زمین میں دفن کر دیتے تھے تا کہ معاشرہ ان کے تعفن سے محفوظ رہے۔ اس ماحول کی عورتوں نے پردے جیسی رسوم کو اپنا فرظ اور اپنی قسمت خیال کر لیا ۔ آج وہ یہ دعوی کرتی ہیں کہ انھوں نے اس سزا کو اپنی مرضی سے قبول کیا ہےاور بڑا تیر مارا ہے۔ حیرت ہے کہ یہ اس معاشرے کی وکالت کرتیں ہیںجس نے انھیں پردہ کرنے پرنہیں، ستی ہو جانے پر مجبور کر دیا تھا اور انھوں نے اسے بھی قبول کیا۔ ہماری بہنوں کو چاہیے کہ وہ اس فریب خورگی کی پرانی عادت کو اب ترک کر دیںجس نے ان کے اندر فریب دہی اور فریب کاری پیدا کر دی ہے۔ انھیں کھل کر اپنی ان بہنوں کی تقلید کرنی چاہیے جو کسی ذہنی پیچیدگی کے بغیر زندگی میں مردوں کے دوش بہ دوش چل رہی ہیں جنھوں نے سماج کی نصف ذمہ داریوں کو بجا طور پر قبول کر لیا ہے اور اس طرح اپنا فرض انجام دیا ہے۔ جو گھر میں بیٹھ کر ناز نخرے کرنے کے بجائے زندگی کی سنجیدہ اور سنگین حقیقتوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ آپ کان کھول کر سن لیجیے کہ مرد کی جنسی تسکین کر دینے سے حق ادا نہیں ہو جاتا۔ جو عورتیں مرد کو جنسی تسکین پہچانے کے بعد اپنے آپ کو مرد کی دولت کا حصے دار سمجھنے لگتی ہیں ان میں اور طوائفوں مٰن آخر کیا فرق ہے؟ اگر فرق ہے تو صرف یہ کہ ایک جرات مند ہے اور اعلانیہ انی حثیت کا اعتراف کرتی ہے اور دوسری ڈھٹائی سے اپنی عصمت و عفت کا ڈھنڈورا پیٹتی رہتی ہے۔

ایک محترمہ نے میرے مضمون کے خلاف بڑے ہی خلوص سے یہ تحریر فرمایا کہ ۔ ۔ ۔کیا ان کی خواہش، یعنی میری خواہش، یہ ہے کہ مرد کے ساتھ عورت بھی کمائے تاکہ شراب کا خرچ پورا ہو” ان الفاظ سے ہم اپنی عبرت ناک جہالت اور بد نصیبی کا پوری طرح اندازہ لگا سکتے ہیں۔ جن محترمہ نے یہ الفاظ تحریر فرمائے ان کا سا دل و گردہ شاید ہی کسی اور کا ہو ۔ بڑی ہمت ہے ان کے اندر ! وہ شاید زمین پر نہٰن آسمان پر رہتی ہیں اور یہ کہ چشمِ بدور ان کے پاس خدا کا دیا سب کچھ ہے جو انھیں مبارک ہو۔ لیکن وہ فاقہ کش اور ،مظلوم عوام کا مذاق تو نہ اُڑائیں جو اللہ کی اس زمین پر اللہ کے چند برگزیدہ فرزندوں کی برکت سے سسک سسک کر زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں ۔ ان مھترمہ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اس ملک کی 80 فیصد آبادی بھوک سے نڈھال ہے ، کای ان صاحبہ کے خیال میں ان کی قوم اس قدر آسودہ ہو چکی ہے کہ اگر آج مردوں کے ساتھ عورتیں بھی کمانے لگیں تو یہ آمدنی لباس، غذا، مکان اور تعلیم کے تمام اخراجات پورے کرنے کے بعد بچ رہے گی اور شراب کے علاوہ اس کا اور کوئی مصرف نہیں رہے گا۔ کای اس ملک کے عوام کی تمام ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں اور اب اسے فقط شراب کے لیے روپے درکار ہیں ۔ محترمہ! آپ کی اس جرات و ہمت کا بھلا کون مقابلہ کر سکتا ہے ۔ ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ان کی قوم کے بوڑھے اور جوان صبح کو کہیں مازمت کرتے ہیں دوپہر کو کسی اور جگی جا کر کام کرتے ہیں اور رات کو کہٰن اور ڈیوٹی دیتے ہیں اور پھر بھی ایک وقت کے کھانے کا خرچ نہیں نکلتا ۔ کای آپ نے سڑکوں پر اپنی عزت و ناموس کو بھیک مانگتے ہوئے نہیں دیکھا؟کیا ان صاحبہ کا کوئی قصور نہیں وہ جس سماج میں زندگی گزار رہی ہیں اس کی برکت سے انسان کی عقل کو زائل ہو جانا ہی چاہیے۔ اس سماج کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے انسان کو جانور بنا دیا ہے اور اس جانور کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ماضی کی وحشت اور درندگی کے ساتھج عقیدت اور ایک دوسرے کے ساتھ نفرت و عداوت سے پیش آئے اور یہی اس کا مسلک اور مذہب ہے جو کوئی اس کے خلاف آواز اٹھائے کافر ہے لیکن اب اس فتوے بازی کے دن پورے ہو چکے ہیں۔ اب ہن ملاؤں اور ملانیوں کے نام پر احمق بننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہمارے ہرگز وہفرائض نہیں ہیں جو ان مداریوں نے ہم یہ مسلط کیے تھے ۔ مارے فرائض یہ ہیں کہ غربت ، جہالت، رجعت پسندی، غلامانہ ذہنیت اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف اظہارِ نفرت کریں۔ سماجی ناانصافیوں کو دور کریں اور ان آبرو باختہ قدروں کے قحبہ خانوں کو نیست و نابود کریں جہاں معصوم انسانیت جھوٹے سکوں کے بدلے اپنی سچائی اور شرافت کو بیچنے پر مجبور کر دی گئی ہے ۔