بلاگ معلومات

ملیحہ لودھی کے کرتوت

ملیحہ لودھی کے "ہٹانے” کی اصل وجہ اقوام متحدہ کا وہ خط تھا جو اس نے بھارتی لابی کو انتہائی چالاکی اور مکاری سے دے دیا ! پاکستان نےحافظ سعید کے منجمد اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس میں سے جائز رقم نکالنے کی اقوام متحدہ سے درخواست کی تھی جو اقوام متحدہ نے غور و حوض کے بعد قبول کرلی اور حافظ سعید کے منجمد اکاؤنٹس سے ایک حد تک انکو رقم نکالنے کی اجازت دے دی تاکہ وہ اپنے روز مرہ کے اخراجات چلا سکیں۔ یہ تمام معلومات ایک خط کی صورت میں اقوام متحدہ نے پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے حوالے کردیں۔

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے یہ خط انڈین لابی کو لیک آؤٹ کر دیا۔ ستائیس ستمبر کو عمران خان کی تقریر تھی جبکہ پچیس ستمبر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اس وقت شدید حیرت کا جھٹکا لگا جب بھارتی صحافی ان سے یہ سوال پوچھتے پائے گئے کہ… "آپ لوگ کشمیر کے بارے میں بات کرنے آئے ہیں یا اپنے پالے ہوئے دہشتگردوں کے منجمد اثاثے بحال کرانے آئے ہیں؟” وزیر خارجہ نے کمال عقلمندی کا مظاہرہ کرکے یہ بات وزیراعظم تک پہنچائی اور وزیراعظم عمران خان نے ٹیم کے ہر بندے پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دے دیا کہ اپنی صفوں میں ہی کوئی میر جعفر موجود ہے۔

پھر انتہائی کم وقت میں اس بات کا سراغ لگا لیا گیا کہ عثمان ٹیپو نامی شخص کی مشکوک حرکات اور انڈین لابی سے ملاقاتوں کے شواہد حاصل ہوئے۔ عثمان ٹیپو کو فوری طور پر پاکستانی ایجنسی نے حراست میں لیکر پوچھ گچھ کی تو وہ فوری طور پر وعدہ معاف گواہ بننے پر تیار ہوگیا۔ اس تفتیش کے دوران عثمان ٹیپو نے ایسے ایسے انکشافات کیئے کہ بڑے بڑے سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔” دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی ” ٹیپو نے انکشاف کیا کہ اقوام متحدہ کا پاکستان کو لکھا گیا یہ خفیہ خط، بھارتی لابی کو وٹس ایپ کرنے کا ٹاسک ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اسکو دیا تھا۔ نیز تاکید کی تھی کہ وزیراعظم کی تقریر سے عین دو دن پہلے اسکو ہر بھارتی صحافی کو وٹس ایپ کردینا ہے۔ اسکے علاوہ بھی پاکستان کے کئی اہم دستاویزات وہ اپنی باس ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے حکم پر کئی بھارتی ایجنٹوں اور صحافیوں کو بھیج چکا ہے۔

فوری طور تمام صورتحال وزیر خارجہ اور وزیراعظم پاکستان کو بریف کی گئی۔ جس پر وزیراعظم نے فوری ایکشن لینے کا حکم دیتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو اس کے عہدے سے برطرف کردینے کا حکم دے دیا جو انکے امریکہ کے کامیاب دورے کے بعد عمل میں لایا گیا۔ واضح رہے ڈاکٹر ملیحہ لودھی چند ماہ پہلے اپنے بیٹے کی شادی ایک ہندو لڑکی سے کی تھی جس کا نام بھی نہیں بدلا گیا تھا۔ اس وقت بھی سوشل میڈیا ایکٹویسٹس نے شور مچایا تھا لیکن حکومت پاکستان نے انکا ذاتی معاملہ کہہ کر اس شادی کو نظر انداز کردیا تھا۔ بعد میں اس طرف تحقیق کی گئی تو مزید ہوشربا انکشافات سامنے آئے۔

ملیحہ لودھی کا سمدھی، دہشت گرد ہندو جماعت "آر ایس ایس” کا متحرک کارکن نکلا۔ خان کے دورہ امریکہ کے کئی پرت ہیں جو اب وقت آنے پر آہستہ آہستہ ہی کھلیں گے، کہ کس طریقے سے سابقہ حکومتوں کی منظور نظر ملیحہ لودھی سمیت کئی بیوروکریسی کے افسران لپٹے جائیں گے جو دھرتی ماں کا سودا کرتے رہے۔