ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

لڑکیاں کبھی مطمئن نہیں ہوتیں

پیپر والے دن بھی موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھ کر کتاب میں جھانک رہی ہوتی ہیں۔ کہ کوئی سوال رہ تو نہیں گیا۔ کمرہ جماعت میں آدھا گھنٹا پہلے پہنچتی ہیں اور یوں منہ ہی منہ میں بیٹھ کر سوالات دوہراتی رہتی ہیں گویا کوئی جن قابو کرنے کیلئے چلہ کاٹ کر رہی ہوں۔
شکی مزاج اس قدر کہ دس بارہ بال پن ساتھ لیکر جاتی ہیں اور باری باری سب بال پنز کو چیک کرتی ہیں کہ چل رہے ہیں یا نہیں اور جیسے ہی امتحانی پرچہ ان کے ہاتھ آتا ہے تو گردن ایسے جھکا کر بیٹھتی ہیں گویا گردن میں اتفاق اسٹیل کا سریا ڈل گیا ہو۔  فضول خرچ انتہا قسم کی کہ ایک سوال پر تین تین شیٹس لگا دیتی ہیں۔ ممتحن بھی جلدی کرکے زیادہ ذہین لڑکی کے قریب نہیں آتا کہ کہیں ایکسٹرا شیٹ ہی نا مانگ لے۔

اگر کوئی دوسری لڑکی غلطی سے ان سے پوچھ لے کہ فلاں سوال کا جواب بتانا تو کہہ دیں گی کہ بہن میں نے بھی نہیں کیا جبکہ محترمہ کو وہی سوال سب سے زیادہ یاد ہوتا ہے اور امتحانات میں %95.6 نمبر لینے کے بعد بھی ناشکریوں کی طرح روتی ہیں کہ میرے %99.9 نمبر کیوں نہیں آئے؟؟؟ اور تین دن تک کھانا نہیں کھاتیں۔۔۔

اور ایک ہمارے لڑکے ہیں ماشاء اللہ ۔ چشم بددور، شاکر قلب، قناعت پسندی کی اعلیٰ مثالیں۔ امتحانات سے قبل آخری رات بھی دوستوں کے ساتھ بیٹھے فلمیں دیکھ کر دوستی کا حق ادا کر رہے ہوتے ہیں اور صبح صبح اہم اہم سوالات پر نظر دوڑا کر پیپر دینے نکل پڑتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اپنی ذہانت پر کامل یقین ہوتا ہے اور کمرہ امتحان میں پندرہ منٹ تو یہ سوچ کر لیٹ پہنچتے ہیں کہ کون فضول میں ممتحن صاحب کا لیکچر سنے۔ (فکری سوچ)

قناعت پسند اس قدر کہ گھر سے صرف ایک ہی بال پن لیکر جاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ پورے امتحانات میں یہی ختم ہوجائے تو بڑی بات ہے جبکہ امداد باہمی کے قائل اس قدر کہ گھر سے ہیڈنگز کیلئے مارکر اور سکیل ہرگز نہیں لیجاتے کہ کون اضافی بوجھ لادے پھرے۔ آزو بازو والے سے مانگ لیں گے۔ مدد اور ایثار کا جذبہ اس قدر کہ اگر کوئی پوچھ لے کہ بھائی اس سوال کا جواب بتانا تو انہیں جواب آتا ہو یا نا آتا ہو سامنے والے کی مدد ضرور کرتے ہیں اور اپنے پاس سے جواب گھڑ کے کہہ دیتے ہیں کہ بھائی مجھے تو یہ جواب لگتا ہے آگے تیری قسمت۔ اور کفایت شعاری میں لاجواب کہ ملی وسائل کا بے دریغ استعمال ترک کرتے ہوئے دوبارہ شیٹ نہیں مانگتے اور ایک ہی شیٹ پر پورا پرچہ حل کر آتے ہیں۔
ان کا بس چلے تو ساری امتحانات کے جوابات ایک ہی شیٹ پر درج کردیں۔ مطلب کے واہ بھئی واہ۔

اور شاکر قلب اس قدر کہ امتحانات میں %33 نمبر سے پاس ہوکر بھی پورے محلے میں مٹھائیاں تقسیم کرتے پھرتے ہیں۔ جبکہ خوشی کے مارے چھاتی چوڑی ہوجانے کی وجہ سے پانچ دن تو ان کو اپنے کپڑے تنگ آتے ہیں۔ ویری گڈ لڑکو۔۔ شاباش

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...