اسلام

مسجدیں بند کر دیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے

کرونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں سے بچاو کی احتیاطی تدابیر میں سعودیہ، متحدہ عرب امارات اور الجزائر سمیت بعض مسلم ممالک نے مساجد میں نماز پنجگانہ کی جماعت اور جمعہ کے اجتماعات کی ممانعت کر دی ہے کیوں کہ ایک مقام پر زیادہ لوگوں کے اکٹھا ہونے سے اس وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔مصر کے معروف ادارے ازہر شریف نے بھی اس اقدام کی تائید کی ہے۔ سعودی عرب کی ہیئۃ کبار العلما نے ابتدائی طور پر یہ فتویٰ جاری کیا تھا:جو شخص کرونا سے متاثر ہو، اس کے لیے جمعہ اور جماعت میں حاضر ہونا حرام ہے کیوں کہ رسول اللّٰہ کا ارشاد ہے کہ بیمار کو تندرست کے ساتھ نہ ملائے؛ لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلٰی مُصِحٍّ (بخاری) اسی طرح حدیث میں ہے کہ جہاں طاعون ہو وہاں نہ جاؤ اور اگر پہلے سے موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ (بخاری، مسلم)

اسی طرح جسے قرنطینہ یا آئسولیشن میں رکھنے کی ہدایت کی گئی ہو، وہ اس کی پابندی کرے اور گھر پر یا علاحدہ ہی نماز پڑھے۔ شرید بن سوید ثقفی رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللّٰہ کی بیعت کے لیے آیا تو اس میں ایک شخص کو کوڑھ کا مرض لاحق تھا۔ نبی کریم نے اسے پیغام بھجوایا کہ ہم نے تمھاری بیعت لے لی ہے، تم لوٹ جاؤ۔ (مسلم)جس شخص کو بیماری کا اندیشہ ہو یا اس سے دوسروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہو، اسے بھی جمعہ اور جماعت میں عدم حاضری کی رخصت ہے۔رسول اللّٰہ کا فرمان ہے: نہ نقصان اٹھانا جائز ہے اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچانا؛ لا ضرر ولا ضرار۔ (ابن ماجہ)

بعد ازاں 17 مارچ کو کبار علما بیورو نے اپنے ایک غیر معمولی اجلاس میں حرمین کے علاوہ مملکت سعودیہ کی تمام مساجد میں جمعہ اور جماعت کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس اقدام کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں بارش کے دوران لوگوں کو گھروں پر نماز پڑھنے کی رخصت دی گئی ہے۔ عہد رسالت میں بارش کے موقعے پر اذان کے آخر میں یہ کہنے کا حکم تھا: الا صلوا فی الرحال، یعنی اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔

پاکستان کے علما عمومی طور پر ایسی کسی بھی پابندی کو ناجائز قرار دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان ان حضرات کا استدلال درج ذیل نکات پر مبنی ہے:تاریخ میں اس سے پہلے بڑے بڑے طاعون اور وبائیں آئیں لیکن مساجد کو بند نہیں کیا گیا۔ دشمن سے مڈبھیڑ کے دوران میں بھی جماعت سے رخصت نہیں دی گئی تو کرونا کی وجہ سے کیسے دی جا سکتی ہے؟مریضوں کو تو منع کیا جا سکتا ہے لیکن تندرست افراد کے لیے مساجد کی بندش ظلم اور حرام ہے کہ قرآن مجید میں ہے: وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْہَا اسْمُہٗ وَسَعٰى فِيْ خَرَابِہَا [البقرہ: 114] ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کو ن ہو گا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے در پے ہو؟”

اس ضمن میں درج ذیل امور قابل غور ہیں:

1-تدبیری امور کے متعلق کسی رائے کا تاریخ میں موجود نہ ہونا شرعاً اس کے غلط ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ ماضی میں جو وبائیں پھوٹیں، اگر ان کے سدباب کے لیے مساجد کی بندش کا فیصلہ نہیں کیا گیا تو اس کے معنی یہ نہیں کہ ایسا فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا، خصوصاً جب شریعت میں کسی سبب کی بنا پر مساجد میں عدم حاضری کی رخصت موجود ہو، جیسا کہ بارش کے دوران میں یہ اعلان کرایا جاتا تھا کہ نماز گھروں میں پڑھ لی جائے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کسی عذر کی وجہ سے مساجد میں نہ آنے کی رخصت موجود ہے بلکہ خود شارع علیہ السلام نے اس کی ترغیب دی ہے۔ اس سے مساجد میں نہ آنے کا شرعی جواز نکلتا ہے، نیز قرآنی حکم : وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً (اور اپنے گھروں ہی کو قبلہ بنا لو۔ سورۃ یونس: 87) سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

2- سابقہ اہل علم اور مجتہدین نے ایسا کرنا ضروری نہیں سمجھا یا ان کے گمان کے مطابق مساجد میں حاضری سے اس کے پھیلاؤ کا خطرہ نہیں ہو گا۔ یوں بھی طاعون وغیرہ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جب کہ کرونا کا معاملہ یک سر مختلف ہے کہ اس کی ظاہری علامات بہت زیادہ واضح اور نمایاں نہیں ہیں اور نہ ہی جلد ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے احتیاط ہی اصل حل ہے۔مزید برآں ان زمانوں میں طاعون سے لاکھوں لوگ ایک ہی علاقے میں ہلاک ہوتے رہے ہیں جیسا کہ حضرت عمر کے دور میں ڈھائی لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے، تو کیا ضروری ہے کہ اب بھی ہزاروں لاکھوں لوگوں کی جانیں داو پر لگائی جائیں؟

3- تاریخی مطالعے سے ایسے شواہد بھی ملتے ہیں کہ وبا کی وجہ سے اتنی اموات ہوئیں کہ مساجد میں آنے والے ہی نہ رہے اور وہ بند ہو گئیں۔ امام ذہبیؒ نے لکھا ہے: 448 ہجری میں مصر اور اندلس میں ایسا قحط اور وبا پھیلی، جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی، حالت یہ ہو گئی کہ مساجد بند پڑی تھیں اور کوئی نماز پڑھنے والا نہ تھا؛ اس کا نام جوع الکبیر کا سال رکھا گیا۔ [في عام 448 هـ: وقع في مصر والأندلس قحطٌ ووباءٌ كبير، لم يُعهد قبله مثله، حتى بقيت المساجد مغلقة بلا مصلِّ، وسُمي: عام الجوع الكبير ] (سير أعلام النبلاء18/ 311)

4- جہاں تک نماز خوف کی مثال ہے تو اس میں بھی سبھی کو ایک ہی وقت میں نماز باجماعت پڑھنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ دو گروپ بنا کر ایک کو نماز پڑھنے اور دوسرے کو لڑائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ لیکن اگر اجتماع بجاے خود ہی خطرے کا باعث ہو تواس سے استدلال صحیح نہیں بنتا کیوں کہ علت مختلف ہے۔ وہان علت دشمن کا خوف ہے جسے ایک گروہ روک سکتا ہے، یہاں وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے جو لوگوں کے جمع ہونے سے پھیلتا ہے، اس لیے اس سے بچنے کے لیے بڑے اکٹھ سے گریز لازم ہے۔

5- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ تندرست کو مسجد سے روکنا حرام ہے، البتہ مریض یا متوقع مریض کو روکا جا سکتا ہے۔ مگر اس سلسلے میں مشکل ہی یہ ہے کہ مریض اور صحت مند میں فرق و امتیاز دشوار ہے کیوں کہ پہلے مرحلے پر مریض کا پتہ ہی نہیں چلتا جب کہ وائرس موجود ہوتا ہے جو دوسروں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ بنا بریں سبھی کو احتیاطاً ایک دوسرے سے فاصلے ہی پر رہنا چاہیے جو کہ باجماعت نماز کی صورت میں ممکن نہیں، الا یہ کہ بہت تھوڑے لوگ ہوں اور وہ بھی فاصلے پر کھڑے ہوں۔

مزید برآں احتیاطی تدبیر کے طور پر لوگوں کو اجتماع سے روکنا اس آیت کے زمرے میں نہیں آتا کہ مساجد میں روکنے والے ظالم ہیں کیوں کہ یہاں ایک عذر موجود ہے یعنی انسانی جان کی حفاظت کا اہتمام؛ جب کہ قابل مذمت عمل یہ ہے کہ لوگوں کو بلاوجہ صرف اللّٰہ کی عبادت سے روکنے کے لیے مساجد کے دروازے ان پر بند کر دیے جائیں۔

6- عرب ممالک میں اگرچہ کلی طور پر مساجد بند کر دی گئی ہیں، تاہم یہاں یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ محدود پیمانے پر جمعہ اور جماعت کا سلسلہ جاری رکھا جائے؛ یعنی مساجد کا انتظامی عملہ باجماعت نماز اور خطبہ جمعہ میں شریک رہے تاکہ شعائر کی کامل معطلی کی صورت بھی پیدا نہ ہو اور احتیاطی تدبیر پر بھی عمل ہو جائے۔ عامۃ الناس مگر گھروں پر ہی جماعت کا اہتمام کر لیں اور جمعے کے بجاے ظہر پر اکتفا کریں۔اس وقت پاکستان میں جس تیزی سے یہ وائرس پھیل رہا ہے، اس کے پیش نظر بہتر یہی ہے کہ یہاں بھی عرب ممالک کے فتوے پر عمل کیا جائے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔