کالمز

مغربی سیاستدان کا قبول اسلام

میں نے اپنی زندگی میں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے‘ جو غیر مسلم خاندانوں میں پیدا ہوئے ‘لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُنہیں دین حنیف کی سمجھ عطا فرمائی۔ برطانیہ کے مشہور مبلغ عبدالرحیم گرین ‘ یوسف چیمبرز اور حمزہ انڈریاس کا شمار انہیں لوگوں میں ہوتا ہے۔مسیحی گھرانوں میں پیدا ہونے والے یہ لوگ اس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کے مبلغ بن چکے ہیں اور اسلام کی تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ کرنا ان کی زندگیوں کا سب سے بڑا مشن ہے۔ مغربی ممالک میں بسنے والے ان مبلغین کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مستقبل میں یہ لوگ نا صرف یہ کہ دائرہ اسلام میں داخل ہوں گے‘ بلکہ اسلام کے خدمتگار بھی بن جائیں گے۔ قرآن مجید کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے محنت کرتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو اپنا راستہ ضرور دکھاتے ہیں۔سورہ عنکبوت کی آیت نمبر 69 میں ارشاد ہوا :”اور جنہوں نے کوشش کی ہماری (راہ) میں بلاشبہ ضرور ہم ہدایت دیں گے‘ انہیں اپنے راستوں کی اور بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

مسلمان معاشروں میں بسنے والے بہت سے لوگ ساری زندگی مساجد میں جمعہ کے خطبات اور دروس کو سننے کے باوجود بھی کئی مرتبہ اپنی زندگیوں میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں لا پاتے اور دنیا کے امور اور معاملات میں جذب ہونے کی وجہ سے دین پر پوری طرح عمل پیرا نہیں ہو پاتے اور کاروباری اور گھریلو مصروفیات انہیں پوری طرح جکڑے رکھتی ہیں‘ لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس شخص کے لیے دین داری کو مقدر کر دیا ہو اس کو مطلوبہ ماحول میسر نہ بھی آئے تو بھی وہ حلقہ بگوش اسلام ہو جاتا ہے۔ ایک عرصہ قبل امریکہ کی شہری ڈاکٹر مریم جمیلہ جب اسلام سے متاثر ہوئیں تو انہوں نے نا صرف یہ کہ اپنے آباؤ اجداد کے مذہب کو خیر آباد کہہ دیا‘ بلکہ وہ دیار مغرب کو چھوڑ کر پاکستان میں آ کر آباد ہو گئیں اور یہیں پر اپنی زندگی کے آخری ایام تک مقیم رہیں۔ انہوں نے تہذیب مغرب کے ردّ میں متعدد جامعہ اور مبسوط کتابوں کو تحریر کیا‘ جن میں مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے موجود قباحتوںکو نہایت احسن انداز میں بے نقاب کیا۔ عبدالرحیم گرین‘ حمزہ انڈریاس اور یوسف چیمبر زسے برطانیہ میں ملاقاتیں ہوئیں ‘تو میں نے ان ملاقاتوں میں ان میں غیر معمولی طمانیت اور خوشی کو محسوس کیا۔ ان کے متبسم چہرے ان کے اندرونی سکون کے عکاس تھے اور وہ حلقہ ٔبگوش اسلام ہونے پر بہت مسرور تھے۔

4 فروری کا دن بھی اپنے جلو میں ایک چونکا دینے والی خبر کو لے کر آیا۔ ہالینڈ کی وہ سرزمین تھی کہ جس میں رہنے والے گستاخ اور متعصب سیاسی رہنما گیئرٹ ویلڈرز نے ایک عرصے سے مسلمانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اسی دیس سے یہ خبر موصول ہوئی کہ گیئرٹ ویلڈر زکے سابقہ ساتھی نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ خبر کی تفصیل کچھ یوں ہے:”ہالینڈ کے اسلام مخالف اور بہت متنازعہ سیاستدان گیئرٹ ولڈرز کے دیرینہ ساتھی اور سابق دست راست جورم وان کلیویرین نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان کے اس انکشاف پر ہالینڈ میں بہت سے حلقے انتہائی حیران ہیں۔ہالینڈ میں دی ہیگ سے منگل پانچ فروری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مراسلوں کے مطابق‘ ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ڈچ پارلیمان کے انتہائی دائیں بازو کے ایک سابق رکن جورم وان کلیویرین نے اسلام قبول کرنے کا انکشاف کیا ہے۔وان کلیویرین‘ گیئرٹ ولڈرز کی سیاسی جماعت فریڈم پارٹی (PVV) کی طرف سے ڈچ پارلیمان کے ایوان زیریں کے سات سال تک رکن رہے تھے اور اس دوران انہوں نے سیاسی سطح پر ایک مذہب کے طور پر اسلام پر سخت تنقید کرتے ہوئے ‘اس کی ہر ممکنہ حوالے سے مخالفت کی تھی

۔اس عرصے کے دوران اپنے بہت سخت گیر موقف کے حق میں دلائل دیتے ہوئے وان کلیویرن نے بیسیوں مرتبہ یہ مطالبے بھی کیے تھے کہ ہالینڈ میں برقعے اور مساجد کے میناروں پر پابندی ہونی چاہیے۔ڈچ روزنامے ‘الگیمین ڈاگ بلاڈ‘ (AD) کے مطابق ‘یہ وہ دور تھا‘ جب گیئرٹ ولڈرز کے ساتھ مل کر جورم وان کلیویرین نے یہاں تک بھی کہہ دیا تھا: ہم (اپنے ملک میں) کوئی اسلام نہیں چاہتے۔ اور اگر لازمی ہو تو کم سے کم ممکنہ حد تک۔ لیکن اب 40 سالہ جورم وان کلیویرین نے کہا ہے کہ وہ ایک اسلام مخالف کتاب لکھ رہے تھے کہ اس عمل کے تقریباً وسط میں ان کا ذہن ہی بدل گیا‘ پھر جو کچھ انہوں نے لکھا‘ وہ ان اعتراضات کی تردید اور جوابات تھے‘ جو غیر مسلم اسلام پر ایک مذہب کے طور پر کرتے ہیں۔وان کلیویرن نے ڈچ اخبار این آر سی کو بتایا :تب تک جو کچھ بھی میں نے لکھا تھا‘ اگر وہ سچ ہے‘ تو میری اپنی رائے میں‘ میں مسلمان ہو چکا ہوں۔ جورم وان کلیویرن نے اس اخبار کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے گزشتہ برس 26 اکتوبر کو باقاعدہ طور پر اسلام قبول کر لیا تھا۔ہالینڈ کے روزنامہ این آر سی نے اس بارے میں وان کلیویرن کے ایک انٹرویو کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ جلد ہی اس ڈچ سیاستدان کی لکھی ایک کتاب بھی منظر عام پر آ رہی ہے‘ جس کا عنوان ہے ”مرتد: لادین دہشت گردی کے زمانے میں مسیحیت سے اسلام تک۔‘‘ڈچ میڈیا کے مطابق ‘وان کلیویرن کے اس انکشاف نے ہالینڈ میں بہت سے حلقوں کو بالکل حیران کر دیا ہے۔ ایک اخبار نے لکھا ہے ”ان کی طرف سے تبدیلی مذہب کے انکشاف سے ان کے دشمن اور دوست دونوں ہی ششدر رہ گئے۔‘‘ سیاسی طور پر وان کلیویرن نے 2014ء میں متنازعہ ڈچ سیاستدان گیئرٹ ولڈرز سے دوری اور اس کی پارٹی سے علیحدگی اختیا رکر لی تھی۔‘‘

اس خبر نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ اسلام ہی اللہ تبارک وتعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ اس دین کے بارے میں بہت سے منفی پراپیگنڈے کیے جاتے ہیں اور جہاد کو دہشت گردی ‘ پردے کو عورت کے استحصال اور مسلمانوں کے پیغام امن آشتی کو نظر انداز کر کے ان کو متعصب قرار دیا جاتا ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ مسلمانوں کے عمومی رویوں میں دین سے جو دوری پائی جاتی ہے ‘اس کی وجہ سے بہت سے مغربی لوگ اسلام سے متاثر نہیں ہو پاتے۔ یورپ کے سماجی ڈھانچے میں وہاں کا مسلمان کچھ اس انداز میں جذب ہو جاتا ہے کہ کئی مرتبہ وہ اپنے دین اور قومی شناخت کو یکسر فراموش کر کے دنیا کی رنگینیوں میں کھو جاتا ہے‘ جس کی وجہ سے وہ بہتر کردار کا مظاہرہ نہیں کر پاتا۔ یورپ کے لوگ بالعموم مسلمانوں کے عمومی کردار کودین اسلام سے جوڑ دیتے ہیں‘لیکن جب بھی کبھی ان کی زندگی میں کوئی حادثہ یا بڑا نفسیاتی مسئلہ لاحق ہوتا ہے تو وہ مذہب کے دامن میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران کئی مرتبہ اُن کو کتاب وسنت کے متون کو براہ راست پڑھنے کا موقع ملتا ہے اور اُن کو اُن سوالات اور اشکالات کے جواب ملنا شروع ہو جاتا ہے‘ جو اللہ کی ذات اور مذہب کے حوالے سے ان کے ذہن میں موجودہوتے ہیں۔ جورم وان کلیویرین کے طرز عمل سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اسلام مخالف ہونے کے باوجود قلبی اور دماغی سطح پر دورنگی کا شکار نہ تھا اور صدق دل سے اسلام کو انسانیت کے لیے پیغام فلاح نہ سمجھنے کی وجہ سے اسلام دشمنی پر آمادہ وتیار ہو چکے تھے‘

لیکن جب انہوںنے کتاب وسنت کے متون کو پڑھا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ان کے ذہن میں جو اشکالات تھے‘ درحقیقت وہ پراپیگنڈہ اور منفی ماحول کی پیداوار تھے اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا۔اس حقیقت کے واضح ہو جانے کے بعد انہوں نے کتاب وسنت کے پیغام نجات کو ٹھنڈے دل سے پڑھا اور اس وقت وہ حلقہ ٔبگوش اسلام ہو کر اہل مغرب کے لیے ایک مثال بن چکے ہیں۔ اس میں عام مسلمانوں کے لیے بھی عبرت کا ایک سامان ہے کہ ہمیں بھی اپنے طرز عمل کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے اور اپنے اقوال وافعال کو کتاب وسنت سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے‘ تاکہ وہ لوگ جو کتاب وسنت کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام کے دائرے میں آتے ہیں‘ ان کے سامنے مسلمانوں کی عملی مثال بھی موجود ہو اور ہم ان کو مایوس کرنے کی بجائے ان کے لیے ایک نمونہ بن سکیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دین حق کے دامن میں آنے والے تمام لوگوں کی مدد فرمائے اور ہم سب کو دین حنیف پر صدق دل سے چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)