بلاگ معلومات

معقولیت

“میں ماننا نہیں، جاننا چاہتا ہوں”۔ یہ فقرہ کئی مرتبہ کارل ساگان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ درست نہیں۔ کارل ساگان اس طرح کی سطحی اور بے کار باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ ایسے فقرے کئی سوڈوریشنلٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس قسم کا تاثر دینے کے لئے کہ گویا یقین رکھنا کوئی بُری خاصیت ہے۔ ممجھے یقین ہے کہ بیس منزلہ عمارت سے چھلانگ لگانا دانشمندی نہیں۔ ممجھے یقین ہے کہ سامنے سے آنے والا ٹرک مجھے کچل دے گا۔ اس کی وجہ جاننا بھی بڑی اچھی چیز ہے لیکن یقین زیادہ ضروری ہے۔ یقین کے بغیر زندہ نہیں رہا جا سکتا۔

اس طرح کے سوڈوریشنلسٹ ایک اور بات کا پرچار کرتے پائے جائیں گے کہ “انسان غیرمعقول ہیں۔ ان کو معقول ہونا چاہیے”۔ بڑا اچھا مشورہ ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ سوال کہ معقول ہونے کا اصل مطلب کیا ہے۔ کیا کسی چیز پر یقین رکھنا معقول ہے؟ سائنس میں “یقین” کا مطلب لِٹرل ہے۔ کوئی چیز صحیح ہو گی یا غلط، اس میں استعارہ نہیں ہو سکتا۔ ریاضی کی مساواتیں اور سائنس کے سادہ سچ اور جھوٹ اصل زندگی کا چھوٹا حصہ ہیں۔ ہر اچھا سائنسدان اس کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔

اصل زندگی میں یقین ایک آلہ ہے، آخری پراڈکٹ نہیں۔ پرکھا آخری پراڈکٹ کو جاتا ہے۔ اس کے لئے بصارت کی مثال دیکھی جا سکتی ہے۔ آنکھ کا مقصد ہمیں ارد گرد کے ماحول سے آگاہ کرنا ہے اور مشکل سے دور رکھنا ہے یا کسی موقع کی پہچان کروانا ہے۔ اس کا مقصد الیکٹرومیگنیٹک سپیکٹرم کو پرفیکٹ طریقے سے ڈیٹیکٹ کرنا نہیں ہے۔ اپنے گرد حقیقت کی بڑی ایکوریٹ سائنسی تصویر بنانا نہیں ہے۔ ایسی تصویر بنانا ہے جو زندہ رکھنے کے لئے سب سے زیادہ مفید ہو۔

ہمارا بصری نظام غلطیاں کرتا ہے۔ یہ غلطیاں ہمیں زیادہ پریسائز عمل کرنے کی اہلیت دیتی ہیں۔ بصری دھوکے انتہائی ضروری ہیں۔ یونانی اور رومی عمارات کا بہترین آرکیٹکچر دیکھا جائے تو اس میں ستونوں کے درمیان فاصلہ برابر نہیں اور یہ کچھ اندر کو جھکے ہوئے ہیں۔ پارتھینون کا فرش سیدھا نہیں، خم کھایا ہوا ہے۔ غلطیاں؟ نہیں۔ یہ ان کے جمالیاتی تصور کو دوبالا کرتی ہیں اور اسی وجہ سے یہ ستون ایسے نظر آتے ہیں جیسا کہ فوجی پریڈ کر رہے ہوں۔ کیا آپ یونانی وزارتِ سیاحت سے یہ شکایت کریں گے کہ ستون سیدھے نہیں؟ پرفیکشن صرف ریاضی کی نہیں ہوتی۔ یہ آرکیٹکچر اپنے جمالیاتی مقصد کو انتہائی خوبصورتی سے پورا کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح، ہماری آنکھ جس طرح حقیقت کو مسخ کر کے دکھاتی ہے، یہی اس کی ہمیں زندہ رکھنے کی پرفیکشن ہے۔ ہمارا سوڈو ریشنلسٹ بھی بصری دھوکوں کو آنکھ جیسے انتہائی شاندار آلے کی خامی نہیں کہے گا۔

یقین بھی اسی طرح کی چیز ہے۔ کسی بھی یقین کا ٹیسٹ اس سے ہونے والے عمل سے ہے۔ کونسا یقین معقول ہے اور کونسا نہیں؟ اس کا معیار آج تک تو کوئی بنانے میں کامیاب نہیں ہوا لیکن اس سے ہونے والے عمل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلا، ہمارے کئی عجیب لگنے والے خوف، وسوسے معقول اس لئے ہیں کہ وہ ہمیں زندہ رکھتے ہیں۔ جن لوگوں میں یا جن آبادیوں میں یہ نہیں ہوتے؟ نہیں، ایسی کوئی آبادی نہیں جن میں وہ نہ ہوں، کیونکہ وہ زندہ نہیں رہتیں۔ “زندہ رہنا سب سے پہلے، سچائی، سمجھ اور سائنس بعد میں”۔

یا ایسے کہا جا سکتا ہے کہ زندہ رہنے کے لئے سائنس ضروری نہیں۔ اس کے بغیر لاکھوں سال زندہ رہے ہیں۔ لیکن سائنس کرنے کے لئے زندہ رہنا ضروری ہے۔ ہوبز کے الفاظ میں “زندہ رہے تو پھر فلسلفے کی باتیں بھی کر لیں گے”۔ جن لوگوں نے اصل زندگی کا سامنا کیا ہوتا ہے، وہ سوڈو ریشنلسٹ لوگوں اور ان کی لکھی کتابوں سے زیادہ خطرے اور رسک کو سمجھتے ہیں۔ خاص طور پر اسے، جسے رِسک میں ناقابلِ عبور رکاوٹ کہا جاتا ہے۔ اور جب بقا کی بات ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ آپ کی؟ آپ کے خاندان کی؟ آپ کے قبیلے کی؟ پوری انسانیت کی؟ جتنا سسٹیمک خطرہ ہو گا، بقا اتنی اہم ہو جائے گی۔ اس کا چھوٹے سے چھوٹا امکان بھی انتہائی اہم ہو جائے گا۔ نئی بڑی تبدیلیوں کے بڑے خوف اس وجہ سے ہوتے ہیں۔

معقولیت وہ نہیں جو صرف سطح پر معقول لگے۔ اس پر تین بڑے مفکرین کی اہم آراء ہیں۔ ایک کوگنیٹو نیوروسائنٹسٹ اور پولی میتھ ہرب سائمن، جو مصنوعی ذہانت کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ دوسرے ماہرِ نفسیات گرڈ جائیگرنزر او تیسرے ریاضی دان اور فیصلہ کی تھیوری کے ماہر کین بنمور جن کی زندگی کا کام ہی معقولیت کی منطقی تعریف تلاش کرنا تھا۔

سائمن کے باوٗنڈڈ ریشنیلٹی کا تصور دیا۔ ہم ہر چیز کو کسی کمپیوٹر کی طرح پیمائش کر کے اس کا تجزیہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں شارٹ کٹ درکار ہیں اور حقیقت کو کچھ توڑنا مروڑنا پڑتا ہے۔ دنیا کے بارے میں ہمارا علم بنیادی طور پر نامکمل ہے اور اگر بالفرض مکمل بھی ہوتا تو تجزیہ کرنے کے لئے ریسورس اور وقت نہیں۔ ایسے شارٹ کٹ جو ضرر سے بچنے کے لئے “مفید” ہوں، انتہائی اہم ہیں۔ ایکولوجیکل معقولیت کے زرخیز نئے شعبے میں ہونے والی تحقیق کا بیج سائمن کے کام نے بویا تھا۔ اس کو جائیگرنزر نے آگے بڑھایا ہے۔ اس کے مطابق زندگی کے فیصلے ریاضی کی مساواتوں کے حل سے نہیں لئے جاتے۔ اس کا طریقہ heuristics کے ذریعے ہے۔ ایسی باتیں جو سطح پر غیرمنطقی لگتی ہیں لیکن سطح سے نیچے ان کے گہری وجوہات ہوتی ہیں۔

کین بنمور اپنے کام میں دکھاتے ہیں کہ معقولیت کے تصور کا کوئی لگا بندھا مطلب نہیں۔ اس کو تین جملوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کسی شخص کو اس کے یقین کی بنیاد پر جج کرنا غیرسائنسی ہے کسی یقین کے معقول یا غیرمعقول ہونے کا کوئی مطلب نہیں، یہ اس سے نکلنے والے عمل سے پرکھا جا سکتا ہے۔ عمل معقول ہے یا نہیں کا معیار صرف بقا اور ارتقا کو بنایا جا سکتا ہے۔ (یہ فیصلہ وقت کا غیرمرئی ہاتھ کر دیتا ہے)۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یاد رکھیں کہ کسی کو بھی اس کے الفاظ سے نہیں جانا جا سکتا، صرف عمل سے جانا جا سکتا ہے۔ بغیر عمل کے الفاظ صرف سستی باتیں ہیں۔

کیا یقین اور عمل کے درمیان ترجمہ ٹھیک ٹھیک ہوتا ہے؟ نہیں، اس ترجمے کے عمل کے دوران بھی غلطیاں رہ جاتی ہیں (اس کو bias-variance tradeoff کہا جاتا ہے)۔ کیا غلطی کمزوری ہے؟ نہیں، چھوٹی غلطیاں کرنا، بالکل غلطی نہ کرنے کے مقابلے میں بہتر نتائج دیتا ہے۔ اس طرح کی غلطیاں کرنا خود میں ہی سب سے زیادہ “معقول” عمل ہے۔ ایسی غلطیاں جن کی قیمت زیادہ نہ ہو، نئی دریافتوں کی طرف لے کر جاتی ہیں۔ بغیر غلطی کی دنیا میں نہ پنسلین ہو گی، نہ کیمیوتھراپی، نہ کوئی ڈرگ اور نہ انسان۔

جیرڈ ڈائمنڈ اپنی کتاب میں مختلف کلچرز کے “تعمیری پیرانویا” کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے گہرے خوف، جن کی وجہ سے وہ خود آگاہ نہیں لیکن جن کی وجہ سے وہ ابھی بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔ یہ خوف اعداد و شمار سے نہیں نکالے جاتے، ہیورسٹک بن جاتے ہیں۔ یہاں پر یاد رہے کہ اگر یہ لوگ ان پر تنقید کرنے والے ماہرینِ نفسیات سے راہنمائی لینے کی کوشش بھی کریں گے تو نوے فیصد سے زائد ماہرینِ نفسیات کو رِسک کی پرابیبلیٹی کی ابجد کا بھی علم نہیں ہو گا۔ اگر کسی کی کوئی “غیرمنطقی” بات اسے ضرر سے محفوظ رکھتی ہے اور فائدہ دیتی ہے تو یہ اس غیرمنطقی بات پر یقین رکھنا معقول ہے۔ یقین نہ رکھنا غیرمعقول۔

معقولیت کے لئے استعمال ہونے والا لفظ سوفروسائن تھا جس کے معنی احتیاط کے تھے۔ انیسویں صدی کے آخر میں میکس ویبر کے کام سے ریشنل اور ریشنل فیصلہ سازی کے لفظ لغت کا حصہ بنے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم اس مغالطے میں تھے کہ ہم اس دنیا کو جاننے کے قریب قریب ہیں، اس میں کوئی رینڈم نس نہیں یا اس لفظ کا اصل دنیا سے یا اصل لوگوں سے کوئی تعلق نہیں۔ معقولیت کی ایک ہی ایسی تعریف ہے جس کو ریاضیاتی طور پر، ایمپیریکلی اور عملی طور پر پرکھا جا سکتا ہے۔ معقول ہو ہے، جو زندہ رکھے۔ جو کسی فرد، گروپ، قبیلے یا جنرل طور پر بقا کے لئے خطرے میں کسی بھی طرح کا اضافہ کرے، غیرمعقول ہے۔

یقین دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ جو براہِ راست عمل میں تبدیل ہوتے ہیں (ٹرک مار دے گا، ہٹ جاوٗ)، دوسرے سجاوٹی یقین جو الفاظ میں ہوتے ہیں۔ سجاوٹی یقین بھی ہمیشہ فاضل نہیں ہوتے۔ کئی مرتبہ ہمیں ان کے فنکشن کا علم نہیں ہوتا۔ اس کے لئے ہم شماریات کی دنیا کے بادشاہ سے رابطہ کر سکتے ہیں، جو کہ وقت ہے۔ اس کے لئے استعمال ہونے والے ٹیکنیکل ٹول، سروائیول فنکشن کہا جاتا ہے۔ ابھی شماریات سے کچھ بچتے ہوئے بہت آسان الفاظ میں۔ سوڈوریشنلسٹ کی نظر میں ہم سب غیرمعقول ہیں، مگر کیوں؟ ہم غیرمعقول اس لئے ہیں کہ غیرمعقول ہی زندہ بچتے ہیں۔

اس کی ایک مثال لینے کے لئے ہم یہودیوں کی خوراک کے قوانین پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ خوراک کے بارے میں یہودیوں کی پانچ سو مختلف ممنوعات ہیں، جو کوشر کے قوانین کہلاتے ہیں۔ کسی باہر سے دیکھنے والا اگر معقولیت کا پیمانہ یہ بنائے کہ وہ ان کی وضاحت کر سکتا ہے کہ نہیں تو یہ سب اس کو خاصی غیرمعقول لگیں گے۔ چار قسم کی پلیٹییں، دو دھونے کے الگ جگہیں، گوشت کو ڈیری مصنوعات سے الگ رکھنا، ایک دوسرے سے چھونے بھی نہ دینا وغیرہ وغیرہ۔

ان سب قوانین کی وضاحتیں ڈھونڈنے کی کوشش کی جا سکتی ہے لیکن انکی جو بھی وجوہات تھیں، ان پر عمل کرنے والے ہزاروں سال سے بقا کی لڑائی میں جیت رہے ہیں۔ یہ یکجہتی بھی لے کر آئی ہیں۔ وہ جو اکٹھا کھاتے ہیں، مضبوط تعلقات بناتے ہیں۔ (ٹیکنیکل زبان میں اس کو convex heuristic کہتے ہیں)۔ گروپ کے آپسی تعلقات اپنی کمیونیٹی سے بااعتماد طریقے سے تجارتی لین دین کرنے میں مدد کرتے ہیں، خواہ یہ دوسرے ممبران کتنے ہی دور اور کتنے ہی انجان کیوں نہ ہوں۔ یہودیوں نے اس طریقے سے اپنے وسیع دور دراز تجارتی نیٹ ورک بنائے ہیں۔ اس طرح کے جو بھی فوائد ہوں، خلاصہ یہ رہا ہے کہ اپنی انتہائی مشکل تاریخ کے باوجود یہودی بقا کی جنگ میں دنیا میں جیتتے رہے ہیں۔ معقولیت رِسک مینجمنٹ ہے۔ لفاظی نہیں، اس کو نتیجے سے دیکھا جا سکتا ہے۔