بلاگ معلومات

معاف کر دینے کا رویہ اپنائیں، اور صحت پائیں

اسلام کہتا ہے کہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں سے زیادہ دیر تک ناراض نہ رہو اور کوشش کرو کہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے قصور معاف کر دو، اُن کے لیے دل میں بغض نہ رکھو، اُن کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آؤ، اگر کوئی غلط کر رہا ہے تو اُس کو سمجھاؤ نا کہ اُس سے بدلہ لو اور اُسے جگہ جگہ ذلیل کرو۔ وہ کیسا مومن/مسلمان ہے جس کے ہاتھ و زبان سے دوسرا مومن و مسلمان محفوظ نہ رہے۔ اسلام میں کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق کرے دونوں آپس میں ملیں تو یہ اس سے منہ موڑے اور وہ اس سے منہ موڑے۔ اسلام کی حقانیت کو سائنس بھی تسلیم کرتی ہے اور بہت سے اسلامی احکام کا سائنسی تجزیہ کیا جا چکا ہے اور اسلام احکامات کی حکمتیں ہم پر اجاگر ہوئیں۔ اللہ کا کوئی بھی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا، اسلامی احکام، فرائض، سنتیں ان سب میں کوئی نا کوئی حکمت ہوتی ہے اور سائنس ان احکامات اور سنتوں میں پوشیدہ فوائد وقتاً فوقتاً ہمارے سامنے لاتی رہتی ہے۔

انٹرنیشنل فارگیونیس انسٹیٹیوٹ(International Forgiveness Institute) کے بانی اور دی فارگیونگ لائف (The Forgiving Life) کے مصنف ڈاکٹر رابرٹ انرائٹ (Dr Robert Enright) کا کہنا ہے کہ ”جب انسان معاف کرتا ہے تو یہ عمل اس کے جسمانی عوامل(فزیالوجی) میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے“۔ ان کا کہنا ہے کہ معاف کر دینے سے انتہائی غصے سے نجات ملتی ہے جو صحت کیلئے بہت نقصان دہ ہوتا ہے اور سم قاتل ہوتا ہے۔ 2009ء میں سائیکولوجی اینڈ ہیلتھ نامی جرنل میں ایک مطالعہ شائع ہوا۔ اس مطالعے میں ڈاکٹر رابرٹ انرائٹ اور ان کی ٹیم نے دل کے مریضوں پر معاف کر دینے کے اثرات کا جائزہ لیا۔ اس مطالعے سے پتا چلا کہ جن مریضوں نے معاف کر دینے کی عادت کو اپنایا ان کے جسم میں خون کی گردش میں بہت بہتری آئی، اور اس کے اثرات چار مہینوں سے بھی زیادہ عرصہ تک رہے۔

ایک اور مطالعے میں ہوپ یونیورسٹی (Hope University) کی نفسیات کی پروفیسر شیرولٹ وین اوین (Charlotte vanOyen Witvliet) نے مختلف لوگوں میں معاف کر دینے کے جذباتی اور نفسیاتی اثرات کا بغور مشاہد کیا۔ جب مطالعے میں حصہ لینے والے لوگوں سے کہا گیا کہ وہ کسی ایسیشخص کے بارے میں سوچیں جس نے انہیں ماضی میں تکلیف دی تھی تو ایسے کرنے پر ان لوگوں کا فشارِ خون اور دل کے دھڑکنے کی رفتار میں اضافہ ہو گیا، اور پسینے کے اخراج میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم، جب ان لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ہمدردی کا رویہ اختیار کریں اور تصور کریں کہ انہوں نے اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے کو معاف کر دیا ہے تو صرف ایسا تصور کرنے سے ہی ان لوگوں کے جذباتی نفسیاتی تناو میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ پروفیسر شیرولٹ کے مطالعے کے نتائج دوسرے مطالعوں کے نتائج سے ملتے جلتے ہیں جن میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیاتھا کہ بغض اور عناد رکھنے سے انسان کی صحت تباہ ہوتی ہے جب کہ معاف کر دینے سے انسانی کی جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی صحت میں بہتری آتی ہے۔

2011ء میں ڈِیوک یونیورسٹی میڈیکل سینٹر (Duke University Medical Center)نارتھ کیرولینا، امریکہ میں ایک تحقیق کی گئی اور اسے یو ایس سوسائٹی آف بی ہیورل میڈیسن (US Society of Behavioral Medicine)میں پیش کیا گیا۔ اس تحقیقی مطالعے سے یہ بات سامنے آئی کہ معاف کردینے سے بے خوابی کی شدت میں کمی آتی ہے، ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کے امنیاتی نظام کو تقویت ملتی ہے اور مختلف اقسام کے جذباتی اور نفسیاتی تناو میں کمی آتی ہے۔ اوپر بیان کی گئی سائنسی تحقیقات یہ ثابت کرتی ہیں کہ اسلام میں معاف کردینے کا عمل اتنا پسندیدہ کیوں ہے اور کیوں اسلام ہمیں معاف کر دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ کیوں اسلام ہمیں دوسروں کے قصور معاف کر دینے کا کہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران، آیت 134میں اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”جو لوگ آسانی میں، سختی کے موقع پر بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے“۔ صحیح مسلم، جلد سوئم، حدیث نمبر: 2091 میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے معاف کر دینے سے اُس کی عزت بڑھا دیتا ہے، اور جو بندہ بھی اللہ کیلئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے۔

ہم انسان ہیں اور انسان غلطیوں کا پُتلا ہے کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں غلطی ضرور کر بیٹھتا ہے۔ ہم فرشتے نہیں جو ہر گناہ سے پاک ہیں۔ ایک انسان غلطی کرتا ہے تو وہی غلطی سے دوسرے سے بھی ہو سکتی ہے۔ دوسروں کی اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی بھی اصلاح کرنی ہو گی۔ ہمیشہ ایک انسان غلطی کرتا رہے اور دوسرا نہ کرے ایسا نہیں ہوتا۔اسلام ہمیشہ ہمیں پیار سے بات کرنے اور آپس میں ایک رہنے کا درس دیتا ہے نا کہ مختلف حصوں میں بٹ کر رہنے کا۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کافروں کو طائف پر اسلام کی دعوت دنی چاہیے تو کافروں نے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پتھر مار کر لہولہان کر دیا تھا اور اُن کے مبارک جوتے خون سے بھر گئے تھے اُس اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوا تھاکہ اے نبی اگر آپ کہیں تو ان کی بستی کو اُلٹا دیں یا ان کو دو پہاڑوں کے درمیان دے ماریں تو تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے اور جذبات کا اظہار نہ کیا تھا بلکہ اُن کافروں کے لیے ہدایت کی دُعا کی ہے۔ کیا شان ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ کافروں کے ظلم کو جواب اللہ تعالی سے اُن کی ہدایت کی صورت میں مانگا اور ایک ہم ہیں جو کافر تو دور مسلمان بہن بھائیوں کی ایک چھوٹی سی بات پر آگ بگولا ہو کر لعن طعن، گالم گلوچ، خون خرابے، اور طنز و تنقید پر اتر آتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں کہ اپنے دین کو سمجھتے اور مانتے ہیں اگر ایسا ہے تو ہمارے اندر برادشت کا مادہ کیوں نہیں ہے؟ کوئی غلط بات سننے پر ہم کم عقلی کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں؟ بات کو سلجھانے کی بجائے اُسے بگاڑنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں؟ اگر ہم سچے ہیں تو اُسے قرآن و حدیث سے ثابت کرو اگر نہیں کرسکتے تو خاموش رہو ناکہ دوسرے کو جگہ جگہ ذلیل کریں، اُس کا مذاق بنائیں اور اُسے اپنے دور کر دیں۔ ایک مومن مسلمان کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتی کہ وہ اپنے مسلمان بہن بھائی کو ذلیل کرے، اُس پر طنزیہ جملے کسے، اور معاف کرنے کی بجائے بدلے کی آگے دل میں رکھے اور وقت آنے پر اُس آگ کو منہ سے اُگلے۔ دوسروں کو اسلام کی تلیقین کرنے سے پہلے ہمیں خود اپنے اسلام کو سمجھنا اور اُس پر عمل کرنا ہو گا۔ کسی کی بات/کام میں کیڑے نکالنا بہت ہی آسان کام ہے یا کسی کو غلط ثابت کرنا بہت آسان کام لگتا ہے لیکن اپنی ہی غلطی کو ماننا شاید خود انسان کے لیے بہت دُشوار ہو جاتا ہے۔ دوسروں کی غلطی سُدھارنے کے لیے ہمیں اپنی غلطیوں کی طرف بھی نظر دوڑانی چاہیے۔